7699: نماز جمعہ ترك كرنے كا حكم


نماز جمعہ ميں حاضر نہ ہونے كى سزا كيا ہے؟ اور اس كے بارہ كونسى احاديث ہيں ؟

الحمد للہ :

جن پر نماز جمعہ واجب ہے ان كے ليے نماز جمعہ ترك كرنا كبيرہ گناہ ہے اور جو شخص حقارت كے ساتھ تين نماز جمعہ ترك كر دے اس كے دل پر مہر لگ جاتى اور اسے غافلين ميں سے لكھ ديا جاتا ہے.

اس كى دليل صحيح مسلم كى مندرجہ ذيل حديث ہے:

ابو ہريرہ اور ابن عمر رضى اللہ تعالى عنہم بيان كرتے ہيں كہ: ان دونوں نے نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كو منبر كى لكڑيوں پر يہ فرماتے ہوئے سنا:

" لوگ نماز جمعہ ترك كرنے سے باز آجائيں، وگرنہ اللہ اللہ تعالى ان كے دلوں پر مہر ثبت كر دے گا، پھر وہ غافلين ميں سے ہو جائيں گے"

اور ايك حديث ميں ہے:

" جس نے حقير سمجھتے ہوئے تين جمعہ چھوڑ ديے اللہ تعالى اس كے دل پر مہر ثبت كر ديتا ہے "

يہ قلبى سزا ہے، جو كہ جسمانى سزا قيد و بند يا كوڑے لگانے سے زيادہ سخت ہے، حكمران كو چاہيے كہ وہ بغير كسى عذر كے نماز جمعہ سے پيچھے رہنے والوں كو سخت قسم كى سزا دے، تا كہ لوگ اس جرم كا ارتكاب نہ كريں.

اور ہر مسلمان شخص اللہ تعالى كے فرائض ميں سے كوئى فريضہ ضائع كرتے ہوئے اللہ سے ڈرنا چاہيے، كہ وہ اپنے آپ كو اللہ تعالى كے عقاب اور سزا كے ليےتيار كر رہا ہے.

مسلمان كو اپنے اوپر اللہ تعالى كے واجب كردہ امور كا خيال كرتے ہوئے اسے بجا لانا چاہيے، تا كہ وہ اللہ تعالى كا اجروثواب حاصل كر سكے، اللہ تعالى جسے چاہتا ہے اپنے فضل سے نوازتا ہے.

واللہ اعلم .

كتبہ: فضيلۃ الشيخ عبد الرحمن البراك.
Create Comments