49886: كيا مسجد كے ليے وقف شدہ كتابيں كسى ايك مسجد سے دوسرى مسجد منتقل كرنى جائز ہيں ؟


كيا ايك مسجد ميں موجود كتابيں كسى دوسرى مسجد منتقل كرنى جائز ہيں ؟
يہ كس طرح ہو سكتى ہيں، اور كسے حق حاصل ہے ؟ اور كيا اس كے ليے كچھ شرائط بھى ہيں ؟

الحمد للہ :

اول:

اصل تو يہى ہے كہ كسى معين اور خاص مسجد كے ليے وقف كردہ اشياء كسى اور طرف منتقل نہيں ہو سكتيں، كيونكہ مالك نے وہ اشياء اس معين مسجد كے ليے وقف كى ہيں، چنانچہ كسى اور مسجد منتقل كرنا جائز نہيں.

دوم:

بعض علماء كرام نے كسى اور مسجد كى طرف منتقل كرنا ايك شرط كے ساتھ اجازت دى ہے ـ اور صحيح بھى يہى ہے ـ اس مسجد ميں رہنے سے دوسرى مسجد منتقل كرنا لوگوں كے ليے زيادہ فائدہ مند ہو.

مثلا اگر دوسرى مسجد ميں ان كتابوں سے فائدہ اٹھانے والے لوگ پہلى مسجد سے زيادہ ہوں.

يا پھر وہاں طالب علموں اور داعى حضرات كا ايك گروپ ہو جو ان كتابوں سے مستفيد ہوں اور دوسروں كو فائدہ پہنچائيں.

شيخ الاسلام ابن تيميہ رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

" وقف كرنے والے كى شرط كو اس سے بہتر ميں بدلنا جائز ہے، چاہے يہ وقت مختلف ہونے سے مختلف بھى ہو جائے، حتى كہ اگر اس نے فقھاء پر وقف كى ہو... اور لوگ جھاد كے محتاج ہوں تو يہ فوجيوں كو دے دى جائيگى " انتہى

الاختيارات صفحہ نمبر ( 176 ).

اور شيخ ابن عثميين رحمہ اللہ تعالى وقف كرنے والے كى كچھ شروط كو اس سے بہتر شروط ميں بدلنے كے متعلق كہتے ہيں:

" اس مسئلہ ميں علماء كرام كا اختلاف ہے:

بعض علماء كہتے ہيں كہ: اگر وقف كرنے نے وقف ميں كچھ شروط ركھى ہوں، اور وقف كا نگران ديكھے كہ اس شرط كے علاوہ كوئى اور بندوں كے ليے زيادہ نفع مند ہے، اور اس ميں زيادہ اجروثواب ہے تو اسے دوسرى شرط ميں تبديل كرنے ميں كوئى حرج نہيں.

اور بعض علماء كرام نے ايسا كرنے سے منع كرتے ہوئے كہا ہے كہ:

اس شخص نے يہ وقف كردہ چيز اپنى ملكيت سے كسى خاص وجہ سے خارج كى ہے، چنانچہ اس كى ملكيت ميں اس كے بتائے ہوئے طريقہ كے علاوہ كسى اور طريقہ پر تصرف كرنا جائز نہيں.

ليكن اسے جائز قرار دينے والوں كا كہنا ہے:

اصل ميں وقف نيكى اور احسان كے ليے ہے، چنانچہ جو زيادہ نيكى اور زيادہ احسان كا باعث ہو وہ وقف كرنے والے كے ليے زيادہ فائدہ مند ہے.

انہوں نے دليل يہ دى ہے كہ: فتح مكہ كے سال رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے پاس ايك شخص آ كر كہنے لگا:

اے اللہ تعالى كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم ميں نے نذر مانى تھى كہ اگر اللہ تعالى نے آپ كو فتح مكہ سے نوازا تو ميں بيت المقدس ميں نماز ادا كرونگا، چنانچہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" يہاں نماز ادا كر لو "

اس شخص نے پھر وہى بات كى تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے اسے فرمايا:

" يہاں نماز ادا كر لو "

اس نے پھر وہى بات دھرائى تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" يہاں نماز ادا كر لو "

تو اس شخص نے پھر وہى بات دھرائى چنانچہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم فرمانے لگے: پھر تيرى مرضى "

وقف نذر كے مشابہ ہے، چنانچہ جب رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے نذر ماننے والے اس سے بہتر كى طرف منتقل ہونے كى اجازت دى ہے تو پھر وقف كرنے والا بھى اسى طرح ہے.

اور يہى قول صحيح ہے كہ جب كسى خاص اور معين پر وقف نہ ہو تو وقف كرنے والے كى شرط اس سے بہتر اور افضل شرط ميں بدلى جاسكتى ہے.

ليكن اگر وقف كسى خاص اور معين شخص كے ليے ہو تو پھر اسے كسى افضل جگہ ميں تبديل كرنا جائز نہيں، كيونكہ يہ معين وقف ہے چنانچہ يہ معين اور خاص شخص كے حق سے تعلق ركھتا ہے، اس ليے اسے تبديل يا تحويل كرنا ممكن نہيں " انتہى كچھ كمى و بيشى كے ساتھ.

ديكھيں: الشرح الممتع ( 9 / 560 - 561 ).

سوم:

اور رہا مسئلہ يہ اسے منتقل كرنے كا حقدار كون ہے ؟

تو يہ اس وقف كا نگران يعنى اس كا ذمہ دار جسے ان كتابوں كو وقف كرنے والے كى طرف سے متعين كيا گيا ہے وہى منتقل كرنے كا حق ركھتا ہے، اور اگر وہ نگران نہيں تو پھر ان كتب كا ذمہ دار محكمہ مثلا اسلامى ممالك ميں وزارت اوقاف كو حق حاصل ہے.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب
Create Comments