82199: بغير دليل كے طلاق كا دعوى كرنے والى عورت كا دوسرا نكاح كرنا


كسى علاقے ميں ايك ستر سالہ شخص ايك مقيم عورت سے شادى شدہ ہے جو كسى اور شخص كى كفالت ميں ہے اور اپنے پہلے خاوند سے طلاق شدہ ہے جو دوسرے شہر ميں رہائش پذير ہے اور پہلے خاوند سے اس كے دو بيٹے بھى ہيں، آدمى كے بيٹوں نے اس شخص كو نصيحت كى ہے وہ اس عورت سے دور رہے يا پھر وہ اس كى پہلى طلاق كا يقين كر لے اور يہ عقد نكاح كہاں تك صحيح ہے اس كا علم نہيں. ليكن وہ ستر سالہ شخص اس كا بڑى سختى سےانكار كرتا ہے اور كسى دوسرے ميں اپنے معاملہ ميں بالكل دخل اندازى نہيں كرنے ديتا، كيا اس كى اولاد اس معاملہ ميں گنہگار ہو گى اور اپنے والد كے معاملہ ميں ان پر كيا واجب ہوتا ہے ؟
يہ علم ميں رہے كہ وہ عورت ہر گرمى كى چھٹيوں اور عيد كے موقع پر بچوں كا بہانہ كر كے اس شہر جاتى ہے، اور ہفتہ وار چھٹي پر خاوند كے بغير ہى اسى شہر ميں اپنے جاننے والوں كے پاس جاتى ہے ؟

الحمد للہ:

اول:

اگر كوئى عورت دعوى كرے كہ وہ شادى شدہ تھى اور اسے طلاق ہو چكى ہے اور اس كى عدت بھى ختم ہو چكى ہے تو كيا اس كا يہ دعوى قابل ہو گا يا كہ طلاق كے ثبوت كے ليے كوئى دليل ہونى ضرورى ہے ؟

اس مسئلہ ميں فقھاء كے ہاں اختلاف پايا جاتا ہے:

كچھ فقھاء كہتے ہيں كہ اس كى بات مانى جائيگى، اور اس ميں اس كى تصديق كى جائيگى كيونكہ وہ اپنے نفس كے متعلق مامون ہے.

اور كچھ فقھاء كہتے ہيں: اگر اس كى سچائى كا ظن غالب ہو تو پھر اس كى تصديق كرنى جائز ہے.

اور كچھ فقھاء علاقے ميں اجنبى عورت اور اس علاقے سے تعلق ركھنے والى ميں فرق كرتے ہيں، لہذا كسى دوسرے علاقے سے تعلق ركھنے والى اجنبى عورت كا قول قبول كيا جائيگا، ليكن اسى علاقے سے تعلق ركھنے والى عورت سے شادى اس وقت تك نہيں ہو سكتى جب تك اس كى طلاق كى دليل نہ مل جائے.

اور كچھ فقھاء نے فرق كيا ہے كہ اگر وہ عورت كسى معين خاوند سے طلاق كا بتائے مثلا وہ يہ كہے: ميں نے فلان شخص سے شادى كى اور پھر اس نے مجھے طلاق دے دى، اور كسى ايسى عورت ميں جو كسى غير معين خاوند سے طلاق كے متعلق بتائے.

لہذا پہلى صورت ميں اسے كوئى نہ كوئى دليل ضرور پيش كرنا ہو گى كہ اسے اس سے طلاق ہو چكى ہے.

ذيل ميں فقھاء كى كلام پيش كى جاتى ہے:

المبسوط ميں درج ہے:

" اور اگر عورت كہے: ميرے خاوند نے مجھے طلاق دے دى ہے، وہ كہے خاوند فوت ہو چكا ہے اور ميرى عدت ختم ہو چكى ہے تو اس كو نكاح كا پيغام دينے والے كے ليے حلال ہو گى اور وہ اس سے شادى كر سكتا ہے اور وہ اس كى تصديق كريگا؛ كيونكہ حلت اور حرمت شريعت كا حق ہے، اور ہر مسلمان شخص امين ہے، شرعى حق ميں اس كا قول مقبول ہوگا، بلكہ كسى دوسرے كے بارہ ميں اس كا قول اس وقت قبول نہيں ہو گا جب حق والا اس كى بات كو جھٹلائے، اور يہاں كسى كو بھى اس كا حق نہيں جس كى خبر وہ عورت دے رہى ہے، اس ليے اس سلسلہ ميں كى خبر اور بات قبول كرنى جائز ہے. واللہ تعالى اعلم بالصواب " انتہى

ديكھيں: المبسوط ( 5 / 151 ).

اور البحر الرائق ميں درج ہے:

" اور مطلقہ كے قول كو قبول كرنے ( كا اشارہ كيا ہے ) كہ ايك مرد كى منكوحہ عورت نے دوسرے كو كہا: مجھے ميرے خاوند نے طلاق دے دى اور ميرى عدت بھى گزر چكى ہے تو اگر اس كے ظن غالب ميں اس كى تصديق واقع ہو تو اس كى تصديق جائز ہے " انتہى

ديكھيں: البحر الرائق ( 4 / 64 ).

عليش مالكى رحمہ اللہ سے دريافت كيا گيا:

ايسى عورت كے بارہ ميں آپ كيا كہتے ہيں جو فيوم سے قيلوبيہ آئى اور كہنے لگى ميں فيوم ميں شادى شدہ تھى اور دو ماہ قبل مجھے ميرے خاوند نے طلاق دے دى، اور اس كے پاس اس طلاق كے ثبوت كے اسٹام موجود ہے جس پر اس علاقے كے نائب قاضى كى مہر بھى ثبت ہے، اور وہ اسٹام كى تاريخ سے عدت ختم ہونے كے بعد شادى كرنا چاہتى ہے تو كيا ايسا ممكن ہے برائے مہربانى جواب عنائت فرمائيں:

ان كا جواب تھا:

" الحمد للہ و الصلاۃ والسلام على سيدنا محمد رسول اللہ صلى اللہ عليہ وسلم:

جى ہاں ايسا كرنا ممكن ہے، كيونكہ وہ طلاق كے دعوى ميں سچى ہے، اور مذكورہ صورت ميں اس كى عدت ختم ہو چكى ہے خاص كر اس كا دعوى قاضى كے وثيقہ كے ساتھ راجح ہو چكا ہے اور نصوص سے يہى واضح ہوتا ہے.

ليكن اس معاملہ اور زيادہ ثبوت حاصل كرنا ضرورى ہے كيونكہ بہت زيادہ مشاہدہ كيا گيا ہے كہ بہت سارى عورتيں شادى كر ليتى ہيں اور ان كے خاوند بھى ہوتے ہيں، اللہ تعالى سے سلاميت و عافيت كى دعا ہے " انتہى

ديكھيں: فتح العلى المالك فى الفتوى على مذھب الامام مالك ( 2 / 78 ).

اور الزركشى رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" اور اگر عورت كہے كہ: مجھے ميرے خاوند نے طلاق دے دى ہے اور ميرى عدت بھى ختم ہو چكى ہے، اور وہ حاكم سے شادى كا مطالبہ كرتى ہے، تو ديبلى كى ادب قضاء ميں درج ہے كہ: اگر تو وہ عورت اجنبى ہو اور خاوند غائب ہو، تو اس كا قول بغير دليل اور قسم كے قبول ہو گا، اور اگر خاوند اس شہر اور علاقے ميں ہے اور وہ عورت اجنبى نہيں بلكہ اسى علاقے كى ہے تو جب تك اس كى طلاق كا ثبوت نہيں مل جاتا حاكم اور قاضى اس كى شادى نہ كرے.

اور رافعى نے احتمال كے وقت عورت كے قول كو قبول كرنے كى تحليل ميں مطلقا لكھا ہے اور فتاوى البغوى سے نسب كا دعوى نقل كيا ہے كہ: جب كوئى مرد اور عورت قاضى كے پاس آئے اور عورت اس مرد سے شادى كرنے كا دعوى كرے، اور يہ كہے كہ وہ فلان شخص كى بيوى تھى اور اس نے طلاق دے دى يا وہ مر گيا ہے:

تو جب تك اس كى طلاق يا موت كى دليل نہ مل جائے تو وہ اس كى شادى اس شخص سے مت كرے، كيونكہ اس نے فلان شخص سے نكاح كا اقرار كيا ہے " انتہى

ديكھيں: المنثور فى القواعد ( 1 / 171 ).

اور الرملى شافعى سے دريافت كيا گيا:

ايك عورت كہتى ہے كہ فلاں شخص اس كا خاوند ہے اور اس نے اسے طلاق دے دى ہے يا وہ مر گيا ہے اور اس كى عدت ختم ہو چكى ہے، تو كيا حاكم كے ليے بغير كسى دليل كے اس كى شادى كرنا جائز ہے ؟

ان كا جواب تھا:

" اس عورت نے جو كچھ كہا ہے جب تك اس كى دليل نہ مل جائے حاكم كے ليے اس كى شادى كرنا جائز نہيں، كيونكہ اس نے نكاح كا اقرار كيا ہے اور اصل ميں وہ نكاح باقى ہے، ليكن اس كے برخلاف اگر وہ كسى غير معين شخص سے نكاح كا اقرار كرے تو پھر نہيں.

ديبلى نے ادب القضاء ميں ( اور اوپر جو زركشى سے منقول ہے ) ذكر كيا ہے اس پر محمول كيا جائيگا، اور جو قاضى نے اپنے فتاوى ميں ذكر كيا ہے وہ بھى اس پر محمول ہو گا كہ اگر عورت ولى كے سامنے خاوند فوت ہونے يا طلاق كا دعوى كرے اور وہ انكار كرے، تو پھر عورت كو حلف دينا ہو گا، اور حاكم اس كى شادى كا حكم ديگا، يا پھر حاكم خود اس كى شادى كر ديگا "

ديكھيں: الرملى ( 3 / 161 ).

ان كا يہ بھى كہنا ہے:

" حاصل يہ ہوا كہ معتمد يہى ہے كہ اگر عورت كسى معين شخص سے طلاق كا دعوى كرے تو حاكم اس طلاق كا ثبوت ملے بغير اس كى شادى نہيں كريگا، يا پھر غير معين شخص سے طلاق كا دعوى ہو تو اس كا قول قبول ہو گا، اس كے علاوہ بھى قول ہے " انتہى

ديكھيں: الرملى ( 3 / 153 ).

ظاہر يہى ہوتا ہے كہ اس مسئلہ ميں تحقيق كى جائے اور خاص كر جب يہ دور فتنہ و فساد والا ہے، اور اكثر ايسے واقعات ہو رہے ہيں جس سے واضح ہوتا ہے كہ عورت پہلے سے شادى شدہ تھى اور اس نے آگے دوسرا نكاح كر ليا، اور قاضى كا فيصلہ اس مسئلہ ميں آخرى چيز ہے، اگر وہ اس كى بات قبول كرتا ہے تو وہ اس كى شادى آگے كر دے، اور اگر چاہے تو وہ اس سے دليل اور ثبوت طلب كرے، يا پھر اگر اس كى سچائى كا گمان نہ ہو تو بھى وہ اس سے ثبوت طلب كر سكتا ہے، كيونكہ جب تك اس كى طلاق كا ثبوت نہ ملے اس كى شادى نہ كرے.

اس وقت جو عمل ہو رہا ہے وہ يہ كہ قاضى يا نكاح رجسٹرار اس عورت كا نكاح نہيں كرتا جس كى پہلے شادى ہو چكى ہو اور طلاق كا دعوى كرے جب تك وہ طلاق كا اسٹام نہ دكھائے، ہميں معلوم نہيں كہ مذكورہ شخص كا نكاح كس طرح ہو گيا ہے.

دوم:

اگر عورت كى طلاق ميں شك ہو يا پھر ابھى تك وہ پہلے نكاح ميں ہى ہو تو اولاد اس كے متعلق دريافت كرے اور اس عورت اور اس كے پہلے خاوند كے معاملہ ميں تحقيق كى كوشش كريں، اگر تو يہ واضح ہو جائے كہ وہ عورت پہلے خاوند سے طلاق شدہ نہيں، تو وہ اپنے باپ كو اس كے متعلق بتائيں، اور ان دونوں كے درميان تفريق اور جدائى كروائيں حتى كہ اس كى عدت ختم ہو جائے، اور اس معاملہ كو قاضى تك لے جايا جائے تا كہ وہ اس ميں فيصلہ كرے، اور اگر انہيں علم ہو جائے تو پھر وہ اس مسئلہ ميں خاموش تماشائى نہ بنيں؛ كيونكہ كسى شادى شدہ عورت سے بغير طلاق اور عدت ختم ہونے سے قبل نكاح كرنا باطل ہے، اور ايسا كرنے والا اگر حقيقت حال كو جانتا ہو تو وہ زنا كا مرتكب ہے.

ليكن يہاں ہم دو چيز كى تنبيہ كرتے ہيں:

اولاد اپنے باپ كى قدر و منزلت اور مرتبہ كا خيال كريں، اس مسئلہ ميں بات چيت كر كے اسے اذيت سے دوچار مت كريں، اور اگر فرض كريں انہيں ايسا علم ہو جائے جو ناپسند ہو تو وہ كوئى ايسا وسيلہ تلاش كريں جس سے اپنے باپ كو نصيحت كريں، اور اگر اس ميں كسى دوسرے كو واسطہ بنائيں تو زيادہ بہتر ہو گا، تا كہ اس كے احساسات كا خيال ركھا جائے اور ان كے درميان جو باپ اور اولاد كى محبت ہے وہ قائم اور محفوظ رہے.

دوسرى چيز:

اس سلسلہ ميں انہيں ابھارنى والى چيز باپ كى بيوى ميں شك و شبہ اور تہمت و كراہيت و ناپسنديدگى نہ ہو، كيونكہ وہ ايك اجنبى عورت ہے يا پھر اس وجہ سے كہ والد نے بڑى عمر ميں اس سے شادى كى ہے، يا پھر دوسرے خاص امور جو اللہ سبحانہ و تعالى پر مخفى نہيں.

اس ليے انہيں تقوى و پرہيزگارى اختيار كرتے ہوئے صحيح اور سيدھى بات كرنى چاہيے، اور وہ كسى برئ پر تہمت لگانے سے اجتناب كريں، اور حسن ظن سے كام ليں، اور اپنى زبانوں كو ايسى كلام سے محفوظ ركھيں جس سے انہيں تكليف ہو اور ان كے والد كو تكليف ہو، جب تك كہ كوئى ايسا معاملہ ظاہر نہ ہو جائے جس پر خاموش رہنا ممكن نہ ہو.

اور پھر نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" جس كسى كى سفارش كى وجہ سے اللہ كى حدود ميں سے كوئى حد قائم ہونا رہ گئى تو اس نے اللہ كے حكم كى مخالفت كى، اور جو مر گيا اور اس كے ذمہ قرض ہو تو يہ دينار اور درھم كے ساتھ نہيں، بلكہ نيكيوں اور برائيوں كے ساتھ ہے، اور جو كوئى كسى باطل ميں جھگڑا كرے اور اسے علم ہو كہ يہ باطل ہے تو وہ اس وقت تك اللہ كى ناراضگى ميں ہے جب تك وہ اس كو ترك نہيں كر ديتا، اور جس نے كسى مومن كے بارہ ميں ايسى بات كى جو اس ميں نہيں تو اللہ تعالى اسے جہنميوں كے خون اور پيپ ميں ركھےگا حتى كہ وہ اس سے نكل جائے جو اس نے كہا تھا "

اسے ابن عمر رضى اللہ تعالى عنہما سے ابو داود نے روايت كيا ہے سنن ابو داود حديث نمبر ( 5129 ) اور علامہ البانى رحمہ اللہ نے صحيح ابو داود ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.

الردغۃ: جہنميوں كا خون اور پيپ وغيرہ ہے.

اللہ تعالى ہميں اور آپ كو اپنے محبوب اور رضامندى والے كام كرنے كى توفيق عطا فرمائے.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments