Wed 23 Jm2 1435 - 23 April 2014
45617

كيا خود كشى كرنے والى كى نماز جنازہ جائز ہے ؟

مہربانى فرما كر مجھے معلومات فراہم كريں كہ: كيا خود كشى كرنے والے كى نماز جنازہ جائز ہے ؟

الحمد للہ:

كسى جان كو قتل كرنا كبيرہ گناہ ہے، اور ايسا كرنے والے كے متعلق بہت شديد قسم كى وعيد آئى ہے، ليكن وہ دائرہ اسلام سے خارج نہيں ہوتا، اور سنت نبويہ ميں خود كشى كرنے والے كى نماز جنازہ عام لوگوں كا ادا كرنا ثابت ہے، اور خاص لوگوں، مثلا اہل علم و فضل اورامير كے ليے مشروع يہى ہے كہ وہ اس كى نماز جنازہ نہ پڑھائے، تا كہ اس طرح كے لوگوں كو عبرت حاصل ہو، اور وہ ايسا كا كرنے سے باز آجائيں.

جابر بن سمرہ رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے پاس ايك شخص لايا گيا جس نے اپنے آپ كو تير سے ہلاك كر ليا تھا، تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے اس كى نماز جنازہ نہ پڑھائى.

صحيح مسلم حديث نمبر ( 978 ).

اور مشقص عريض تير جس كى ايك طرف تيز ہو اسے مشقص كہا جاتا ہے.

امام نووى رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

علماء كا كہنا ہے: يہ حديث خود كشى سے نفرت پر محمول ہے، جس طرح كہ مقروض شخص كى نماز جنازہ ادا نہ كرنا، اور نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے حكم سے صحابہ كرام نے مقروض كى نماز جنازہ ادا كى، اور يہ قرض سے نفرت دلانے كے ليے تھا، اس ليے نہيں كہ وہ كافر ہے.

اور امام مالك رحم اللہ تعالى كے ہاں حد كى بنا پر رجم كردہ اور فاسق شخص كى نماز جنازہ ادا كرنا مكروہ ہے، يہ اس ليے تاكہ انہيں عبرت حاصل ہو.

ديكھيں: شرح المسلم للنووى ( 7 / 47 ).

شيخ الاسلام ابن تيميۃ رحمہ اللہ تعالى سے مندرجہ ذيل سوال دريافت كيا گيا:

ايك شخص بزرگ اور پير ہونے كا دعوى كرتا تھا، اس نے ايك اژدہا ديكھا تو اس كے پاس آنے والے چند لوگ اس اژدہے كو مارنے كے ليے اٹھے تو پير صاحب نے انہيں منع كرديا اور اپنى كرامت دكھانے كے ليے اپنے ہاتھ ميں پكڑ ليا، تو اژدہے نے پير كو ڈسا اور پير صاحب مر گئے، تو كيا اس كى نماز جنازہ جائز ہے كہ نہيں؟

شيخ الاسلام رحمہ اللہ تعالى كا جواب تھا:

سب تعريفات اللہ تعالى كے ليے ہيں جو سب جہانوں كا پالنہار ہے، اہل علم و فضل اور دين والوں كو اس كا اور اس طرح كے لوگوں كا نماز جنازہ نہيں پڑھنا چاہيے، اگرچہ عام لوگ اس كى نماز جنازہ ادا كرليں.

كيونكہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے بھى خود كشى كرنے والے، اور مال غنيمت ميں خيانت كرنے والے كى نماز جنازہ خود ادا نہيں كہ بلكہ فرمايا تم اپنے ساتھى كى نماز جنازہ ادا كرلو، اور سمرۃ بن جندب سے لوگوں نے كہا كہ: تمہارا بيٹا رات كو نہيں سويا، تو وہ كہنے لگے: كس سبب كى بنا پر ؟ ( يعنى كيا وہ زيادہ كھانے كى بنا پر نہيں سويا ) تو انہوں نےجواب ديا: جى ہاں وہ كہنے لگے:

اگر وہ مر جاتا تو ميں اس كى نماز جنازہ نہ پڑھتا.

تو سمرۃ نے يہ بيان كيا كہ اگر وہ زيادہ كھانے كى وجہ سے مر جاتا تو اس كى نماز جنازہ نہ پڑھتے؛ كيونكہ اس نے زيادہ كھا كر خود كشى كى، لھذا يہ شخص جس نے اژدہا كو مارنے سے روكا اور خود اپنے ہاتھ ميں پكڑ ليا حتى كہ اژدہے نے اسے قتل كر ديا، تو اہل علم و فضل اور دين ركھنے والوں كے ليے زيادہ بہتر اور اولى يہى ہے كہ وہ اس كى نماز جنازہ ادا نہ كريں؛ كيونكہ اس نے خود كشى كى ہے....

ديكھيں: الفتاوى الكبرى ( 3 / 20 - 21 ).

اور شيخ الاسلام رحمہ اللہ تعالى نے يہ بھى كہا:

اور جو كوئى ان ميں كسى ايك - يعنى مال غنيمت ميں خيانت كرنےوالے اور خود كشى كرنے والے، اور مقروض - كى نماز جنازہ ادا كرنے سے باز رہا تا كہ اس طرح كے لوگوں كو عبرت حاصل ہو اور وہ اپنے فعل سے باز آجائيں تو ان كى نماز جنازہ ادا نہ كرنا بہتر ہے، اگرچہ وہ ظاہرا نماز جنازہ ادا نہ كريں اور باطن ميں اس كے ليے دعا كرليں تا كہ دونوں مصلحتيں جمع كى جا سكيں: تو يہ دو مصلحتوں ميں سے كسى ايك كے نہ ہونے سے زيادہ بہتر اور اولى ہے.

ديكھيں: الاختيارات صفحہ نمبر ( 52 ).

اور شيخ عبد العزيز بن باز رحمہ اللہ تعالى سے مندرجہ ذيل سوال دريافت كيا گيا:

كيا خود كشى كرنے والے كى نماز جنازہ ادا كى جائيگى ؟

تو شيخ رحمہ اللہ تعالى كا جواب تھا:

سب گنہگاروں كى طرح اس كى بھى بعض عام مسلمان نماز جنازہ ادا كريں گے؛ كيونكہ اہل سنت والجماعت كے نزديك يہ ابھى تك اسلام كے حكم ميں ہے.

ديكھيں: مجموع فتاوى الشيخ بن باز ( 13 / 162 ).

اور شيخ ابن باز رحمہ اللہ تعالى سے يہ بھى دريافت كيا گيا كہ:

كيا خود كشى كرنے والے كو غسل ديا جائےگا اور اس كى نماز جنازہ ادا كى جائے گى ؟

تو شيخ رحمہ اللہ تعالى كا جواب تھا:

خود كشى كرنے والے كو غسل بھى ديا جائےگا، اور نماز جنازہ بھى ادا كى جائيگى اور اسے مسلمانوں كےقبرستان ميں دفنايا جائےگا، كيونكہ وہ گنہگار اور مرتكب معاصى ہے، كافر نہيں، اس ليے كہ خود كشى كرنا معصيت و گناہ ہے كفر نہيں.

اور جب كوئى شخص خود كشى كر لے ( اللہ اس سے محفوظ ركھے ) تو اسے غسل بھى ديا جائےگا، اور اسے كفن بھى پہنايا جائےگا، اور اس كى نماز جنازہ بھى ادا كى جائيگى، ليكن بڑے امام اور اہم لوگوں كو اسكى نماز جنازہ نہيں ادا كرنى چاہيے تا كہ اس برائى كا انكار كيا جائے اور اسے روكا جا سكے، تا كہ يہ گمان نہ ہو سكے يہ اس كے عمل اور فعل پر راضى تھے، بڑا امام، يا حكمران، يا قاضى حضرات يا علاقے كا سردار يا امير جب اس چيز كو روكنا ترك كردے اور يہ اعلان كرے كہ يہ غلط اور خطا ہے تو يہ بہتر ہے، ليكن بعض مسلمان اسكى نماز جنازہ ادا كريں.

ديكھيں: مجموع فتاوى الشيخ ابن باز ( 13 / 122 ) اور فتاوى اسلاميۃ ( 2 / 62 ).

واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب
Create Comments