91962: طلاق كى نيت سے شادى اور اس كے برے نتائج


ايك عورت كہتى ہے كہ اس نے بارہ سال پہلے شادى سے قبل اسلام قبول كيا تھا، اور وہ اپنے خاوند كى دوسرى بيوى ہے، اس كو يہ مشكل درپيش ہے كہ خاوند خفيہ طور پر تيسرى شادى كرنے كا عادى ہے، اور عادتا جس سے شادى كرتا ہے وہ غير مسلم ہوتى ہے، نہ تو وہ اس شادى كے بارہ ميں اسے بتاتا ہے اور نہ ہى اپنى پہلى بيوى كو، اور نہ ہى كسى رشتہ دار كے علم ميں لاتا ہے.
وہ تيسرى بيوى كے ساتھ ايك يا دو برس رہتا ہے اور پھر عليحدہ ہو جاتا ہے، اس كے بعد كسى اور عورت سے شادى كر ليتا ہے، اس نے دوسرى شادى كرنے كے بعد اب تك تين عورتوں سے شادى كى ہے، جب خاوند گھر سے ايك يا دو ہفتہ غائب رہتا اور كسى كو بتائے بغير باہر سفر پر جاتا ہے تو بيوى كو اس كى شادى كا علم ہو جاتا ہے، ليكن بعد ميں وہ سب سے انكار كر ديتا ہے كہ وہ كسى دوسرى عورت كے ساتھ تھا.
اس عورت كا كہنا ہے كہ بعض علماء كرام كا كہنا ہے: يہ خفيہ شادى حلال ہے، وہ كہتى ہے كہ: يہ كيسے ہو سكتا ہے كيونكہ اس طرح تو خاوند كو بہت زيادہ جھوٹ بولنا پڑتا ہے اور بيوياں پريشان ہوتى ہيں ؟
كيا بيوى كا يہ حق نہيں كہ اسے علم ہونا چاہيے كہ اس كے خاوند كى كتنى بيوياں ہيں، اور اس كا خاوند اس كے پاس كب آئيگا ؟
يہ عورت كہتى ہے كہ جب اس كے پاس تيسرى بيوى نہ ہو تو معاملات سب اچھے رہتے ہيں، اور اس وقت خاوند بڑا لطف والا ہوتا ہے، اور دونوں بيويوں كے مابين عدل كرتا ہے، ليكن جب تيسرى شادى كر ليتا ہے تو اس كى حالت تبديل ہو جاتى ہے.
يہ عورت كہتى ہے كہ اس طرح كى شادى كو حلال كہنے كے قول نے مردوں كو ايسا قدم اٹھانے اور انہيں بيويوں سے جھوٹ بولنے اور عدل نہ كرنے پر تيار كيا ہے، تو اس طرح ان كى ازدواجى زندگى خراب ہو كر رہ جاتى ہے.

الحمد للہ:

اول:

خاوند پر واجب نہيں كہ وہ اپنى بيويوں كو بتائے كہ وہ اور شادى كريگا، ليكن اگر شادى كر لے تو پھر اسے بتانا واجب ہے؛ كيونكہ بيويوں كو شادى كے بارہ ميں نہ بتانے سے وہ سوء ظن اختيار كر كے سمجھيں گى كہ اس كے كسى سے غلط تعلقات ہيں؛ اور اس ليے بھى كہ بيويوں كو تقسيم ميں عدل كا مطالبہ كرنے كا حق حاصل ہے.

اور يہ اسى صورت ميں ہو سكتا ہے جب انہيں علم ہو كہ ان كے علاوہ اور بھى بيوى ہے، اور نئى بيوى كو بھى پہلى بيويوں جيسا ہى حق حاصل ہے.

دوم:

خاوند پر واجب ہے كہ وہ اللہ كا ڈر اور تقوى اختيار كرتے ہوئے اپنى بيويوں كے مابين عدل و انصاف كرے، اور بيويوں ميں جو عدل كرنا واجب ہے وہ نان و نفقہ اور رہائش اور رات بسر كرنے ميں ہوگا.

شيخ صالح الفوزان حفظہ اللہ كہتے ہيں:

" لازمى تقسيم ميں رات بسر كرنے كى تقسيم شامل ہے، جى ہاں آپ پر واجب ہے كہ آپ دونوں بيويوں كے مابين بارى تقسيم كريں، اور اسى طرح نان و نفقہ اور رہائش اور لباس ميں عدل اور برابرى كرنا واجب ہے، كہ ہر بيوى كو كھانا پينا اور رہائش اور لباس فراہم كيا جائے تو اسے كافى ہو، اور اسى طرح آپ پر رات بسر كرنے كى بارى بھى بيويوں ميں تقسيم كرنا واجب ہے، يہى وہ عدل واجب ہے جس كا اللہ سبحانہ و تعالى نے حكم ديتے ہوئے فرمايا ہے:

{ عورتوں ميں سے جو بھى تمہيں اچھى لگيں ان سے نكاح كر لو، دو دو اور تين تين، اور چار چار، اور اگر تم عدل نہ كر سكنے كا ڈر ركھو تو پھر ايك ہى كافى ہے }النساء ( 3 ).

ايك سے زائد بيوياں ركھنے والے كے ليے يہ عدل مشروط ہے.

ديكھيں: المنتقى من فتاوى الشيخ الفوزان ( 5 ) سوال نمبر ( 384 ).

مزيد تفصيل ديكھنے كے ليے آپ سوال نمبر ( 10091 ) كے جواب كا مطالعہ كريں.

سوم:

مردوں پر واجب ہے كہ وہ عورتوں كے بارہ ميں اللہ كا تقوى اور ڈر اختيار كريں، اور يہ علم ميں ركھيں كہ لوگ ان كے ظاہرى دين اور سنت پر عمل پر بھروسہ كرتے ہيں، اور جب ان ميں كوئى شخص كسى عورت كا رشتہ طلب كرتا ہے تو اسے اس كے ظاہرى دين اور استقامت پر اسے وہ رشتہ ديا جاتا ہے.

اس ليے اسے ان ظاہرى شعار كو لوگوں كى عزت كے ساتھ كھيلنے كى فرصت اور موقع نہيں بنانا چاہيے، كہ وہ لوگوں كى بيٹياں لے اور اپنى خواہش پورى كرنے كے بعد انہيں چھوڑ دے اسے بچ كر رہنا چاہيے كہ كہيں وہ ان ميں سے كسى عورت كے ارتداد يا پھر بيمارى يا سلوك ميں انحراف كا باعث اور سبب نہ بن جائے.

ہمارے خيال ميں ان ميں سے كوئى بھى شخص اس پر راضى نہيں ہوگا كہ اس كى بيٹى يا بہن كے ساتھ ايسا سلوك كيا جائے، تو پھر وہ لوگوں كى بيٹيوں كے ساتھ ايسا كرنے پر كس طرح راضى ہوتا ہے ؟

اور اسے اس سے بھى اجتناب كرنا چاہيے كہ وہ لوگوں كى كمزورى اور ضرورت سے فائدہ اٹھائے اور ان كے سامنے مال پيش كر كے عورت كے خاندان كو دھوكہ دے؛ كيونكہ يہ مروت اور اخلاق كے منافى ہے، ہم نہيں سمجھتے كہ يہ لوگ اونچے طبقے كے افراد كى بيٹيوں يا پھر اپنے چچا يا رشتہ دار كى بيٹيوں كے ساتھ ايسا كر سكتے ہيں.

اور اگر شرعى شادى ہو ليكن پھر دونوں ميں نباہ نہ ہو سكے اور خاوند اپنى بيوى كو طلاق دے دے تو ہم اس كا انكار نہيں كريں گے، ليكن صرف شادى كى ہى اسى ليے جائے كہ اپنى شہوت پورى كرنے كى وجہ سے كچھ مدت بعد عورت تبديل كرنے كا عزم ہو تو يہ كھلواڑ ہے جسے شريعت اسلاميہ نہ تو پسند كرتى ہے اور نہ ہى اس كى اجازت ديتى ہے، اور يہ نكاح متعہ يا پھر متعہ كے مشابہ ہے.

اس ليے آپ ديكھيں گے كہ يہ لوگ دين والى عورت كى حرص نہيں ركھتے، بلكہ عورت كى خوبصورتى كى بنا پر شادى كرينگے چاہے اس كى عدت بھى ختم نہ ہوئى ہو! اور چاہے وہ فسق و فجور ميں مشہور ہو، وہ اس كے ساتھ ہوٹل ميں تين دن تك اپنى شہوت پورى كرتا ہے، اس سے يہ لازم نہيں آتا كہ يہ كھلواڑ كرنے والا عورت كے دين يا شرف كو اہم سمجھتا ہے يہ عورت نہ تو ہميشہ اس كى بيوى رہےگى، اور نہ ہى اس كى اولاد كى ماں بنےگى! تو پھر اہتمام كيوں كرے ؟!

ذيل ميں ہم مستقل فتوى كميٹى كے علماء كرام كا فتوى پيش كرتے ہيں جو ان افعال كا رد كرتا اور اس طرح كى شادى كا حكم بيان كرتا ہے:

مستقل فتوى كميٹى كے علماء كرام سے دريافت كيا گيا:

طلاق كى نيت سے شادى كرنے كے ليے ملك سے باہر جانا نوجوانوں ميں عام ہو چكا ہے، اور سفر ميں شادى كو ہى ہدف بنايا جاتا ہے جو كہ بالخصوص ايك فتوى سے استلال كرتے ہيں، اور اكثر لوگ اس فتوى كو سمجھ نہيں سكے بلكہ اس ے غلط مراد ليتے ہيں، برائے مہربانى اس كے بارہ ميں حكم كيا ہے؟

كميٹى كے علماء كرام كا جواب تھا:

وقتى طور پر طلاق كى نيت سا پھر صرف وقتى طور پر شادى كرنا باطل ہے؛ كيونكہ يہ متعہ كہلاتا ہے، اور بالاجماع متعہ حرام ہے.

صحيح شادى يہ ہے كہ انسان زوجيت كو باقى ركھنے كى نيت سے شادى كرے، اور اس كو مستقل طور پر نبانا مراد ہو اور اگر اس سے بيوى اچھا سلوك كرتى ہو اور بيوى اس كے ليے مناسب ہو تو ٹھيك ہے، ليكن اگر مناسب نہ ہو تو اسے طلاق دے سكتا ہے.

اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

{ يا تو بيوى كو اچھائى سے ركھناہے، يا پھر عمدگى سے چھوڑنا ہے }البقرۃ ( 229 ).

اللہ سبحانہ و تعالى ہى توفيق دينے والا ہے، اور اللہ تعالى ہمارے نبى محمد صلى اللہ عليہ وسلم اور ان كى آل اور صحابہ كرام پر اپنى رحمتيں نازل فرمائے.

ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 18 / 448 - 449 ).

اور اہل علم ميں سے جس نے بھى اس كے جواز كا فتوى ديا ہے وہ تو ايسے شخص كے ليے ہے جو كسى دوسرے ملك ميں زيرتعليم ہو يا پھر ملازمت كے ليے گيا ہو اور اسے فحاشى ميں پڑنے كا خدشہ ہو تو يہ شخص شادى كرے چاہے وہ طلاق كى نيت ہى ركھتا ہو.

كيونكہ ہو سكتا ہے اللہ سبحانہ و تعالى انہيں اولاد سے نوازے تو وہ اولاد اور اس كى ماں سے محبت كرنے لگے، اور يہ بھى ہو سكتا ہے كہ اللہ سبحانہ و تعالى ان كے مابين حسن معاشرت پيدا فرما دے اور ان كى شادى مستقل ہو جائے.

اور يہ فتوى اس شخص كے ليے نہيں كہ صرف شادى كے ليے ہى ملك سے باہر جائے، اور نہ ہى يہ فتوى اس شخص كے ليے ہے جو دو راتوں كے ليے كسى دوسرے ملك جاتا ہے اور كسى ايك يا كئى ايك كنوارى لڑكيوں كى بكارت ضائع كر كے آجائے!

جو شخص كسى سفر ميں دو دن تك اپنے آپ پر كنٹرول نہيں كر سكتا ـ اس ميں بعض تو دعوتى يا خيرى عمل ہوتے ہيں ـ تو اس كے ليے اصلا سفر كرنا ہى حرام ہوگا، عقلمند شخص كو ديكھنا چاہيے كہ جو وہ فتوى دے رہا ہے اس كے فتوى كے نتائج اور اثرات كيا ہونگے، اور جو كر رہا ہے اس كے نتائج كيا حاصل ہونگے، اور اس كے اسلام پر كيا اثرات ہونگے كيونكہ دين اسلام كى دشمنان اسلام نے اتنى شكل نہيں بگاڑى جتنى اہل اسلام نے اپنے افعال اور اخلاق كے ذريعہ اسلام كى شكل بگاڑ كر ركھ دى ہے.

لہذا جس مسلمان كے ليے اللہ نے ايك يا ايك سے زائد بيوياں ميسر كى ہيں اسے اللہ سبحانہ و تعالى كا شكر كرن اور اللہ كى تعريف بجا لانى چاہيے، اور اسے چاہيے كہ وہ اپنى بيويوں اور ان كى اولاد كى ديكھ بھال كرے اور ان كا خيال ركھے اور ان كى طرف توجہ دے، تا كہ اولاد كى حقيقى طور پر اسلامى تعليم و تربيت كر سكے.

يہ نہيں كہ وہ اپنى بيويوں اور اولاد كو تعليم و تربيت كے بغير چھوڑ كر اس نعمت كى ناشكرى كرتا پھرے، اور زائل ہونے والى لذت كى تلاش ميں رہے نہ تو خاندان بنائے اور نہ ہى سعادت و خوشخبتى حاصل كرے، چہ جائيكہ وہ اپنے آپ اور اپنى بيويوں اور اولاد پر ظلم و ستم كرنا شروع كر دے.

شرعى طور پر شادى كرنے ميں كوئى مانع نہيں، اور پھر شريعت نے مرد كے ليے چار عورتوں سے شادى كرنا مباح كيا ہے، ليكن اسے يہ علم ہونا چاہيے كہ شريعت اسلاميہ نے اسے ترغيب دلائى ہے كہ وہ كسى دين والى عورت سے شادى كرے كيونكہ وہ اس كى عزت ہوگى اور اس كى اولاد كى ماں بنےگى اور اس عورت نے اس كے گھر اور مال كى حفاظت اور بچوں كى تربيت كرنى ہے.

اس ليے كسى بھى مسلمان شخص كے شايان شان اور لائق نہيں كہ وہ نكاح كے مقاصد اور حكمت اور احكام كو بھول جائے، اور اپنى شہوت كے پيچھے پڑ كر يہاں اور وہاں شہوت پورى كرتا پھرے، اور پھر مصيبت تو يہ ہے كہ وہ اپنے اس عمل كو اسلام كى طرف منسوب كرتا پھرے!!

اس خاوند كو جھوٹ جيسے فعل كے اثرات كو مدنظر ركھنا چاہيے اور سوچے كے اس كے جھوٹ بولنے اور بيويوں كو ان كے حقوق نہ دينے كے كيا اثرات مرتب ہونگے، اور اگر وہ بيويوں كے درميان عدل و انصاف نہيں كرتا تو پھر كيا نتيجہ نكلےگا، پھر وہ خود اپنے آپ ميں يہ بھى ديكھے كہ جس عورت كو وہ طلاق كى نيت سے شادى كے ليے اختيار كر رہا ہے وہ كيسى ہے.

اور اگر اس كا اختيار اچھا ہے تو پھر اسے يہ ديكھنا چاہيے كہ اس كا اس عورت اور اس كے خاندان والوں پر كيا اثر ہوگا، اور پھر اسے يہ بھى ديكھنا چاہيے كہ وہ ايك مسلمان شخص ہے اور وہ دين اسلام كے احكام اور اخلاق كا سفير ہے اور خاص كر جب معاملہ اس كى شكل و صورت اور ظاہرى استقامت كے ساتھ خاص ہو، تو پھر اس صورت ميں اس جيسے لوگوں پر عدم اعتماد اٹھنے كا باعث بنےگا، اور اگر حقوق ادا نہيں كرتا تو يہ اور بھى خطرناك بات ہے.

طلاق كى نيت سے شادى كے برے اثرات اور نتائج ہم تك پہنچے ہيں، جس سے ايك مسلمان شخص يہ يقين كر ليتا ہے كہ اگر اسے مباح قرار دينے والے علماء كرام كو بھى ان كچھ برے نتائج كى خبر ہو جائے تو ان پر لازم ہو جائے كہ وہ بھى اس سے منع كرنے لگيں، يا پھر كم از كم اس كو مباح قرار دينے سے ہى باز آ جائيں.

ان عورتوں نے جب ظاہرى طور پر استقامت ظاہر كرنے والوں سے شادى كى تو انہيں اپنى عزت و شرف ميں تہمت كا سامنا كرنا پڑا، اور جب اس شخص نے اس عورت كے كسى ہوٹل ميں اس سے اپنى خواہش پورى كر لى تو اسے باقى مانندہ رقم يا كچھ مال ديا اور ٹيكسى پر سوار ہو كر طلاق دے كر چلتا بنا!

ان عورتوں كے كچھ خاندان والوں نے اس ظاہرى استقامت والے شخص پر بھروسہ كيا اور بغير كسى رسمى عقد كے اپنى بيٹى اس كے سپرد كر دى كہ وہ اتھارٹى ليٹر كے ليے ذريعہ اپنے ملك ميں عقد كر لےگا، يا پھر اپنے ملك سے اجازت نامہ لانے كے بعد عقد كر لےگا!

ليكن پھر وہ اپنى شہوت پورى كر كے اس عورت كا كنوارا پن ختم كر كے اس كے گھر والوں كے سپرد كرتا ہوا اپنے ملك روانہ ہو جاتا ہے، حالانكہ اس نے تو كنوارى لى تھى! عقل و دانش ركھنے والو ذرا يہ تو غور كريں كہ اس عورت كے گھر والوں كا اپنے پڑوسيوں اور رشتہ داروں كے سامنے كيا موقف ہوگا؟

اور وہ انہيں كيا جواب ديں گے ؟ كيا عزت ايك كرائے كى گاڑى بن چكى ہے كہ مدت ختم ہونے كے بعد واپس كر دى جائے؟!

كيا ان لوگوں كو يہ ڈر اور خوف نہيں كہ اللہ سبحانہ و تعالى انہيں اس كى سزا ان كى بيٹيوں اور بہنوں ميں دےگا؟!

ان ميں سے كچھ عورتوں كو جب يہ علم ہوا ہے كہ اس خاوند كے ساتھ ان كى ( مدت ) ختم ہو چكى ہے، تو انہوں نے اس سے رابطہ كر كے كہا كہ وہ اسے طلاق مت دے، بلكہ اپنے ساتھ اپنے ملك لے جائے ـ جيسا كہ اس نے اسے باور كرايا تھا ـ چاہے وہ اسے اپنى بيوى بچوں كى خادمہ ہى ركھ لے! كيونكہ اگر وہ اپنے گھر جاتى ہے تو اسے رشتہ داروں اور پڑوسيوں كى جانب سے برى باتيں سننى پڑينگى، اور ہو سكتا ہے اسے قتل ہى كر ديا جائے!!

ليكن يہ ظاہرى طور پر استقامت اختيار كرنے والا شخص ان سب باتوں سے انكار كر ديتا ہے اور اس كے وسيلے اور رونے اور منتيں كرنے كو بھى نہيں سنتا.

اور ايك دوسرى عورت كى ( مدت ) ختم ہوگئى اور اسے اس كے خاوند نے طلاق دے دى اور اس عورت كے بھائى كو ٹيلى فون كيا كہ وہ اپنى بہن كو آ كر لے جائے! ليكن اس عورت كے سامنے اس كے علاوہ كوئى اور چارہ نہ رہا كہ وہ اپنى عزت و كرامت كو محفوظ كرنے كے ليے لوگوں كے سامنے دعوى كرے كہ اس كا خاوند ايكسيڈنٹ ميں فوت ہوگيا ہے، تا كہ وہ برى باتوں سے بچ جائے.

اللہ سبحانہ و تعالى ہى مدد كرنے والا ہے، اور اسى بھى بھروسہ ہے.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب
Create Comments