Thu 17 Jm2 1435 - 17 April 2014
7004

بليوں كى تربيت كرنا اور پالنا

كيا اسلامى تعليمات كے مطابق گھر ميں بلى ركھى جا سكتى ہے ؟

الحمد للہ:

اول:

گھر ميں بلى ركھى جا سكتى ہے ايسا كرنے ميں كوئى حرج نہيں، كيونكہ بلى موذى جانور نہيں، اور نہ ہى نجس ہے.

موذى اس ليے نہيں كہ : ہر ايك كو يہ معلوم ہے اس ميں كوئى نقصان نہيں، بلكہ بلى گھر ميں ركھنا فائدہ مند ہے، اس ليے كہ يہ گھر ميں پيدا ہونے والے كيڑے مكوڑے اور سانپ و چوہے وغيرہ كھا جاتى ہے.

اور نجس اس ليے نہيں كہ حديث ميں نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے اس كے نجس نہ ہونے كا بتايا ہے.

كبشہ بن كعب بن مالك كى حديث ميں ہے كہ: ابو قتادہ رضى اللہ تعالى عنہ ( يہ كبشہ كے سسر ہيں ) ايك روز كبشہ كے پاس گھر آئے تو اس نے ان كے ليے ايك برتن ميں وضوء كے ليے پانى ڈالا تو ايك بلى آئى اور اسے پينا چاہا تو ابو قتادہ نے برتن كو بلى كى جانب ٹيڑھا كر ديا تا كہ وہ پى لے، كبشہ كہتى ہيں: تو انہوں نے ديكھا كہ ميں انہيں ديكھے جا رہى ہوں تو وہ كہنے لگے:

ميرى بھيتجى كيا تم اس سے تعجب كر رہى ہو ؟

كبشہ كہتى ہے، ميں نے كہا: جى ہاں، تو انہوں نے كہا:

نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" يہ نجس نہيں بلكہ يہ تم پر آنے جانے والى ہيں "

سنن ترمذى حديث نمبر ( 92 ) سنن نسائى حديث نمبر ( 68 ) سنن ابو داود حديث نمبر ( 75 ) سنن ابن ماجہ حديث نمبر ( 367 ) امام ترمذى رحمہ اللہ نے اسے صحيح قرار ديا ہے، اور امام بخارى رحمہ اللہ كى اس حديث كى تصحيح كو " التلخيص " ميں نقل كيا ہے.

دوم:

ابن عمر رضى اللہ تعالى عنہما بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" ايك عورت ايك بلى كى وجہ سے جہنم ميں چلى گئى كيونكہ اس نے اسے باندھ ركھا تھا نہ تو اس نے اسے كھانے كے ليے كچھ ديا، اور نہ ہى اسے چھوڑا كہ وہ زمين كے كيڑے مكوڑے كھا كر گزارا كرے "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 3140 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 2242 ).

حديث ميں موجود لفظ: " خشاش الارض " سے مراد چوہے وغيرہ ہيں.

تو اس حديث ميں اس بات كا انكار اور نہى نہيں كہ اس نے گھر ميں بلى ركھى ہوئى تھى، ليكن اس حديث ميں بيان يہ ہوا ہے كہ اس نے بلى ركھى اور اسے كھانے كے ليے كچھ نہ ديا، اور نہ ہى اسے كھولا كہ وہ زمين كے كيڑے مكوڑے وغيرہ كھا كر زندہ رہ سكے.

سوم:

اور پھر ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ كا يہ نام ہى اس ليے ركھا گيا كہ وہ بليوں پر رحم كرتے اور انہيں پالتے تھے، حتى كہ وہ اس كنيت كے ساتھ ہى مشہور ہو گئے اور لوگ ان كا اصل نام ہى بھول گئے، حتى كہ علماء كرام كا ان كے نام ميں اتنا اختلاف ہوا كہ اس ميں تيس كے قريب اقوال ہيں.

ابن عبد البر " الاستيعاب " ميں كہتے ہيں:

اور راجح يہ ہے كہ ان كا نام عبد الرحمن بن صخر ہے، اور اس ميں كسى كا بھى اختلاف نہيں كہ وہ ابو ہريرہ ہيں.

چہارم:

تنبيہ:

بلى پالنى جائز ہے، ليكن اس كى خريد و فروخت جائز نہيں، بلكہ يہ ہبہ كى جا سكتى ہے، اور كسى دوسرے كو تحفہ ديا جا سكتى ہے، اس كى دليل ابو زبير كى درج ذيل حديث ہے:

ابو زبير بيان كرتے ہيں كہ ميں نے جابر رضى اللہ تعالى عنہ سے كتے اور بلى كى قيمت كے متعلق دريافت كيا تو وہ كہنے لگے:

" نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے اس سے منع فرمايا ہے "

صحيح مسلم حديث نمبر ( 1569 ).

السنور بلى كو كہتے ہيں.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments