49899: فقراء پر زكاۃ تقسيم كرنے كے ليے زكاۃ حاصل كى تو كيا وہ خود بھى اس سے لے سكتا ہے ؟


سوال : ميرے ايك دوست نے مجھے مستحقين پر تقسيم كرنے كے ليے زكاۃ كى رقم دى ہے، ميں نے اس ميں سے كچھ تو تقسيم كر دى ہے، اور باقى رقم تقسيم كر رہا ہوں، ليكن ميں اس وقت خود بھى رقم كا محتاج ہوں، كيونكہ ميرى شادى ہونے والى ہے، اور اسى طرح ميرا مكان بھى تيار ہونے والا ہے جو ابھى بنا نہيں، اور اسى طرح ميں اس وقت مقروض بھى ہوں، تو كيا مجھے زكاۃ كا مال لينے كا حق حاصل ہے يا نہيں؟ يہ علم ميں رہے كہ ميں اس وقت اپنے دوست كو كہہ نہيں سكتا ؟

الحمد للہ:

آپ كو اس مال سے لينے كا كوئى حق حاصل نہيں، كيونكہ مالك نے آپ كو يہ مال تقسيم كرنے كے ليے ديا ہے، نا كہ خود ركھنے كے ليے، تو اس طرح آپ صاحب مال كے نمائندہ ہيں، اور آپ اس میں اتنا ہی کر سکتے ہیں جتنا مالک نے آپکو اختیار دیا ہے۔

شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ سے فتاوى أركان الإسلام (ص447)میں مندرجہ ذيل سوال كيا گيا:

ايك فقير شخص اپنے دوست سے يہ كہہ كر زكاۃ وصول كرتا ہے كہ وہ اسے تقسيم كرے گا، اور پھر وہ خود ركھ ليتا ہے، تو اس عمل كا حكم كيا ہے؟

شيخ رحمہ اللہ تعالى كا جواب تھا:

اس شخص كے ليے يہ حرام ہے، اور امانت کی خلاف ورزی ہے، كيونكہ اس كے دوست نے يہ رقم اسے بطور وكيل دى ہے كہ وہ كسى دوسرے كو دے، اور وہ خود اسے ركھ رہا ہے، اہل علم نے بيان كيا ہے كہ وكيل كے ليے جائز نہيں كہ اسے جس چيز كا وكيل بنايا گيا ہو اس ميں وہ اپنے ليے تصرف كرے۔

چنانچہ اس پر واجب ہے كہ وہ اپنے دوست كو سارى بات بتا دے كہ پہلے وہ جو كچھ تقسيم كرنے كے ليے ليتا رہا ہے وہ خود ركھ ليا كرتا تھا اگر تو وہ اسے اس كى اجازت دے ديتا ہے تو پھر ٹھيك، اور اگر اجازت نہيں ديتا تو وہ دیندار ہوگاـ يعنى اس نے اپنے دوست كى زكاۃ ادا كرنے ميں سے جو كچھ خود ركھا ہے وہ اس كى ادائيگى كا ضامن ہے۔

اور اس مناسبت سے ميں ايك مسئلہ كى طرف تنبيہ كرنا چاہتا ہوں جو بعض جاہل قسم كے لوگ كرتے ہيں وہ يہ ہے كہ:

وہ خود فقير اور محتاج ہوتا ہے تو زكاۃ ليتا ہے، پھر اللہ تعالى اسے مالدار اور غنى كر ديتا ہے، تو لوگ اسے اس بنا پر ديتے ہيں كہ وہ ابھى تك فقير اور محتاج ہے، تو وہ پھر لے ليتا ہے، اور كچھ لوگ ايسے بھى ہيں جو لوگوں سے لے كر كھا ليتے اور يہ كہتے ہيں: ميں نے لوگوں سے سوال تو نہيں كيا مانگا تو نہيں، يہ رزق تو اللہ تعالى نے ميرى طرف بھيجا ہے، حالانكہ يہ حرام ہے، كيونكہ جسے اللہ تعالى غنى اور مالدار بنا دے اس كے ليے زكاۃ ميں سے كوئى چيز لینی حرام ہو جاتى ہے۔

اور كچھ ايسے بھى ہيں جو زكاۃ لے كر پھر كسى اور كو دے ديتے ہيں، حالانكہ زكاۃ ادا كرنے والے نے اسے وكيل نہيں بنايا ہوتا، تو يہ بھى حرام ہے اور اس كے ليےایسے کرنا حلال نہیں، اگرچہ يہ پہلے سے ذرا كم درجے کا گناہ ہے، ليكن اس پر ايسا كرنا حرام تھا، اور اس پر زكاۃ والے كى زكاۃ كى ضمان ہے، يعنى اگر زكاۃ ادا كرنے والا اسے اس كى اجازت نہيں ديتا تو اس كا يہ تصرف جائز نہ ہو گا( بلكہ وہ اپنى طرف سے ادائيگى كرے گا)

اور دائمی فتوى كميٹى سے مندرجہ ذيل سوال كيا گيا:

كچھ لوگوں نے مجھے زكاۃ كا مال ديا كہ ميں اسے شرعى مصارف میں خرچ کروں، ميں نے زكاۃ كى رقم لے كر كچھ تو تقسيم كر دى، ليكن كچھ اپنے ليے ركھ لى؛ كيونكہ مجھے شادى اور گھر كى مرمت كے ليے رقم كى ضرورت تھى اس ليے كہ گھر شادى كے لائق نہ تھا، اور ميرى نيت تھى كہ ميں اس كى ادائيگى كردونگا، ليكن اب حالات اس كى ادائيگى كى اجازت نہيں ديتے، تو اس كا حل كيا ہو گا؟ كيا ميرا يہ مال لينا حلال ہے يا حرام ؟ اور كيا اس كى ادائيگى لازمى ہے؟

كميٹى كا جواب تھا:

وہ رقم جو زكاۃ كے مستحقين پر تقسيم كرنے كى غرض سے آپ كو دى گئى تھى آپ اس میں سے نہیں رکھ سکتے ، لہذا آپ پر رقم اصل مالکان کو ادا كرنا واجب ہے، يا پھر آپ اس رقم مستحقين كو ادا كرنے كے ساتھ ساتھ اپنے كيے پر توبہ و استغفار بھى كريں۔

ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 9 / 436 )

واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب
Create Comments