Thu 17 Jm2 1435 - 17 April 2014
66279

پہلى صف ميں جگہ روك كر ركھنا اور بہت دير تك وہاں سے دور رہنے كا حكم

كيا مسجد نبوى كى پہلى صف ميں اعتكاف بيٹھنا اور مسجد كے پچھلے حصہ ميں سونے كے ليے جاتے وقت اس جگہ كوئى چيز ركھنا جائز ہے تاكہ پہلى صف ميں جگہ محفوظ رہے؟
اور اگر نماز نہ ہو تو كيا پہلى صف ميں سونا جائز ہے ؟

الحمد للہ:

مسجد ميں موجود شخص كے ليے اپنى جگہ پر جائے نماز وغيرہ ركھنا اور مسجد كے پچھلے حصہ ميں جا كر سونا اور پھر واپس اپنى جگہ آنا جائز ہے، چاہے يہ پہلى صف ميں ہى كيوں نہ ہو جب نماز كھڑى نہ ہو جائے، اگر نماز كھڑى ہو گئى اور وہ وہاں نہيں پہنچا تو اس جگہ كوئى دوسرا شخص زيادہ مستحق ہے، اسے چاہيے كہ وہ جائے نماز اٹھا دے.

اور اسى طرح اگر وہ كسى عذر كى بنا پر مسجد سے نكلے مثلا وضوء وغيرہ كرنے كے ليے اور واپس اپنى جگہ آئے تو وہ اس كا زيادہ مستحق ہے، اور اگر عذر ختم ہونے كے بعد وہ اپنى جگہ واپس آنے ميں سستى اور تاخير سے كام لے تو اسے وہاں بيٹھنے كا كوئى حق نہيں.

اس مسئلہ كى دليل مسلم شريف كى مندرجہ ذيل حديث ہے:

ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" جو شخص اپنى جگہ سے اٹھے اور پھر وہ اسى جگہ واپس آئے تو وہ اس كا زيادہ حقدار ہے "

صحيح مسلم حديث نمبر ( 2179 ).

ابن قدامہ رحمہ اللہ تعالى " المغنى " ميں رقمطراز ہيں:

" جب وہ كسى جگہ بيٹھے اور پھر اسے كوئى ضرورت پيش آ جائے يا پھر وضوء كى ضرورت ہو تو وہ وہاں سے جا سكتا ہے....

اور وہاں سے جانے كے بعد اگر وہ اسى جگہ واپس آيا تو وہ اس جگہ كا زيادہ حقدار ہے، كيونكہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" جو شخص اپنى جگہ سے اٹھے اور پھر وہيں واپس آئے تو وہ اس جگہ كا زيادہ حقدار ہے " انتہى مختصرا

ديكھيں: المغنى لابن قدامہ ( 2 / 101 ).

اور صاحب " مطالب اولى النھى فى شرح غايۃ المنتھى " كہتے ہيں:

" اپنى جگہ سے اٹھ كر جانے والا جب جلد واپس آ جائے تو وہ اس جگہ كا زيادہ حقدار ہے، مثلا وہ وضوء وغيرہ كرنے گيا ہو تو وہاں آنے والوں سے وہ سب سے زيادہ حقدار ہے، اگر اس كى جگہ كوئى اور بيٹھ جائے تو وہ اسے اٹھانے كا حقدار ہے .....

اور " الوجيز " ميں اسے مقيد كيا گيا ہے كہ اگر وہ دوسرے كاموں ميں مشغول نہ ہو بلكہ واپس آ جائے " انتہى مختصرا

ديكھيں: مطالب اولى النھى فى شرح غايۃ المنتھى ( 1 / 786 ).

شيخ ابن عثيمين الشرح الممتع ميں مسجد ميں جگہ پر قبضہ كر كے وہاں سے نكلنے كى حرمت كا اقرار كرتے ہوئے كہتے ہيں:

" اس مسئلہ ميں صحيح يہى ہے كہ مسجد ميں جگہ سنبھالنى اور وہاں سے نكلنا جائز نہيں، انسان كو چاہيے وہاں بچھى ہوئى جائے نماز اٹھا دے؛ كيونكہ قاعدہ يہ ہے كہ: ( جو ناحق ركھا گيا ہو اسے اٹھا دينا حق ہے )

ليكن اگر اس كے اٹھانے سے فساد اور عداوت و بغض وغيرہ كا خدشہ ہو تو نہ اٹھايا جائے، كيونكہ مصلحت لانے سے فساد ختم كرنا بہتر ہے، اور جب اللہ تعالى كو آپ كى نيت سے يہ علم ہو كہ اگر يہ جائے نماز بچھى ہوئى نہ ہوتى تو آپ اس كى جگہ ہوتے، تو اللہ تعالى آپ كو آگے والوں كا ثواب عطا كرے گا؛ كيونكہ آپ نے يہ اگلى جگہ كسى عذر كى بنا پر ترك كى ہے.

ديكھيں: الشرح الممتع ( 5 / 135 ).

قولہ: " جب تك نماز كھڑى نہ ہو" يعنى اگر اقامت ہو جائے تو ہميں اس جائے نماز كو اٹھانے كا حق حاصل ہے؛ كيونكہ اس حالت ميں اس كے ليے كوئى حرمت نہيں، اور اس ليے بھى كہ اگر ہم اسے رہنے ديں تو صف ميں خالى جگہ رہے گى، جو كہ خلاف سنت ہے.

جائے نماز ركھنے كى حرمت كے راجح قول ميں سے يہ مستثنى ہے كہ؛ اگر انسان مسجد ميں ہو تو وہ پہلى صف ميں جائے نماز وغيرہ ركھ سكتا ہے تا كہ اس كى جگہ محفوظ رہے، پھر وہ مسجد كے كونے ميں سونے جاسكتا ہے، يا پھر قرآن مجيد كى تلاوت كے ليے، يا كوئى كتاب وغيرہ پڑھنے كے ليے تو يہاں اسے حق حاصل ہے؛ كيونكہ وہ مسجد ميں ہى ہے، ليكن جب صفيں بن جائيں تو وہ اپنى جگہ واپس پلٹ آئے؛ تا كہ لوگوں كو پھلانگنے سے اجتناب ہو.

اسى طرح اس سے وہ بھى مستثنى ہے جو مؤلف نے ذكر كيا ہے:

قولہ: " جو شخص كسى ضرورت پيش آنے كى بنا پر وہاں سے اٹھے اور پھر واپس آ جائے تو وہ اس كا زيادہ حقدار ہے "

چنانچہ جب كوئى شخص جگہ محفوظ كرے اور كوئى ضرورت پيش آنے كى بنا پر وہ مسجد سے نكل جائے تو واپس آنے پر وہ اس كا زيادہ حقدار ہے، اسے كوئى ضرورت پيش آ سكتى ہے، مثلا وضوء كرنا، يا پھر كوئى ايسى چيز جس كى بنا پر وہ نكلنے كے ليے مجبور ہو، لہذا جب وہ واپس آئے تو وہ زيادہ حقدار ہے.

ليكن مؤلف نے ايك شرط لگاتے ہوئے كہا ہے: " پھر وہ جلد واپس آ جائے" تو مؤلف كى كلام سے ظاہر يہ ہوتا ہے كہ اگر وہ كچھ ليٹ ہو ہو گيا تو اسے وہاں بيٹھنے كا كوئى حق نہيں، بلكہ كوئى دوسرا وہاں بيٹھ سكتا ہے.

اور بعض علماء كا كہنا ہے:

بلكہ وہ زيادہ حقدار ہے چاہے زيادہ دير كے بعد بھى واپس آئے، ليكن عذر موجود اور باقى ہو تو پھر، يہ قول زيادہ صحيح ہے؛ اس ليے كہ عذر كى موجودگى اس كى ابتدا جيسى ہى ہے، جب اس كے ليے مسجد سے نكلنا اور عذر پيدا ہونے كى شكل ميں جائے نماز كا وہاں رہنا جائز ہے تو اسى طرح جب عذر موجود ہو تو بھى، ليكن يہ معلوم ہونا چاہيے كہ اگر نماز كھڑى ہو جائے اور وہ واپس نہ پلٹے تو جائے نماز اٹھا ديا جائے گا.

" الروض " ميں ہے كہ: ( اكثر نے جلدى واپس پلٹنے كى قيد نہيں لگائى ) يعنى امام احمد رحمہ اللہ كے اكثر اصحاب نے جلد واپس آنے كى قيد نہيں لگائى جيسا كہ حديث كا ظاہر ہے.

ليكن ہم نے جو ذكر كيا ہے وہ درميانہ اور وسط قول ہے وہ يہ كہ: جب وہ عذر موجود ہونے كى صورت ميں دير سے واپس پلٹے تو وہ اس كا زيادہ حقدار ہے، ليكن اگر عذر ختم ہو چكا ہو ليكن اس نے آنے ميں سستى و كاہلى سے كام ليتے ہوئے دير كى تو اسے كوئى حق نہيں " انتھى مختصرا

ديكھيں: الشرح الممتع ( 5 / 135 ).

معتكف وغيرہ كے ليے نمازوں كے درميانى اوقات ميں پہلى صف كے اندر سونے ميں كوئى حرج نہيں، جب ايسا كرنے ميں كسى كو تنگى اور اذيت نہ ہوتى ہو، وگرنہ اسے چاہيے كہ پيچھے جا كر سوئے.

لوگوں كا خيال كرتے ہوئے اس كے ليے بہتر ہے كہ وہ پہلى صفوں ميں سونے سے اجتناب كرے، كيونكہ لوگ اس فعل كو قبيح اور غلط سمجھتے ہيں.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب
Create Comments