65803: كيا مشقت والے كام كى بنا پر روزہ ترك كرنا جائز ہے ؟


ہم ايك مغربى ملك ميں رہتے ہيں: يعنى وہاں روزہ اور روزہ داروں كے ليے كوئى اہتمام نہيں، ميرا خاوند ڈسپنيسر كورس كے فائنل ائير ميں ايك سال كا پريكٹيكل كر رہا ہے جو كہ فائنل ائير ميں تعليم كا حصہ ہے، يعنى ايك سال كا پريكٹيكل كرنا ہوتا ہے.
ليكن ايك مشكل درپيش ہے كہ ايك گھنٹہ گاڑى ڈرائيو كر كے ڈيوٹى پر جانا پڑتا ہے، وہاں مريضوں كى بھرمار ہے، جس كى بنا پر ميرے خاوند كو ڈيوٹى كے دوران سردرد اور چكراؤ سا آنے لگا ہے، اس كى وجہ سے مريضوں كو دوائى بھى غلط طريقہ سے دينى شروع كر ديں، اب وہ اس بنا پر روزہ نہ ركھنے كا سوچ رہا ہے، يہ علم ميں رہے كہ گھر سے ڈيوٹى والى جگہ كا فاصلہ اڑتاليس ميل سے كم ہے، جيسا كہ آپ نے ايك جواب ميں بيان كيا ہے.
ليكن وہاں جانے ميں ايك گھنٹہ اور آنے ميں ايك گھنٹہ صرف ہوتا ہے، اور مسلسل بارہ گھنٹے كى ڈيوٹى بھى ہے، چنانچہ كيا اس كے ليے روزہ نہ ركھنا جائز ہے، وہ فائنل ائير كے بعد ان روزوں كى قضاء كرے گا ؟

الحمد للہ:

روزہ اركان اسلام ميں سے ايك ركن ہے، اور كتاب و سنت اور اجماع امت سے ثابت ہے، كسى بھى مسلمان شخص كے ليے بغير كسى شرعى عذر مثلا بيمارى يا سفر وغيرہ كے روزہ نہ ركھنا جائز نہيں، بعض اوقات روزہ ركھ كر انسان كو مشقت بھى ہو سكتى ہے، اس ليے اسے صبر و تحمل سے كام لينا چاہيے، اور اس ميں اللہ تعالى سے مدد مانگے.

اس ليے اگر رمضان المبارك ميں گرمى كى شدت سے انسان كو پياس محسوس ہو تو وہ اپنے اوپر ٹھنڈا پانى بہا لے تو اس ميں كوئى حرج نہيں، تا كہ گرمى كى شدت كم ہو يا پھر كلى كرے.

اور اگر پياس اتنى شديد ہو جائے كہ اسے ہلاكت كا خدشہ ہو يا بے ہوشى كا تو اس كے ليے روزہ كھول دينا جائز ہے، ليكن بعد ميں اسےاس روزہ كى قضاء ميں روزہ ركھنا ہو گا.

ليكن يہ جائز نہيں كہ كام ہى مشقت كا باعث ہو، جبكہ اس كے ليے رمضان المبارك ميں ڈيوٹى سے چھٹياں لينا ممكن ہو، يا پھر كام ميں تخفيف كر سكتا ہو، يا اس سے كم مشقت والے ميں بدل سكتا ہو.

مستقل فتوى كميٹى كے علماء كرام كہتے ہيں:

" دين اسلام ميں يہ بات ضرور معلوم ہے كہ ہر مكلف شخص پر رمضان المبارك كا روزہ ركھنا فرض ہے، اور اركان اسلام ميں سے ايك ركن ہے، اس ليے ہر مكلف شخص كو رمضان المبارك كا روزہ ركھنے كى حرص ركھنى چاہيے تا كہ اللہ تعالى كے فرض كردہ فريضہ كى ادائيگى كر سكے، اور اللہ تعالى كے ثواب كى اميد ركھے، اور اس كى سزا كا خوف ہو، ليكن دنيا ميں اپنا حصہ نہ بھولے اور يہ دنيا اس كے دين اور آخرت پر اثر انداز نہ ہو.

اور جب اللہ تعالى كى فرض كردہ عبادات كى ادائيگى اور دنياوى كام كا آپس ميں تعارض ہو تو اسے ان دونوں كے مابين موافقت كرنے كى كوشش كرنى چاہيے، تا كہ وہ اپنى دنياوىامور اور عبادات صحيح اور احسن طريقہ سے بجا لائے.

سوال ميں مذكورہ مثال ميں يہ ہے كہ وہ رات كو اپنے دنياوى امور سرانجام دينے كے لے مقرر كرلے، ليكن اگر ايسا كرنا ممكن نہ ہو تو پھر اسے رمضان المبارك كا مہينہ ڈيوٹى سے چھٹى لے لينى چاہيے، چاہے بغير تنخواہ ہى ہو.

اور اگر ايسا نہ كر سكتا ہو تو پھر اسے كوئى اور كام تلاش كرنا چاہيے جس ميں دونوں واجبات كى ادائيگى ہو سكے، اور اس كے دنياوى معاملات اس كى آخرت كے معاملات پر اثرانداز نہ ہوں، چنانچہ كام كاج اور بھى بہت ہيں.

﴿ اور پھر جو شخص بھى اللہ تعالى كا تقوى اختيار كرتا ہے، اللہ تعالى اس كے نكلنے كى راہ بنا ديتا ہے، اور اسے روزى بھى وہاں سے ديتا ہے، جہاں سے اسے گمان بھى نہيں ہوتا، اور جو كوئى بھى اللہ تعالى پر توكل اور بھروسہ كرتا ہے وہ اللہ تعالى اس كو كافى ہے، يقينا اللہ تعالى اپنے كام كو پورا كرنے والا ہے، تحيقيق اللہ تعالى نے ہر چيز كے ليے ايك اندازہ مقرر كر ركھا ہے ﴾الطلاق ( 2 - 3 ).

اور فرض كريں كہ اسے مذكورہ كام جس ميں مشكلات اور حرج ہے كے علاوہ كوئى اور كام نہيں ملتا، اور اسے خدشہ ہو كہ وہ ظالم قانون كى زد ميں آ جائيگا، اور اس پر ايسى سزا يا كام مسلط كر ديا جائيگا جس كى بنا پر وہ اپنى دينى شعائر يا پھر بعض دينى فرائض پر عمل پيرا نہيں ہو سكےگا، تو اسے اپنا دين بچاتے ہوئے اس علاقے سے ايسے علاقے ميں نكل جانا چاہيے جہاں وہ آسانى اور سہولت كے ساتھ اپنے دين پر عمل پيرا ہو سكے، اور دنياوى كام بھى كر سكے، اور وہاں مسلمانوں كے ساتھ نيكى و بھلائى اور تقوى كے كاموں ميں معاونت كر سكے، اللہ تعالى كى زمين بہت وسيع ہے:

فرمان بارى تعالى ہے:

﴿ اور جو كوئى بھى اللہ كى راہ ميں ہجرت كرےگا وہ زمين ميں بہت جگہ اور فراوانى پائيگا ﴾النساء ( 100 ).

فرمان بارى تعالى ہے:

﴿ كہہ ديجئے اے ميرے مومن بندو اپنے رب كا تقى اختيار كرو، جو لوگ اس دنيا ميں اچھے عمل كيے ان كے ليے بھلائى ہے، اور اللہ تعالى كى زمين بہت وسيع ہے، صبر كرنے والوں كو بغير حساب كے بدلہ ديا جائيگا ﴾الزمر ( 10 ).

اور اگر اس ميں سے كچھ بھى ميسر نہ ہو اور سوال ميں مذكورہ مشقت والا كام كرنے پر مجبور ہو تو وہ روزہ ركھے، اور اگر اسے زيادہ مشقت ہو يعنى برداشت سے باہر ہو جائے تو وہ اتنا كھاپى لے جو اس كى مشقت ختم كر دے اور بعد ميں ان روزوں كى قضاء ان ايام ميں كرے جن ميں اس كے آسانى ہو " انتہى.

ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 10 / 234 - 236 ).

مستقل فتوى كميٹى سے درج ذيل سوال بھى دريافت كيا گيا:

ايك شخص بيكرى يا روٹى پلانٹ ميں كام كرتا اور كام كى بنا پر اسے شديد پياس اور نقاہت ہو تو كيا اس كے ليے روزہ نہ ركھنا جائز ہے ؟

كميٹى كے علماء كا جواب تھا:

" اس شخص كے ليے روزہ نہ ركھنا جائز نہيں، بلكہ روزہ ركھنا فرض ہے اور يہ كہ وہ دن كے وقت روٹياں پكاتا ہے روزہ ترك كرنے كے ليے عذر نہيں، اس كو چاہيے كہ وہ اپنى استطاعت اور طاقت كے مطابق كام كرے " انتہى.

ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 10 / 238 ).

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments