46050: آپریشن کیلئے بیہوش کرنے والی ادویات کے استعمال میں کوئی حرج نہیں ہے


کیا آپریشن کیلئے بیہوشی کی ادویات کا استعمال کرنا شراب نوشی کے زمرے میں آئےگا؟

الحمد للہ:

اول:

انسان کیلئے عقل پر پردہ ڈالنے والی چاہے شراب ہو یا کوئی اور چیز بغیر عذر کے کھانا حرام ہے۔

چنانچہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں:

"عقل پر پردہ ڈالنے والی ہر چیز حرام ہے،چاہے اسکی وجہ سے مستی نہ بھی چڑھے؛ کیونکہ عقل پر پردہ ڈالنا تمام مسلمانوں کے اجماع کی وجہ سےحرام ہے"انتہی

"مجموع الفتاوى" (34/211)

دوم:

شراب اسے کہتے ہیں کہ جسکی وجہ سے انسانی عقل لذت، اور موج مستی کی وجہ سے متاثر ہو ، اور یہی وہ نشہ آور چیز ہے جسکے استعمال پر حد لگائی جاتی ہے۔

جبکہ ایسی نشہ آور چیز جو لذت، اور موج مستی کا باعث نہ بنے اسے موجبِ حد نشہ نہیں کہا جائے گا۔

دیکھیں:"الشرح الممتع" (11/163)

جبکہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے متعدد مقامات پر صراحت کے ساتھ کہا ہے کہ "بنج"[آپریشن کیلئے استعمال کی جانے والی نشہ آور ادویات] موجب حد نشہ آور نہیں ہیں۔

مثال کے طور پر دیکھیں: "مجموع الفتاوى" (14/117) ، (33/104) ، (34/198)

سوم:

جمہور علمائے کرام جراحت اور سرجری کیلئے ضرورت پڑنے پر بیہوش کرنے کو جائز سمجھتے ہیں۔

دیکھیں: "الموسوعة الفقهية" (8/217)

اسی طرح کتاب: "أسنى المطالب" (4/160) میں ہے کہ:

"مریض کیلئے بیہوش کرنے والی ادویات استعمال کرنا درست ہے تا کہ گھاؤ والے عضو کو کاٹا جاسکے"انتہی

شیخ ابن عثیمین کہتے ہیں:

"جبکہ "بنج"کے استعمال میں کوئی حرج نہیں کیونکہ یہ موجب حد نشہ آور نہیں ہے، کیونکہ موجب حد نشہ آور وہ ہوتی ہے جس کے استعمال سے لذت اور مستی پیدا ہو، جبکہ جس شخص کو بیہوش کیا جاتا ہے وہ لذت لیتا ہے اور نہ ہی مستی میں آتا ہے، اسی لئے علمائے کرام کا کہنا ہے کہ یہ حلال ہے، اس میں کوئی حرج نہیں، یعنی جراحت اور سرجری وغیرہ کے وقت بیہوش کیا جاسکتا ہے"

"لقاءات الباب المفتوح" (3/231)

اور یہ شراب سے مختلف ہے جیسے کہ سوال نمبر (41760) کے جواب میں گزر چکا ہے کہ شراب نوشی کے ذریعے علاج کرنا درست نہیں ہے، جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (شراب دوا نہیں ہے؛ لیکن وہ بیماری ضرور ہے)مسلم

واللہ اعلم .

اسلام سوال وجواب
Create Comments