Mon 21 Jm2 1435 - 21 April 2014
67934

فرضى نماز كس وقت بيٹھ كر ادا كرنى جائز ہے ؟

كيا مكمل كھڑے ہونے سے عاجز، ہونے اور قيام كى قدرت نہ ركھنے كى صورت ميں بيٹھ كر نماز ادا كرنے كى اجازت ہے؟
كيا تھكاوٹ ہوجانے كے خدشہ كے پيش نظر بھى بيٹھ كر نماز ادا كرنے كى اجازت ہو گى ؟
بيٹھ كر نماز اداكرنے كى رخصت كى كونسى قيود و حدود ہيں، كہ بيٹھ كر نماز ادا كرنے سے گناہ يا سزا نہ ملتى ہو ؟

الحمد للہ:

اول:

فرضى نماز ميں قيام ركن ہے اس كے بغير كوئى چارہ نہيں، اس ليے كسى كے ليے بيٹھ كر نماز ادا كرنا جائز نہيں ہے، ليكن اگر كوئى شخص كھڑا ہونے سے عاجز اور معذور ہے تواس كے ليے بيٹھ كر نماز ادا كرنا جائز ہے، يا پھر اگر اس كے ليے قيام كرنے ميں شديد مشقت ہوتى ہو، يا كوئى ايسى بيمارى ہو كہ قيام سے اس ميں زيادتى كا خدشہ ہو تو بھى بيٹھ كر نماز ادا كرنا جائز ہے.

مندرجہ بالا سطور ميں ہم نے جو كچھ بيان كيا ہے اس ميں وہ معذور شخص شامل ہو گا: جو بالكل كھڑا ہونے كى استطاعت نہيں ركھتا، اور وہ بوڑھا جس كے ليے قيام ميں مشقت ہوتى ہو، اور وہ مريض جسے قيام تكليف دے، اور اس كى بيمارى اور زيادہ ہوتى ہو، يا پھر شفايابى ميں تاخير كا باعث بنے.

اس كى اصل اور دليل بخارى شريف كى درج ذيل حديث ہے:

عمران بن حصين رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں، مجھے بوايسر كا مرض تھا چنانچہ ميں نے رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے نماز كے متعلق دريافت كيا تو آپ نے فرمايا:

" كھڑے ہو كر نماز ادا كرو، اور اگر استطاعت نہيں تو بيٹھ كر، اور اگر استطاعت نہيں تو پھر پہلو كے بل "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 1050 ).

ابن قدامہ رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

قال: ( اور جب كھڑے ہو كر نماز ادا كرنے سے مريض كى مرض ميں اضافہ ہوتا ہو تو وہ بيٹھ كر نماز ادا كرے گا )

اہل علم اس پر متفق اور جمع ہيں كہ قيام كى استطاعت نہ ركھنے والا شخص بيٹھ كر نماز ادا كرے گا.

كيونكہ عمران بن حصين رضى اللہ تعالى عنہ كو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا تھا:

" نماز كھڑے ہو كر ادا كرو، اور اگر استطاعت نہيں تو بيٹھ كر، اور اگر استطاعت نہيں تو پہلو كے بل "

اسے بخارى، ابوداود نے روايت كيا ہے، اور نسائى كى روايت ميں يہ اضافہ ہے:

" اگر استطاعت نہيں تو پھر ليٹ كر، اللہ تعالى كسى بھى جان كو اس كى استطاعت سے زيادہ مكلف نہيں كرتا "

اور انس رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ:

" رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم گھوڑے سے گر كر زخمى ہو گئے، يا رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى دائيں طرف زخمى ہو گئى، چنانچہ ہم رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى عيادت كے ليے گئے، اور نماز كا وقت ہو گيا تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے بيٹھ كر نماز ادا كى اور ہم نے بھى آپ صلى اللہ عليہ وسلم كے پيچھے بيٹھ كر نماز ادا كى "

متفق عليہ.

اور اگر اس كے ليے قيام كرنا تو ممكن ہے، ليكن خدشہ ہے كہ كھڑا ہو كر نماز ادا كرنے سے اس كى مرض ميں اضافہ ہوگا، يا پھر اس كى شفايابى ميں تاخير كا باعث بنےگا، تو اس كے ليے بيٹھ كر نماز ادا كرنى جائز ہے، امام مالك اور اسحاق رحمہما اللہ نے بھى ايسے ہى كہا ہے.

اور ميمون بن مہران رحمہ اللہ كہتے ہيں:

اور اگر وہ اپنے دنياوى كاموں كے ليے كھڑا نہيں ہو سكتا تو بيٹھ كر نماز اد كرے، اور امام احمد رحمہ اللہ سے بھى ايسے ہى بيان كيا جاتا ہے.

يعنى جو شخص اپنے دنياوى امور كھڑے ہو كر سرانجام دے سكتا ہے تو اسے نماز بھى كھڑے ہو كر ادا كرنا لازم ہے، اور اس كے ليے بيٹھنا جائز نہيں.

پھر ابن قدامہ رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" ہمارى دليل يہ فرمان بارى تعالى ہے:

﴿ اور اللہ تعالى نے تم پر دين كے بارہ ميں كوئى تنگى نہيں ركھى ﴾.

اور اس حالت ميں كھڑے ہونا تنگى اور حرج ہے؛ اور اس ليے بھى كہ جب رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم گرے اور دائيں جانب زخمى ہو گئى تو آپ صلى اللہ عليہ نے بيٹھ كر نماز ادا كى.

ظاہر يہى ہوتا ہے رسول كريم صلى اللہ عليہ بالكل كھڑے ہونےسے عاجز نہ تھے، ليكن جب انہيں كھڑے ہونے ميں مشقت اور تكليف تھى تو قيام ساقط ہو گيا، تو اسى طرح باقى افراد سے بھى ساقط ہو جائيگا.

اور اگر كھڑے ہونے پر قادر ہو، مثلا لاٹھى پر سہارا لے كر، يا كسى ديوار كے ساتھ ٹيك لگا، يا پھر كسى ايك طرف سہارا لے كر كھڑا ہو سكتا ہو تو كھڑے ہونا لازم ہے؛ كيونكہ بغير كسى ضرر اور نقصان كے وہ كھڑا ہونے پر قادر ہے تو اسے كھڑا ہونا لازم ہو گا، جيسا اگر ان اشياء كے بغير كھڑا ہونے كى استطاعت ركھتا ہے " انتہى

ماخوذ از: مغنى ابن قدامہ ( 1 / 443 ).

اور امام نووى رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

" امت كا اجماع ہے كہ فرضى نماز ميں جو شخص كھڑا ہونے سے عاجز ہو وہ بيٹھ كر نماز ادا كرے تو اس پر نماز كا اعادہ نہيں ہو گا.

ہمارے اصحاب كا كہنا ہے كہ: اس كا ثواب كھڑے ہو كر نماز كرنے سے كم نہيں ہو گا، كيونكہ وہ معذور تھا، اور پھر صحيح بخارى ميں ثابت ہے كہ رسول كريم صلى اللہ نے فرمايا:

" جب بندہ بيمار ہو جاتا ہے يا پھر سفر ميں ہوتا ہے تو اس كے ليے وہى اعمال لكھے جاتے ہيں جو وہ صحيح اور تندرستى اور مقيم ہونے كى حالت ميں سرانجام ديا كرتا تھا "

ہمارے اصحاب كا كہنا ہے: عاجز ہونے ميں يہ شرط نہيں كہ وہ كھڑا ہو ہى نہ سكے، اور نہ ہى قليل سى مشقت معتبر ہو گى، بلكہ ظاہرى اور زيادہ مشقت كا اعتبار ہو گا، چنانچہ جب اسے شديد مشقت يا مرض كى زيادتى وغيرہ كا خدشہ ہو، يا پھر كشتى كے سوار كو غرق ہونے يا پھر سر چكرانے كا خدشہ ہو تو وہ بيٹھ كر نماز ادا كرے اور اسے نماز كا اعادہ نہيں كرنا ہو گا " انتہى

ماخوذ از: المجموع للنووى ( 4 / 201 ).

فرضى نماز ميں قيام ترك كرنے والى مشقت كا ضابطہ اور اصول بيان اور بيٹھنے كا طريقہ بيان كرتے ہوئے شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

" مشقت كا ضابطہ يہ ہے كہ:

جس سے خشوع زائل ہو جائے، اور خشوع اطمنان قلب اور دل كى حاضرى كا نام ہے، چنانچہ جب اسے عظيم قلق اور پريشانى لگى ہوئى ہو اور وہ اطمنان حاصل نہ كر سكے، اور آپ ديكھيں كہ شدت تحمل كى بنا پر اس كى تمنى يہ ہوتى ہے كہ كب سورۃ فاتحہ ختم ہو اور ركوع ميں جائے، تو اس پر قيام مشقت كا باعت بن رہا ہے، چنانچہ وہ بيٹھ كر نماز ادا كرے.

اور اسى طرح خوفزدہ شخص كھڑے ہو كر نمازا ادا نہيں كر سكتا، جس طرح كہ اگر كوئى شخص ديوار كے پيچھے نماز ادا كر رہا ہو اور اس كے ارد گرد اس كے دشمن گھات لگائے بيٹھے ہوں، اگر وہ كھڑے ہو كر نماز ادا كرتا ہے تو ان كے سامنے ظاہر ہو جائے، اور اگر بيٹھ كر ادا كرے تو ديوار كى بنا پر دشمن سے مخفى رہے گا، تو يہاں ہم يہ كہينگے كہ: بيٹھ كر نماز ادا كر لو.

اس كى دليل درج ذيل فرمان بارى تعالى ہے:

﴿ چنانچہ اگر تمہيں خوف ہو تو پھر پيادہ يا سوار ہو كر نماز ادا كرو ﴾ البقرۃ ( 239 ).

چنانچہ يہاں اللہ سبحانہ وتعالى نے خوفزدہ شخص سے ركوع اور سجود اور بيٹھنا ساقط كر ديا ہے، اور اسى طرح اگر وہ خائف ہے تو قيام بھى ساقط ہو گا.

ليكن سوال يہ ہے كہ اس كے بيٹھنے كى كيفيت كيا ہو گى ؟

اس كا جواب يہ ہے كہ:

وہ اپنے سرينوں كے بل چاہر زانو ہو كر بيٹھے گا، اپنى دونوں پنڈلياں رانوں كے ساتھ اكٹھى كر ے تو اسے تربع يعنى چار زانو ہو كر بيٹھنا كہتے ہيں؛ كيونكہ پنڈلى اور ران دائيں اور بائيں دونوں طرف ہے، اور اس ليے كہ پاؤں بچھا كر بيٹھنے ميں پنڈلى ران ميں چھپ جاتى ہے، ليكن چار زانو ہر كر بيٹھنے ميں يہ چاروں اعضاء ظاہر ہوتے ہيں.

كيا چارزانو ہو كر بيٹھنا واجب ہے ؟

نہيں، بلكہ يہ سنت ہے، چنانچہ اگر وہ پاؤں بچھا كر نماز ادا كرے تو اس ميں كوئى حرج نہيں، اور اگر وہ احتباء كر كے بھى ادا كرے تو بھى كوئى حرج نہيں كيونكہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا عمومى فرمان ہے:

" اگر تم استطاعت نہ ركھو تو بيٹھ كر نماز ادا كرو "

يہاں بيٹھنے كى كيفيت بيان نہيں فرمائى، چنانچہ اگر كوئى انسان يہ كہے كہ كيا چارزانو ہو كر نماز ادا كرنے كى كوئى دليل ہے ؟

تو اس كا جواب يہ ہے كہ:

جى ہاں عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا بيان كرتى ہيں:

" ميں نے رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كو چارزانو ہو كر نماز ادا كرتے ہوئے ديكھا "

اور اس ليے بھى كہ غالبا چارزانو ہو كر نماز ادا كرنے ميں پاؤں بچھا كر نماز ادا كرنے سے زيادہ اطمنان اور راحت ہوتى ہے، اور يہ معلوم ہے كہ قيام ميں " رب اغفرلى و ارحمنى " سے قرآت زيادہ لمبى ہوتى ہے، اور تو اسى طرح چارزانو ہو كر بيٹھنا زيادہ اولى ہے.

اور اس ميں ايك اور بھى فائدہ يہ ہے كہ ايسا كرنے ميں قيام والے بيٹھنے اور اور قيام كے قائم مقام بيٹھنے ميں فرق ہوتا ہے، كيونكہ اگر ہم يہ كہيں كہ قيام كى حالت ميں بھى پاؤں بچھا كر بيٹھے تو پھر قيام كے بدلے ميں بيٹھنے اور دوسرے ميں كوئى فرق نہيں رہے گا.

اور جب وہ ركوع كى حالت ميں ہو تو بعض كا كہنا ہے كہ: پاؤں بچھا كر بيٹھے، ليكن صحيح يہ ہے كہ وہ چار زانو ہى بيٹھے؛ كيونكہ كھڑے ہو كر نماز ادا كرنے والا شخص ركوع كى حالت ميں اپنى پنڈلياں اور رانيں كھڑى كر كے ركھتا ہے، صرف ركوع ميں تو پشت اور كمر كو ٹيڑھا كرنا ہے، تو پھر ہم يہ كہينگے كہ: چارزانو بيٹھ كر نماز ادا كرنے والا ركوع بھى چارزانو بيٹھ كر ہى ركوع كرے گا، اس مسئلہ ميں صحيح بھى يہى ہے " انتہى

ماخوذ از: الشرح الممتع ( 4 / 461 ).

دوم:

ليكن نفلى نماز ميں بغير كسى عذر كے بھى بيٹھ كر نماز ادا كرنا جائز ہے، اس پر اجماع ہے، ليكن اس وقت بيٹھ كر نماز ادا كرنے والے كا اجروثواب كھڑے ہو كر نماز ادا كرنے والے سے نصف ہو گا.

عبداللہ بن عمرو رضى اللہ تعالى عنہما بيان كرتے ہيں: مجھے بيان كيا گيا كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" بيٹھ كر نماز ادا كرنے والے آدمى كى نماز نصف نماز ہے "

راوى كہتے ہيں: چنانچہ ميں ان كے پاس آيا تو انہيں بيٹھ كر نماز ادا كرتے ہوئے پايا، تو ميں نے رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے سر پر ہاتھ ركھا: تو وہ فرمانے لگے:

اے عبد اللہ بن عمرو ( ضى اللہ تعالى عنہما ) تجھے كيا ہے ؟!

ميں نے عرض كيا: اے اللہ تعالى كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم مجھے بتايا گيا ہے كہ آپ نے فرمايا ہے:

" بيٹھ كر نمازا كرنے والے كى نماز آدھى ہے، اور آپ بيٹھ كر نماز ادا كر رہے ہيں! تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" بالكل ٹھيك ہے، ليكن ميں تمہارى طرح نہيں ہوں "

صحيح مسلم حديث نمبر ( 1214 ).

امام نووى رحمہ اللہ تعالى صحيح مسلم كى شرح ميں كہتے ہيں:

" اس كا معنى يہ ہے كہ: بيٹھ كر نماز ادا كرنے والے كو كھڑے ہو كر نماز ادا كرنے والے سے نصف ثواب ہے، چنانچہ يہ حديث نماز صحيح ہونے اور اجروثواب كے نصف ہونے كى دليل ہے.

اور يہ حديث نفلى نماز پر محمول ہو گى كہ نفلى نماز ميں قيام كى قدرت ہوتے ہوئے بھى بيٹھ كر نماز ادا كرنا جائز ہے، ليكن اسے كھڑے ہو كر ادا كرنے والے سے نصف ثواب حاصل ہو گا، ليكن اگر وہ كسى عذر كى بنا پر نفلى نماز بيٹھ كر ادا كرے تو اس كا ثواب كم نہيں ہو گا، بلكہ اس كا ثواب كھڑے ہو كر نماز ادا كرنے والے كى طرح مكمل ہو گا.

ليكن اگر كھڑے ہو كر نماز ادا كرنے كى استطاعت اور قدرت ہے تو پھر فرضى نماز بيٹھ ادا كرنا صحيح نہيں ہو گى، اور نہ ہى اس كا ثواب ہو گا، بلكہ وہ تو گنہگار ہے.

ہمارے ( شافعيہ ) اصحاب كا كہنا ہے:

اگر وہ اسے حلال سمجھتا ہے تو كافر ہو جائيگا، اور اس پر مرتدوں كے احكام جارى ہونگے، جس طرح كہ اگر كوئى شخص زنا اور سود وغيرہ دوسرى حرام اشياء كو حلال سمجھے.

اور اگر كسى عذر كى اور قيام اور قعود سے عاجز ہونے كى بنا پر ليٹ كر نماز ادا كرے تو اس كا ثواب كھڑے ہو كر نماز ادا كرنے والے كى طرح ہو گا، ہمارے اصحاب كا متفقہ فيصلہ ہے كہ اس كے اجروثواب ميں كوئى كمى نہيں ہو گى، چنانچہ يہ حديث نصف ثواب ہونے كے متعلق نفلى نماز بيٹھ كر ادا كرنے پر محمول ہو گى، كہ قدرت ہونے كے ساتھ نفلى نماز بيٹھ كر ادا كرے تو اسے نصف ثواب ہو گا، ہمارے مذہب كى تفصيل يہى ہے، اور اس حديث كى شرح ميں جمہور كا يہى كہنا ہے ".

اور امام نووى كا كہنا ہے:

" اور رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا يہ فرمان:

" ميں تمہارى طرح نہيں "

ہمارے اصحاب كے ہاں يہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے خصائص ميں شامل ہے، كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے شرف و مرتبہ كى بنا پر كھڑے ہو كر نفلى نماز ادا كرنے كى قدرت ركھتے ہوئے بھى بيٹھ كر نفلى نماز ادا كرنا كھڑے ہو كر نفل ادا كرنے كى طرح ہى ہے، جس طرح نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كو اور اشياء ميں بھى خصوصيت حاصل ہے، جو ہمارے اصحاب وغيرہ كى كتب ميں معروف ہيں، اور ميں نے انہيں كتاب " تھذيب الاسماء واللغات " كے شروع ميں بيان بھى كيا ہے" انتہى

ماخوذ از: شرح صحيح مسلم للنووى ( 6 / 14 ).

مزيد تفصيل كے ليے آپ سوال نمبر ( 50180 ) كے جواب كا مطالعہ ضرور كريں.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments