Mon 21 Jm2 1435 - 21 April 2014
82073

سسرال والوں نے بيوى اور بيٹى واپس بھيجنے كے ليے مالدار ہونے كى شرط لگا دى

ميرى اپنى سسرال والوں كے ساتھ پربلم چل رہى ہے، ميں نے ان كى بيٹى سے يہ گمان كر كے شادى كى كہ وہ اپنے دين پر قائم ہيں، ليكن بعد ميں علم ہوا كہ وہ تو رسم و رواج پر سختى سے چمٹے ہوئے ہيں.
ميرے سسرال والے زبردستى ميرى بيوى كو لے جاتے ميں اس دنيا ميں بہت كمزور ہوں، لا حول و لا قوۃ الا باللہ، اس كى پيدائش ان كے ہاں ہوئى ہے، اور اب وہ ميرى بيوى اور بيٹى كو واپس بھيجنے كے ليے شرط ركھتے ہيں كہ جب تك ميں بہت مالدار نہيں ہوتا وہ بيوى كو واپس نہيں بھيج سكتے.
يہ علم ميں رہے كہ انہوں نے ميرى بيوى كو اختيار ديا كہ وہ ميرے ساتھ آ جائے يا پھر مالدار ہونے تك اپنے ميكے ہى رہے، اور اگر وہ ميرے ساتھ جانا اختيار كرتى ہے تو خاندان والے ناراض ہو جائيں گے.
ميرى بيوى جانتى ہے كہ ميں حق پر ہوں اور اس كے ميكے والے باطل پر ہيں، ليكن اس كے باوجود اس نے بھى ان كا طريقہ ہى اختيار كر ليا ہے، برائے مہربانى مجھے بتائيں كہ شرعى طور پر مجھے كيا كرنا چاہيے ؟

الحمد للہ:

اول:

بيوى كو خاوند كى اجازت كے بغير گھر سے باہر جانا جائز نہيں ہے، اور بيوى كے خاندان والوں كو بھى حق حاصل نہيں ہے كہ وہ اپنى بيٹى كا اس سلسلہ ميں تعاون كريں، يا پھر وہ اسے ايسا كرنے پر ابھاريں.

كيونكہ اس كا خاوند كى اجازت كے بغير گھر سے جانا اور واپس نہ آنا خاوند كى نافرمانى اور اس كے خلاف سركشى شمار ہوتى ہے، جس كى بنا پر بيوى اپنے خاوند كى نافرمان شمار ہوگى.

اور پھر سسرال والوں كا اپنى بيٹى كو لے جانا اور واپس بھيجنے كے ليے بہت زيادہ مالدار ہونے كى شرط ركھنا تو ظلم پر ظلم شمار ہوگا، انہيں ايسا كرنے كا كوئى حق حاصل نہيں كيونكہ جب انہوں نے اپنى بيٹى كا اس سے نكاح كرنا قبول كر ليا اور نكاح ہوگيا اور خاوند نے مہر ادا كر ديا ہے تو ميكے والوں كو چاہيے كہ وہ بيوى كو اس كے خاوند كے سپرد كر ديں انہيں بيوى خاوند كے سپرد كرنا واجب ہے، اور ايسا ضرور ہونا چاہيے كيونكہ وہ اپنے خاوند كے ساتھ تھى اور پھر اس نے اس كى بيٹى كو بھى جنم ديا ہے!

آپ نے اپنى مالى حالت كے بارہ ميں كچھ بھى نہيں بتايا كيا آپ اپنى بيوى اور بچى پر خرچ كر سكتے ہيں يعنى ان كے اخراجات برداشت كر سكتے ہيں يا نہيں ؟

اور كيا آپ ان كے اخراجات بھى نہيں كر سكتے ؟ يا كہ آپ كے پاس ان پر خرچ كرنے كے ليے مال ہے ؟

كيونكہ جمہور فقھاء كرام كے ہاں اگر خاوند كے پاس اپنى بيوى اور بچوں كے اخراجات برداشت كرنے كے ليے مال نہيں تو يہ ان ميں عليحدگى كرنے كے جائز اسباب ميں شامل ہوتا ہے، ليكن يہ اس صورت ميں ہوگى جب بيوى عليحدہ ہونے كا مطالبہ كرے، ليكن اگر وہ خاوند كے ساتھ ہى رہنا پسند كرے اور عليحدہ ہونے كا مطالبہ نہيں كرتى تو پھر كسى كو بھى ان ميں عليحدگى كرانے كا كوئى حق نہيں ہے.

ديكھيں: الموسوعۃ الفقھيۃ ( 5 / 254 ) ( 29 / 58 ).

دوم:

اپنى بيوى كو واپس لانے كے ليے آپ درج ذيل امور پر عمل كريں:

1 ـ اپنے پروردگار كے ساتھ معاملات كو سدھاريں تا كہ اللہ سبحانہ و تعالى آپ كے لوگوں كے ساتھ معاملات كى اصلاح فرما دے.

2 ـ اللہ سبحانہ و تعالى سے دعا كريں كہ وہ اس ظلم و ستم كو دور كرے اور آپ كو اس ظلم سے بچائے، اور ہر قسم كے شر سے آپ كو كفائت كرے.

3 ـ اپنے سسرال والوں كے ساتھ افہام و تفہيم سے كام ليں، اور ان كے موقف كى حقيقت كو معلوم كرنے كى كوشش كريں، كيونكہ ہو سكتا ہے مالدارى كے علاوہ كوئى اسباب ہوں.

4 ـ اس سلسلہ ميں آپ كسى دين اور عقل و دانش ركھنے والے شخص سے معاونت حاصل كريں جو انہيں سمجھائے اور انہيں نصيحت كرے، اور كسى پر ظلم و ستم كرنے نقصانات اور انجام كى وضاحت كرے.

5 ـ اپنا معاملہ اور مقدمہ عدالت ميں لے جائيں تا كہ وہ آپ كى بيوى اور بچى كو واپس دلائے.

اللہ تعالى سے دعا ہے كہ وہ آپ كا معاملہ آسان فرمائے اور آپ كو وہ عمل كرنے كى توفيق نصيب فرمائے جن سے اللہ راضى ہوتا ہے اور جنہيں پسند فرماتا ہے.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب
Create Comments