83765: جسمانى طور پر حج كى قدرت نہ ركھنے والے والد كى طرف سے بيٹے كا حج كرنا


ميں حرمين شريفين ميں ملازمت كرتا ہوں، اور الحمد للہ پچھلے برس فرضى حج كى ادائيگى كر چكا ہوں، ميرے والد صاحب مصر ميں ہيں جو مالى طور پر تو حج كى استطاعت ركھتے ہيں ليكن صحت كے اعتبار سے نہيں تو كيا ميں ان كى طرف سے فريضہ حج ادا كر سكتا ہوں ؟

الحمد للہ:

اگر بڑھاپے يا دائمى بيمارى جس سے شفايابى كى اميد نہيں كى بنا پر آپ كے والد حج كرنے كى استطاعت نہيں ركھتے تو انہيں چاہيے كہ وہ حج كے ليے كسى كو نائب مقرر كر ديں، چاہيں آپ كو يا كسى دوسرے كو نيابتا حج كرنے كا كہيں.

اور اگر آپ اپنے والد كى جانب سے حج كرنا چاہيں تو يہ بہت خير و نيكى والا كام ہے، ليكن شرط يہ ہے كہ آپ اپنے والد كے كو بتا ديں كہ آپ اس كى طرف سے حج كر رہے اور وہ اس كى اجازت دے دے.

ابن قدامہ رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

جس ميں بھى حج فرض ہونے كى شروط پورى ہوں اور وہ كسى ايسے مانع كى وجہ سے معذور ہو جس كے زائل ہونے كى اميد نہ ہو مثلا ايسى بيمارى جس سے شفايابى كى اميد نہ ہو، يا اتنا كمزور اور لاغر ہو كہ سوارى ناقابل برداشت مشقت كے بغير نہ بيٹھ سكتا ہو، يا پھر بوڑھا فانى اور اس طرح كے دوسرے افراد جب بھى ان كى نيابت كرنے والا شخص اور نيابت كے ليے مال ہو اس كے ليے نيابتا حج كروانا لازم ہوگا، امام ابو حنيفہ اور امام شافعي رحمہما اللہ كا يہى كہنا ہے " انتہى

المغنى ابن قدامۃ ( 3 / 91 ). كچھ كمى و بيشى كے ساتھ نقل كيا گيا.

اور ابن قدامہ كا يہ بھى كہنا ہے:

زندہ شخص كى طرف سے اس كى اجازت كے بغير نفلى يا فرض حج كرنا جائز نہيں؛ كيونكہ يہ ايسى عبادت ہے جو بطور نيابت ہو سكتى ہے، اس ليے كسى بالغ اور عاقل كى جانب سے اس كى اجازت كے بغير ادائيگى جائز نہيں جس طرح زكاۃ كى ادائيگى اس كى اجازت كے بغير نہيں ہوتى.

ليكن ميت كى جانب سے بغير اجازت نفلى يا فرضى حج كى ادائيگى جائز ہے؛ كيونكہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے ميت كى جانب سے حج كرنے كا حكم ديا ہے، اور يہ معلوم ہے اس كو اذن نہيں " انتہى.

ديكھيں: المغنى ابن قدامہ ( 3 / 95 ).

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments