49821: شادى سے قبل ہى طلاق دينے كى صورت ميں عورت كے حقوق


ميں نے ابھى نيا نيا اسلام قبول كيا ہے اور جاننا چاہتى ہوں كہ اگر شادى كى تكميل سے قبل ہى خاوند طلاق دے دے تو بيوى كے حقوق كيا ہونگے جبكہ خاوند اسے مالى طور پر بھى تنگى ميں چھوڑ دے، كہ عورت كے پاس نہ تو مال ہو اور نہ ہى كوئى ملازمت كرتى ہے.
مجھے خاوند نے كہا كہ ميں ملازمت ترك كر دوں اور مجھ سے اس نے وعدہ كيا تھا كہ وہ ميرى مالى مدد كريگا اور اپنے ساتھ اپنے ملك بھى لے كر جائيگا، پھر تين ماہ بعد اچانك اس نے اى ميل كے ذريعہ طلاق بھيج دى!! اور دليل يہ دى كہ اس كو ويزہ نہيں ملا، اور مجھے بغير كسى مال كے ہى چھوڑ ديا اور نہ ہى كسى مسلمان خاندان كے پاس چھوڑا، اور كہنے لگا:
اللہ كى قسم اگر تمہيں مال كى ضرورت ہوئى تو ميں تمہيں مال بھيجوں گا، ليكن اس نے كچھ بھى نہيں بھيجا لہذا اس شخص پر ميرے كيا حقوق ہيں ؟

الحمد للہ:

ميں آپ كے سوال ميں اس مسلمان كا لہجہ پڑھ رہا ہوں ـ ميرا خيال ہے ـ جو اپنے دين حق پر بغير كسى طمع و لالچ كے ايمان لايا ہے اور اسے دين كے علاوہ كوئى غرض نہيں.

اور ميں آپ كے سوال ميں يہ بھى پڑھ رہا ہوں كہ ان شاء اللہ آپ كا نفس مطئمن ہے اور آپ دل اللہ پر ايمان ركھتا اور اس ميں عقيدہ راسخ ہے جس ميں كسى بد عمل كا عمل اور اپنے آپ كو مسلمان كہلانے والے اور اسلام كى طرف منسوب كى بد اخلاقى كوئى اثرانداز نہيں ہوتى.

جى ہاں بندے كو اس وقت بہت ہى برا محسوس ہوتا ہے جب ديكھتا ہے كہ كچھ مسلمان افراد نہ تو اسلامى اخلاق كا مظاہرہ كرتے ہيں اور نہ ہى دوسروں كے ساتھ لين دين اور معاملات كرنے اسلامى تعليمات كا خيال ركھتے ہيں، بات چيت ميں سچائى كى بجائے جھوٹ اور وعدہ پورا كرنے كى بجائے بےوفائى اور معاہدہ كى پاسدارى كى بجائے غدار كا ارتكاب كرتے ہيں حالانكہ وہ كتاب اللہ ميں اللہ سبحانہ و تعالى كا يہ فرمان بھى تلاوت كرتے ہيں:

﴿ اے ايمان والو اللہ كا تقوى اختيار كرتے ہوئے اللہ سے ڈر جاؤ اور سچائى اختيار كرنے والوں كے ساتھ ہو جاؤ ﴾التوبۃ ( 119 ).

اور ايك مقام پر ارشاد بارى تعالى ہے:

﴿ وہ لوگ جو اللہ كے ساتھ كيے ہوئے وعدہ كو پورا كرتے ہيں اور معاہدے كو نہيں توڑتے ﴾الرعد ( 20 ).

اور ايك مقام پر اللہ رب العزت كا فرمان ہے:

﴿ اور اپنے وعدہ كو پورا كرنے والے جب وہ وعدہ كريں ﴾ البقرۃ ( 177 ).

اور وہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا يہ فرمان بھى سنتے ہيں:

" منافق كى تين نشانياں ہيں: جب بات كرتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے، اور جب وعدہ كرتا ہے تو وعدہ خلافى كرتا ہے، اور جب اس كے پاس امانت ركھى جائے تو امانت ميں خيانت كرتا ہے "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 33 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 59 ).

بلاشك و شبہ آج مسلمانوں كے حالات ميں بہت زيادہ تبديلى آ چكى ہے وہ ايسے نہيں رہے جيسا كہ ان كو ہونا چاہيے تھا.

ليكن اس كے باوجود نااميدى نہيں ہونى چاہيے كيونكہ اس امت محمديہ ميں قيامت تك خير پائى جاتى ہے.

اور مومن شخص كو جو مصيبت و تكليف آتى ہے وہ اللہ كى جانب سے ايك آزمائش ہے.

اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

﴿ كيا لوگوں نے يہ گمان كر ركھا ہے كہ ان كے صرف اس دعوے پر كہ ہم ايمان لائے ہيں انہيں بغير آزمائے ہوئے چھوڑ ديا جائيگا ﴾العنكبوت ( 2 ).

اللہ سبحانہ و تعالى كا يہ بھى فرمان ہے:

﴿ بعض لوگ ايسے بھى ہيں كہ ايك كنارے پر ہو اللہ كى عبادت كرتےہيں، اگر كوئى نفع مل گيا تو دلچسپى لينے لگتے ہيں اور مطمئن ہو جاتے ہيں اور اگر كوئى آفت آ گئى تو اسى وقت منہ پھير ليتے ہيں، انہوں نے دنيا و آخرت كا نقصان اٹھا ليا واقعى يہ كھلا نقصان ہے ﴾الحج ( 11 ).

اس ليے آپ كو صبر و تحمل سے كام ليتے ہوئے اللہ كى رضا پر راضى ہونا چاہے اور اللہ كے ہاں اجروثواب كى اميد ركھنى چاہيے.

رہا آپ كے اس پر حقوق كا مسئلہ تو اس سلسلہ ميں گزارش ہے كہ:

طلاق كا ثبوت حاصل كرنا، كيونكہ اى ميل كے ذريعہ طلاق اس وقت شمار ہو گى جب خاوند طلاق دينے كا اقرار كرے.

مزيد آپ سوال نمبر ( 36761 ) كے جواب كا مطالعہ ضرور كريں.

پھر جب طلاق كا ثبوت مل جائے اور آپ كے درميان خلوت ہو چكى ہو تو آپ عدالت كے ذريعہ پورے مہركا مطالبہ كر سكتى ہيں، يا پھر اگر خلوت نہيں ہوئى تو آپ كو نصف مہر ملے گا.

شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" اگر كوئى شخص يہ كہے كہ اسے نصف مہر كس طرح مل سكتا ہے، حالانكہ آيت ميں تو جماع اور ہم بسترى پر حكم معلق كيا ہے ؟

بلاشك و شبہ جماع اور خلوت ميں فرق ظاہر اور واضح ہے چنانچہ جماع تو بيوى سے لذت كا حصول اور اس سے استمتاع ہے اور اسكى شرمگاہ كو حلال كرنا ہے، اس ليے وہ مہر كى مستحق ٹھريگى.

ليكن صرف خلوت كرنا جس ميں مكمل عوض كا حصول نہيں يہ كيسے مہر كو واجب كرتا ہے ؟!

جواب ميں ہم يہ كہينگے كہ:

اس مسئلہ ميں اكثر اہل علم اس رائے پر ہيں، اور اس پر صحابہ كرام كا اجماع بيان كيا گيا ہے كہ اگر عورت سے خلوت كرے تو اسے مكمل مہر ديا جائيگا، چنانچہ انہوں نے خلوت كو جماع كى طرح ہى قرار ديا ہے.

اور امام احمد رحمہ اللہ سے ايك روايت بيان كى جاتى ہے كہ جس كو قاعدہ ہونا چاہيے: وہ كہتے ہيں: اس ليےكہ خاوند نے اس سے وہ كچھ حلال كيا ہے جو اس كے علاوہ كسى دوسرے كے ليے حلال نہيں " اھـ

ديكھيں: الشرح الممتع ( 12 / 293 ).

رہا مسئلہ وعدہ خلافى كا اور آپ كو ملازمت چھڑوا كر آپ كو تنگ كرنے اور تكليف دينے كا اور پھر قسم اٹھا كر قسم كو توڑنے كا تو ان شاء اللہ آپ كو روز قيامت اس پر اجروثواب حاصل ہو گا اور نيكيوں ميں اضافہ كا باعث بنے گا.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments