70367: طلب كيے بغير ملازم كو رقم دينے كا حكم


دينى التزام كرنے والا ميرا ايك نوجوان دوست وزارت ماليہ ميں ملازم ہے، دوران ڈيوٹى محكمہ ميں آنے والے كچھ لوگ اپنا كام كروانے آتے ہيں تو وہ ان كا كام جلد نپٹانے اور ان كے كام ميں آسانى پيدا كرنے كى كوشش كرتا ہے، تو لوگ اسے كچھ نہ كچھ رقم دينے كى كوشش كرتے ہيں اور بڑى شدت كے ساتھ لينے پر اصرار كرتے ہيں، ليكن وہ سختى سے انكار كر ديتا ہے، حتى كہ كام كروانے والا اتنا اصرار كرتا ہے كہ لوگ بھى ان كى جانب متوجہ ہو جاتے ہيں، كام كرانے والا شخص كہتا ہے: ميں يہ رقم اپنى رضامندى اور خوشى سے دے رہا ہوں، اور بعض اوقات تو وہ رقم اس كے سامنے پھينك كر چلے جاتے ہيں، اور بعض اوقات تو ان كے مابين تو جھگڑے تك نوبت پہنچ جاتى ہے، اس ليے اسے كيا كرنا چاہيے ؟
كيا اس كے ليے مال لينا حلال اور پاكيزہ ہے، يا كہ اس پر حرام ہے، اور وہ اس رقم كا كيا كرے ؟

الحمد للہ:

كام كى بنا پر ملازم كو جو ہديہ ديا جاتا ہے وہ لينا جائز نہيں، كيونكہ يہ حرام رشوت ميں شمار ہوتى ہے، چاہے ملازم اس كا ارادہ نہ بھى كرے؛ كيونكہ غالب طور پر ہديہ وغيرہ دينے والا شخص اسے تو صرف دے ہى اس ليے رہا ہے كہ وہ اس كے كام ميں آسانى پيدا كرے، يا پھر آئندہ اس كے ساتھ بہتر سلوك كرے.

ليكن ملازم كو وہ ہديہ جو اس كى رشتہ دارى يا دوستى كى بنا پر ديا جاتا ہے، نہ كہ اس كى ڈيوٹى اور كام كى بنا پر تو يہ اس كےليے جائز ہے، نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے طريقہ پر چلتے ہوئے اسے يہ ہديہ قبول كر لينا چاہيے.

كيونكہ حديث سے ثابت ہے كہ:

" رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم ہديہ قبول فرمايا كرتے تھے، اور اس بدلہ ديا كرتے تھے "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 2585 ).

يثيب عليھا: كا معنى يہ ہے كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم ہديہ دينے والے كو اس كا بدلہ ديتے ہوئے اس ہديہ كے بدلے كوئى عطيہ ديا كرتے تھے.

حرام اور جائز ہديہ ميں فرق يہ ہے كہ:

جو ہديہ انسان كے كام اور ڈيوٹى كى وجہ سے ہو تو وہ حرام ہے، اس ليے انسان كو اپنى حالت ديكھنى چاہيے كہ اگر وہ اس ڈيوٹى پر نہ ہوتا تو كيا اسے ہديہ جاتا يا نہيں ؟

اور نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے بھى يہى چيز اپنے اس فرمان ميں بيان فرمائى ہے:

" تو وہ اپنے ماں باپ كے گھر بيٹھ كر انتظار كيوں نہ كرتا رہے كہ اسے ہديہ ديا جاتا ہے يا نہيں ؟ "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 7174 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 1832 ).

اور ابو حميد الساعدى رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے بنو اسد كے ايك شخص كى زكاۃ پر ڈيوٹى لگائى، اور جب وہ واپس آيا تو كہنے لگا:

يہ تمہارا ہے، اور يہ مجھے ہديہ ديا گيا ہے.

تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم منبر پر كھڑے ہوئے اور اللہ تعالى كى حمد و ثنا بيان فرمائى اور پھر فرمايا:

" اس ملازم كا كيا حال ہے جسے ہم كسى كام كے ليے بھيجتے ہيں پھر وہ آكر يہ كہتا ہے كہ يہ آپ كا ہے اور يہ ميرا، تو وہ اپنےماں باپ كے گھر بيٹھ كر انتظار كيوں نہ كرتا رہا كہ آيا اسے ہديہ ديا جاتا ہے يا نہيں ؟!

اس ذات كى قسم جس كے ہاتھ ميں ميرى جان ہے وہ جو بھى لائے گا روز قيامت اس نے اسے اپنى گردن پر اٹھايا ہوا ہوگا، اگر تو وہ اونٹ ہوا تو آواز نكال رہا ہوگا، يا گائے بھائيں بھائيں كر رہى گى، يا بكرى مميا رہى ہو گى.

پھر رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے اپنا ہاتھ بلند فرمائے حتى كہ ہم نے رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى بغلوں كى سفيدى ديكھى، اور فرمايا:

خبردار ميں نے پہنچا ديا ہے، آپ نے يہ كلمات تين بار فرمائے "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 7174 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 1832 ).

الرغاء: اونٹ كى آواز كو كہتے ہيں.

الخوار: گائے كى آواز كو كہا جاتا ہے.

اليعار: بكرى كے مميانے كى آواز كو كہتے ہيں.

عفرتى ابطيہ: يعنى نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى بغلوں كى سفيدى.

تو يہ حديث شريف ملازمين كو ان كے كام كى بنا پر ديے جانے والے مال كى حرمت پر دلالت كرتى ہے، اور روز قيامت وہ ملازم اس نے جو كچھ بھى ليا ہو گا اٹھا كر لائےگا چاہے وہ اونٹ ہو يا گائے يا بكرى، اللہ تعالى اس سے محفوظ ركھے.

مستقل فتاوى كميٹى كے فتاوى جات ميں درج ہے:

سوال:

ايسے شخص كے بارہ ميں شريعت كا حكم كيا ہے جسے دوران كام بغير كسى مطالبہ كے كچھ رقم دى جائے، يا پھر اس نے وہ رقم لينے كے ليے كوئى حيلہ بازى كى ہو.

اس كى مثال يہ ہے كہ: محلہ كے ناظم يا نبمردار كے پاس لوگ تعارفى ليٹر لينے آتے ہيں كہ وہ اس كے محلہ ميں رہائش پذير ہيں، اور اس كے عوض ميں وہ اسے پيسے ديتے ہيں.... تو كيا اس كے ليے يہ رقم لينى جائز ہے، اور كيا يہ مال حلال شمار ہو گا ؟

اور كيا اس كا استدلال درج ذيل حديث سے كيا جا سكتا ہے:

سالم بن عبد اللہ بن عمر اپنے باپ عبد اللہ بن عمر رضى اللہ تعالى عنہما سے بيان كرتے ہيں وہ عمر رضى اللہ تعالى عنہ سے بيان كرتے ہيں انہوں نے فرمايا:

مجھے رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كچھ مال بطور عطيہ ديا كرتے تھے، تو ميں انہيں عرض كرتا: آپ يہ مال اسے ديں جو مجھ سے بھى زيادہ محتاج اور ضرورتمند ہو، تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرماتے:

" اسے لے لو، جب اس مال ميں سے كچھ تيرے پاس بغير مانگے آئے اور نہ ہى تو اسے جھانكنے والا ہو تو اسے ليكر اسے اپنا مال بناؤ اور پھر اگر چاہو تو اسے صدقہ كر دو، اور جو نہ آئے تو اپنے آپ كو اس كے پيچھے مت لگاؤ "

سالم رحمہ اللہ كہتے ہيں: تو عبد اللہ بن عمر رضى اللہ تعالى عنہما كسى سے بھى كبھى كوئى چيز طلب نہيں كرتے تھے، اور اگر انہيں كوئى عطيہ ديا جاتا تو اسے رد نہيں كرتے تھے "

صحيح بخارى اور صحيح مسلم. ؟

اس كے جواب ميں كميٹى كا كہنا تھا:

جواب:

اگر تو واقعتا ايسا ہى ہے جيسا كہ سوال ميں بيان ہوا ہے تو پھر محلہ كے ناظم يا نمبردار كو جو كچھ ديا گيا ہے وہ حرام ہے؛ كيونكہ وہ رشوت ہے، اور ابن عمر رضى اللہ تعالى عنہما كى حديث كے ساتھ اس موضوع كا كوئى تعلق اور واسطہ نہيں ہے؛ كيونكہ وہ حديث تو اس شخص كے متعلق ہے جسے مسلمانوں كے بيت المال سے مسلمانوں كا حكمران بغير كسى سوال اور طلب كرنے يا بغير جھانكے كسى شخص كو عطا كرے " انتہى

ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 23 / 548 ).

اس بحث كا حاصل يہ ہوا كہ:

آپ كے دوست كو يہ مال لينے سے انكار كرنا چاہيے، چاہے دينے والے كتنا بھى اصرار كريں، اور يہ انہيں يہ سمجھانا ضرورى ہے كہ يہ اس كے ليے جائز نہيں، اور ايسا كرنے سے ان كے خيالات بھى بہتر ہو جائينگى اور وہ خوش ہونگے، اور پھر اس سے يہ شرعى حكم بھى عام ہو گا جس سے بہت سارے لوگ جاہل ہيں.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments