70224: وكيل كے ذريعہ طلاق دينا


اگر ميں اپنى بيوى كو كينڈا كے قانون كے مطابق يعنى وكيل كے ذريعہ طلاق دوں تو كيا يہ كافى شمار ہوگى، يا كہ مجھے اسلامى طريقہ سے بھى بيوى كو طلاق دينا ہوگى، يعنى ميرے ليے اسے اى ميل ليٹر وغيرہ ارسال كرنا ضرورى ہے ؟

الحمد للہ:

اگر كوئى شخص اپنى بيوى كو سنت كے مطابق طلاق دينا چاہتا ہے تو وہ اسے ايسے طہر ميں ايك طلاق دے جس ميں اس نے بيوى نے جماع نہ كيا ہو، يا پھر حاملہ ہونے كى صورت ميں طلاق دے، اور پھر اسے چھوڑ دے حتى كہ اس كى عدت ختم ہو جائے.

اس كى عدت ختم ہونے كى صورت ميں اسے بينونت صغرى حاصل ہو جائيگى، اور وہ اس سے نئے مہر اور نئے نكاح كے بغير واپس نہيں لا سكتا.

ابن قدامہ رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" طلاق سنت كا معنى يہ ہے كہ وہ طلاق جو اللہ سبحانہ و تعالى اور اس كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم كے حكم كےمطابق و موافق ہو...

وہ طلاق يہ ہے كہ اس طہر ميں طلاق دى جائے جس ميں بيوى سے جماع نہ كيا ہو پھر اسے چھوڑ ديا جائے حتى كہ اس كى عدت پورى ہو جائے، اس ميں كوئى اختلاف نہيں ہے كہ جس طہر ميں جماع نہ كيا ہو اس ميں طلاق دے كر بيوى كو چھوڑ ديا جائے حتى كہ اس كى عدت ختم ہو جائے تو اس نے سنت كے مطابق عمل كيا.

يہ اس عدت كے ليے طلاق ہے جس كا اللہ سبحانہ و تعالى نے حكم ديا ہے، ابن عبد البر اور ابن منذر كا قول يہى ہے...

امام احمد رحمہ اللہ كہتے ہيں:

طلاق سنى يہ ہے كہ ايك بار طلاق دے كر بيوى كو چھوڑ ديا جائے حتى كہ وہ تين حيض پورے كرے، امام مالك، اوزاعى اور شافعى اور ابو عبيد كا بھى يہى قول ہے " انتہى

ديكھيں: المغنى ( 7 / 278 ).

طلاق كے ليے طلاق كے الفاظ بولنا ضرورى ہيں، يا پھر نيت كے ساتھ طلاق كے كلمات لكھے جائيں، چاہے طلاق كا كاغذ بيوى كو ارسال كيا جائے يا ارسال نہ كيا جائے، زبان سے الفاظ اور كاغذ پر نيت كے بغير لكھنا ہى طلاق كے ليے كافى نہيں.

ابن قدامہ رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" طلاق كے الفاظ كے بغير طلاق واقع نہيں ہوگى، ليكن دو جگہوں واقع ہو جاتى ہے:

پہلى:

جو كلام كرنے كى استطاعت ہى نہ ركھتا ہو اور كلام پر قادر نہ ہو، مثلا گونگا شخص جب اشارہ سے طلاق دے تو اس كى بيوى كو طلاق ہو جائيگى، امام مالك اور امام شافعى اور اصحاب الرائے كا يہى قول ہے، اس ميں ہميں كسى اختلاف كا علم نہيں...

دوسرى جگہ:

جب طلاق لكھے اگر تو اس نے طلاق كى نيت كى تو اس كى بيوى كو طلاق ہو جائيگى، امام شعبى اور نخعى اور زہرى اور حكم اور ابو حنيفہ اور مالك كا قول يہى ہے، اور امام شافعى سے يہى بيان كيا گيا ہے "

ديكھيں: المغنى ( 7 / 373 ).

طلاق ميں وكيل بنانا جائز ہے، وہ اس طرح كہ خاوند كسى دوسرے شخص كو كہے كہ ميں نے اپنى بيوى كو طلاق دينے كے ليے تجھے وكيل بنايا، يا پھر عورت كو وكيل بنائے كہ وہ اپنے آپ كو طلاق دے سكتى ہے، چنانچہ اگر وكيل نے يا پھر بيوى نے اپنے آپ كو طلاق دے دى تو يہ طلاق واقع ہو جائيگى.

ليكن خاوند كو يہ حق نہيں كہ وہ كسى دوسرے كو تين طلاق دينے كا وكيل بنائے، بلكہ وہ صرف ايك طلاق ميں ہى وكيل بنا سكتا ہے؛ كيونكہ خاوند كے ليے تين طلاقيں دينا جائز نہيں، تو پھر اس كا وكيل بالاولى نہيں دے سكتا.

بيوى كو طلاق دينے كے ليے وكالت كا پيشہ ركھنے والا شخص آپ كا وكيل ہے.

اس بنا پر اگر وكيل طلاق كے الفاظ بولے يا آپ كے قائم مقام ہو كر طلاق كے كلمات لكھے تو اس ميں كوئى حرج نہيں اور اس سے طلاق واقع ہو جائيگى، اور آپ كو طلاق كے الفاظ بولنے يا لكھ كر بيوى كو بھيجنے كى ضرورت نہيں.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب
Create Comments