Thu 24 Jm2 1435 - 24 April 2014
5869

گمراہ فرقہ جو کہ لوگوں کے مال کوحلال سمجھتا اور اپنے علاوہ کسی اور کی طرف دیکھتا بھی نہی

انڈونیشیا میں ایک ایسا فرقہ ہے جن کے بہت ہی عجیب وغریب قوانین ہیں ( بہت ہی متشدد قوانین ) جوکہ انہیں اس بات کی اجازت دیتے ہیں کہ دوسرے لوگوں کی اشیاء ان کی اجازت کے بغیر استعمال کرلیں اس لۓ کہ وہ کہتے کہ یہ اشیاء اللہ تعالی کی ملکیت ہیں ، اور وہ اپنی جماعت کے علاوہ کسی اور کی طرف نہ تو دیکھتے اور نہ ہی اسے چھوتےہیں ۔
اور ان کے قوانین میں سے یہ بھی ہے کہ وہ مضامین طبعی جو کہ انہیں مدرس پڑھاتے ہیں ان پر ان کا ایمان نہیں ہے ، مثلا یہ کہ زمین میں قوت جازبیت ہے یہ مہم نہیں بلکہ اہم یہ ہے کہ ہم کس چیز کا جواب تلاش نہ کریں کیونکہ اللہ تعالی اسے جانتا ہے ۔
تو میرا سوال یہ ہے کہ کیا یہ جماعت اور فرقہ صحیح راہ پر ہے ؟
اس گروہ نے ہمارے درمیان بہت ہی زیادہ تشویش پیدا کر دی ہے تو آپ سے گزارش ہے کہ جواب سے نوازیں گے ۔ والسلام علیکم ۔

الحمد للہ
جو کچھ سوال میں بیان کیا گیا ہے اس کی وجہ سے یہ جماعت گمراہ ہے جس کے عقائد وافکاراور معاملات گمراہ کن ہیں ، تعجب تو اس بات پر ہے کہ آپ یہ کہتے ہیں کہ ان کے قوانین میں بہت ہی زیادہ تشدد پایا جاتا ہے لیکن اس کے باوجود وہ ایسی بری سستی اور کاہلی کا شکار ہیں کہ وہ لوگوں کی اشیاء ان کی اجازت کے بغیر استعمال کر کے حد سے بھی تجاوز کررہے ہیں جو کہ ظلم ہے ، اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے :

{ اوریہ راستہ ان لوگوں پر ہے جو خود دوسروں پر ظلم کريں ، اور زمین میں ناحق فساد کرتے پھریں ، یہی وہ لوگ ہیں جن کے لۓ دردناک عذاب ہے } الشوری ( 42 )

اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کا فرمان ہے :

( ہر مسلمان کا دوسرے مسلمان پر اس کا خون اور مال اور اس کی عزت حرام ہے ) صحیح مسلم ( 4650 )

اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :

( خبردار کسی شخص کے لۓ اس کے بھائ کے مال میں سے کچھ بھی اس کی اجازت کے بغیرحلال نہیں ) مسند احمد ( 20170 )

تومال کے خالق اور اس کے رب نے ہی یہ حرام کیا ہے کہ لوگوں کے اموال میں ان پر زیادتی کی جاۓ اللہ تعالی نے یہ مال انہیں دنیا میں دیا اور اس بات کی اجازت دی ہے کہ وہ اسے اپنی ملکیت میں لیں تو پھر اس جماعت کے لوگ اس غلط اورفاسد مبرر کے ساتھ باتیں بناتے ہوۓ اللہ تعالی کے احکام کی مخالفت کیوں کرتے ہیں ۔

پھر ان کا غلو اس بات سے بھی ظاہر ہوتاہے کہ یہ لوگ اپنی جماعت کے علاوہ کسی اور کو چھوتے تک نہیں اور نہ ہی ان سے کلام کرتے ہیں ، اور مجھے تو اس پر تعجب ہے کہ جب یہ لوگ کسی اور کی طرف دیکھنا بھی جائز نہیں سمجھتے تو لوگوں کے درمیان زندگی کیسے گذار رہے ہيں ؟ !!

پھریہ بھی ہے کہ انہوں نے آسمان وزمین میں غور وفکر اور ان میں اللہ تعالی مخلوق کی معرفت کویہ کہ کر معطل کر کے رکھ دیا ہے کہ ظاہری اور طبعی اشیا‏ء میں بحث کرنا اور ان کے متعلق سوالوں کے جوابات تلاش کرنا ممنوع ہیں ،حالانکہ اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے :

اس فرمان کا ترجمہ کچھ اس طرح ہے :

{ کہہ دیجۓ ! کہ زمین میں چل پھر کر دیکھو تو سہی کہ کس طرح اللہ تعالی نے پیدائش کی ابتدا کی ، پھر اللہ تعالی ہی دوسری نئ پیدائش کرےگا ، اللہ تعالی ہر چيز پر قادر ہے } العنکبوت ( 20 )

اور اللہ تبارک وتعالی کا فرمان ہے :

{ آپ کہہ دیجۓ کہ تم غور تو کرو کہ آسمان و زمین میں کیا کیا چیزیں ہیں } یونس ( 101 )

اور اللہ سبحانہ وتعالی کے فرمان کا ترجمہ ہے :

{ کیا یہ اونٹوں کو نہیں دیکھتے کہ وہ کس طرح پیدا کیۓ گۓ ہیں ، اور آسمان کو کس طرح اونچا کیا گيا ہے ، اور پہاڑوں کو کر طرف کہ وہ کس طرح گاڑ دیۓ گۓ ہیں ، اور زمین کی طرف کہ وہ کس طرح بچھا دی گئ ہے } الغاشیۃ ۔

اس کے علاوہ وہ نصوص جو کون میں غور وفکر کرنے اور اللہ تعالی نے جو کچھ پیدا فرمایا ہے اس کی معرفت پر دلالت کرتی ہیں ۔

تو اس طرح کے افکار و عقائد صرف ایسے معاشرے میں پنپ اور رواج پاسکتے ہیں جہاں جہالت کا دور دورہ ہو اور اس معاشرے کے لوگ کنند ذہن کے مالک اور بہت ہی زیادہ سادگی رکھتے اور دین اسلام کے قواعد اور واجبات سے واقف نہ ہوں ۔

اس لۓ واجب اور ضروری ہےکہ اس گمراہ فرقے کے لوگوں کو نصیحت کی جاۓ اور انہیں حق کی دعوت دی جاۓ تاکہ وہ حق کو پہچان کر اس کی طرف لوٹ آئيں ۔

اور اسی طرح دوسرے لوگوں کو اس فرقہ کے باطل افکار سے آگاہ کیا جاۓ اور انہیں اس میں وقوع سے بچانے کی کوشش کی جاۓ ، اللہ تعالی ہمیں اور آپ کوبھی بدعات وگمراہی اورکج روی سے محفوظ رکھے آمین ۔

اور اللہ تعالی ہی سیدھی راہ دکھانے والا ہے ۔

واللہ تعالی اعلم .

الشیخ محمد صالح المنجد
Create Comments