59933: وكيل كے ليے ييتموں كے مال كھانے كا حكم


ميں اپنے بھائى كے ورثاء كا وكيل ہوں، اور ان كے حقوق اور ضروريات كے متعلق محكمہ سے رابطہ كرتا رہتا ہوں، اور اسى طرح ہر ہفتہ انہيں ملنے بھى جاتا ہوں، تا كہ اس كى اولاد ميرى اولاد كے ساتھ خوش رہ سكے، سوال يہ ہے كہ انہيں حاصل ہونے والى رقم ( يعنى ان كى تنخواہ اور وظيفہ (15000) ہزار اور ان كے حقوق 400000 ہزار ) ہيں، ميرے ذمہ تعميراتى كام كى بنا پر قرض ہے جس كى مدت چار برس ہے، ان دونوں ميں سے افضل اور بہتر كيا ہے كہ آيا ميں اپنے اور اپنى اولاد پر تھوڑا دباؤ ڈال لوں يا كہ ان كے علم كے بغير پٹرول وغيرہ كے اخراجات لے ليا كرو ؟

الحمد للہ:

شريعت مطہرہ نے يتيم كا ناحق طريقہ سے مال كھانا سات مہلك اشياء ميں شمار كيا ہے، جيسا كہ امام بخارى اور امام مسلم رحمہما اللہ نے صحيح بخارى اور مسلم ميں نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے حديث نقل كي ہے، يہ ايك ايسى عظيم امانت ہے جس كى ادائيگى سے بہت سارے لوگ عاجز آ جاتے ہيں، اسى ليے نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے ابو ذر رضى اللہ تعالى عنہ كو كئى ايك نصيحت كرتے ہوئے فرمايا تھا:

" اور تم يتيم كے مال كى ذمہ دارى نہ لو "

صحيح مسلم حديث نمبر ( 1826 ).

اور شريعت اسلاميہ نے يتيم كى پروش كرنے والے اور اس كے ذمہ دار پر واجب كيا ہے كہ وہ ان كا اچھى طرح خيال ركھے، اور ان كى تربيت اچھے انداز سے كرے، اور اگر ان كا مال ہو تو اس مال كى بھى اچھے اور بہتر انداز سے كرو اور اسے بڑھاؤ، اور اس كى زكاۃ ادا كى جائے، اور اگر وہ مال دار ہے تو اس كے ليے يتيموں كے مال سے بچنا بہتر ہے، اور اگر فقير ہو تو وہ بہتر طريقہ سے استعمال كر سكتا ہے، اور اگر وہ ان كے مال ميں كام كرتا ہو تو وہ اس كى برابر اجرت لے سكتا ہے، يہ شرعى احكام ہيں، جن ميں انتہائى درجہ كى حكمت اور عدل و انصاف پايا جاتا ہے.

اللہ سبحانہ وتعالى كا فرمان ہے:

﴿ بے سمجھ اور بے عقل لوگوں كو اپنا وہ مال نہ دو جسے اللہ تعالى نے تمہارى گزران كا ذريعہ بنايا ہے، ہاں انہيں اس مال سے كھلاؤ پلاؤ، اور انہيں لباس پہناؤ، اڑھاؤ، اور انہيں معقوليت كے ساتھ نرم بات كہو، اور يتيموں كے بالغ ہونے تك انہيں سدھارتے اور آزماتے رہو پھر اگر ان ميں تم ہوشيارى اور حسن تدبير پاؤ تو ان كے مال انہيں سونپ دو، اور ان كے بڑے ہو جانے كے ڈر سے ان كے مال كو جلدى جلدى فضول خرچيوں ميں تباہ نہ كردو، مالداروں كو چاہيے كہ وہ ( ان كے مال سے ) بچتے رہيں، ہاں مسكين اور محتاج ہو تو دستور كے مطابق واجبى طور پر كھا لے، پھر جب انہيں ان كے مال دو تو اس پر گواہ بنا ليا كرو، در اصل حساب لينے والا اللہ تعالى ہى كافى ہے ﴾النساء ( 5 - 6 ).

حافظ ابن كثير رحمہ اللہ كہتے ہيں:

﴿ قولہ: اور تم ان كا مال جلدى جلدى فضول خرچيوں ميں تباہ نہ كر دو ﴾.

اللہ سبحانہ وتعالى بغير ضرورى حاجت كے يتيموں كا مال كھانے سے منع فرما رہے ہيں .

( جلدى جلدى فضول خرچي ميں ) يعنى ان كے بالغ ہونے سے قبل ہى

پھر اللہ سبحانہ وتعالى نے فرمايا:

﴿ اور جو كوئى مالدار ہے وہ ( ان كا مال كھانے سے ) بچے ﴾.

وہ اس مال سے بچے اور اس ميں سے كچھ بھى نہ كھائے، اور الشعبى رحمہ اللہ كہتے ہيں: وہ اس كے ليے مردار اور خون كى طرح ہى ہے.

﴿ اور جو كوئى فقير اور محتاج ہو تو وہ دستور كے مطابق كھا لے ﴾.

يہ يتيم كے ذمہ دار اور والى كے متعلق نازل ہوئى جو اس كى ضروريات اور مصلحت كا خيال ركھتا ہے، اگر وہ خود محتاج اور فقير ہے تو وہ اس سے كھا سكتا ہے.

عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا بيان كرتى ہيں كہ: يہ آيت يتيم كے والى اور ذمہ دار كے بارہ ميں نازل ہوئى:

﴿ اور جو كوئى مالدار ہے ( تو وہ يتيم كا مال كھانے سے ) وہ بچے، اور جو كوئى فقير اور محتاج ہے وہ اس سے دستور كے مطابق كھا لے ﴾.

يعنى جس قدر اس كا خيال ركھتا ہے.

فقھاء رحمہم اللہ كا كہنا ہے:

وہ دونوں معاملوں اس كى مثل اجرت، يا پھر بقدر ضرورت كھا سكتا ہے، اور اس ميں اختلاف ہے كہ: جب وہ ميسور الحال ہو جائے اور تنگ دستى ختم ہو جائے تو كيا اسے مال واپس كرنا ہو گا ؟

اس ميں دو قول ہيں: وہ واپس نہيں كريگا؛ كيونكہ اس كے اپنے كام كى مزدورى اور اجرت كھائى ہے، كيونكہ وہ فقير اور محتاج تھا، امام شافعى كے اصحاب كے ہاں يہى صحيح ہے؛ كيونكہ آيت ميں بغير كى بدل كے كھانا مباح كيا ہے...

دوسرا قول يہ ہے كہ: جى ہاں؛ واپس كرنا ہوگا؛ كيونكہ يتيم كا مال كھانے سے منع كيا گيا ہے، اور صرف ضرورت كى وجہ سے مباح ہوا ہى تو وہ اس كے بدلے ميں اسے واپس كرنا ہوگا، جس طرح مضطر اور مجبور شخص ضرورت كے وقت كسى دوسرے كا مال استعمال كرے تو وہ واپس كريگا...

﴿ اور جو كوئى مالدار ہو تو وہ بچھے ﴾.

يعنى يتيم كے وليوں ميں سے.

﴿ اور جو كوئى فقير اور محتاج ہو ﴾ يعنى انہيں ميں سے.

﴿ تو وہ دستور كے مطابق كھا لے ﴾.

يعنى اچھے طريقہ كے ساتھ، جيسا كہ دوسرى آيت ميں اللہ تعالى كا فرمان ہے:

﴿ اور تم يتيموں كے مال كے قريب بھى مت جاؤ مگر اچھے اور بہتر انداز سے حتى كہ وہ ( يتيم ) اپنى بلوغت كو پہنچ جائيں ﴾.

يعنى اس كے مال كے قريب نہ جاؤ مگر اس كى ضرورت حاجت كے وقت، اور اگر تم اس كے محتاج اور ضرورتند ہو تو پھر اچھے طريقہ كے ساتھ كھا لو "

ديكھيں: تفسيرابن كثير ( 1 / 454 - 455 ) مختصرا.

اور عبد اللہ بن عمرو رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ ايك شخص نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے پاس آ كر كہنے لگا: ميں فقير اور محتاج ہوں ميرے پاس كچھ نہيں، اور ميرے پاس ايك يتيم ہے، تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" بغير كسى زيادتى اور فضول خرچى كيے، يتيم كے مال سے كھا ليا كرو، نہ تو جلدى كرو، اور نہ ہى اس كے مال كو اپنے مال كے ساتھ ملانے كى كوشش كرو "

سنن ابو داود حديث نمبر ( 2872 ) سنن نسائى حديث نمبر ( 3668 ) سنن ابن ماجہ حديث نمبر ( 2718 ) علامہ البانى رحمہ اللہ نے صحيح الجامع حديث نمبر ( 4497 ) ميں اسے حسن قرار ديا ہے.

قولہ: " مباذر " فضول خرچى كرنے والا.

قولہ: " متاثل " اصل مال سے لينے والا.

اگر تو آپ اس كے مال سے كام اور عمل كے عوض ميں يتيم كا مال لينا چاہتے ہيں كہ آپ ان كى ضروريات كا خيال ركھتے ہيں، اور آپ كا يہ كام اجرت اور مزدورى كا مستحق ہو تو اس ميں كوئى حرج نہيں، ليكن اگر آپ صرف زيارت كرنے كى اجرت حاصل كرنا چاہتے ہيں تو پھر نہيں كيونكہ يہ عادت ميں شامل نہيں كہ يتيموں كى زيارت كى جائے اور انہيں ملنے جايا جائے تو اور اس پر خرچ ہونے والى رقم يتيموں كے مال سے لى جائے، يہ تو اس كے بھى خلاف ہے جو آپ ان كےلباس اور كھانے پينے اور دوسرا سامان خريد كر دينے ميں خرچ كرتے ہيں، كيونكہ يہ اشياء تو ان كے مال سے ہى ہونگى.

اور اس ليے كہ آپ ايسے ملك ميں بستے ہيں جہاں شرعى عدالت قائم ہے، اس ليے آپ اس سلسلے ميں شرعى عدالت سے رجوع كريں، تا كہ قاضى يتيموں كى مصلحت كو مد نظر ركھ كر جو فيصلہ كرسكے. واللہ اعلم.

ہم آپ سے گزارش كرتے ہيں كہ آپ درج ذيل فرمان نبوى صلى اللہ عليہ وسلم پر بہت زيادہ غور فكر اور تامل كريں، رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" اور جو كوئى پارسائى طلب كرے تو اللہ تعالى اسے پارسا بنا ديتا ہے، اور جو كوئى غنا اور تونگرى طلب كرے تو اللہ تعالى اسے غنى كر ديگا، اور جو كوئى صبر كرے اللہ تعالى اسے صبر كرنے كى طاقت ديتا ہے، اور صبر سے بہتر كوئى عطا اور خير نہيں ہے "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 1400 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 1053 ).

آپ كو جان لينا چاہيے كہ آپ كے قرض كى ادائيگى كا حل پارسائى اور پاكدامنى و عفت طلب كرنا، اور غنا و تونگرى اور صبر ہے.

ماركفورى رحمہ اللہ كا كہنا ہے:

" اور جو كوئى غنا طلب كرتا ہے " يعنى جو شخص لوگوں كا مال لينے سے مستغنى ہو كر غنا ظاہر كرتا ہے، اور سوال كرنے سے بچتا ہے حتى كہ جاہل اسے اس عفت كى بنا پر غنى گمان كرنے لگتا ہے.

" اللہ تعالى اسے غنى كر ديتا " يعنى اسے غنى بنا ديتا ہے يعنى اس دل كا غنى بنا ديتا ہے، حديث ميں بيان ہوا ہے كہ:

" كثرت سامان سے غنا حاصل نہيں ہوتى، بلكہ غنا تو دل اور نفس كى ہے "

يا اللہ تعالى اسے وہ كچھ دے ديتا ہے جو اسے مخلوق سے مستغنى كر ديتى ہے.

" اور جو كوئى پارسائى طلب كريگا " استعفاف اور پارسائى يہ ہے كہ: عفت و عصمت طلب كرنا، اور وہ حرام كام كے ارتكاب اور لوگوں كے سامنے دست سوال پھيلانے سے ركنا ہے، يعنى جو شخص عفت طلب كرتا ہے اور اس ميں تكلف كرتا ہے تو اللہ تعالى اسے يہ عطا فرما ديتا ہے.

" اللہ تعالى اسے عفت دے ديتا ہے " يعنى اللہ تعالى اسے عفيف بنا ديتا ہے، اور وہ ممنوعہ كام ميں پڑنے سے اس كى حفاظت فرماتا ہے، يعنى جو شخص تھوڑى اور ادنى سى چيز پر راضى ہو جاتا ہے اور لوگوں كے سامنے دست سوال پھيلانے سے باز رہتا ہے تو اللہ تعالى اس پر قناعت ميں آسانى پيدا فرما ديتا ہے، اور قناعت ايك ايسا خزانہ ہے جو كبھى ختم نہيں ہوتا.

" اور جو كوئى صبر طلب كرتا ہے " يعنى اللہ تعالى سے صبر كرنے كى توفيق طلب كرتا ہے، كيونكہ اللہ سبحانہ وتعالى كا فرمان ہے:

﴿ اور آپ صبر كريں، اور آپ كا صبر اللہ كے بغير نہيں ﴾.

يا پھر: وہ اپنے آپ كو صبر كا حكم ديتا اور مشكلات برداشت كرنے ميں تكلف كرتا ہے.

" اللہ تعالى اسے صبر ديتا ہے " يعنى اللہ تعالى اس كے ليے صبر كرنا آسان كر ديتا ہے.

ديكھيں: تحفۃ الاحوذى ( 6 / 143 - 144 ) مختصرا.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments