Fri 25 Jm2 1435 - 25 April 2014
92753

اندھے شخص سے پردہ نہ كرنا

كيا ميں نابينا شخص كے سامنے اپنا دوپٹہ اور نقاب اتار سكتى ہوں ؟

الحمد للہ:

عورت كے ليے نابينا آدمى كے سامنے اپنا نقاب يا دوپٹہ اتارنے ميں كوئى حرج نہيں.

فاطمہ بنت قيس رضى اللہ تعالى عنہا بيان كرتى ہيں كہ:

رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم انہيں حكم ديا كہ وہ ام شريك كے گھر اپنى عدت گزارے، ( اس ليے كہ ان كا خاوند فوت ہو گيا تھا ) پھر كہا يہ ايسى عورت ہے جہاں ميرے صحابى جاتى رہتے ہيں، تم ابن ام مكتوم كے پاس عدت گزارو، كيونكہ وہ نابينا ہے، تم اپنے كپڑے ( دوپٹہ ) سر سے اتارو گى "

صحيح مسلم حديث ( 1480 ).

اور ايك روايت ميں ہے:

" كيونكہ جب تم اپنا دوپٹہ اتارو گى تو آپ كو وہ نہيں ديكھےگا "

شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ سے درج ذيل سوال كيا گيا:

نابينا مدرس سے پردہ كرنے كا حكم كيسا ہے.

شيخ رحمہ اللہ كا جواب تھا:

" نابينا مدرس اوراستاد سے پردہ كرنا واجب نہيں، كيونكہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فاطمہ بن قيس رضى اللہ تعالى عنہا كو فرمايا تھا:

" تم ابن ام مكتوم كے گھر عدت گزارو، كيونكہ وہ نابينا آدمى ہے تم اس كے سامنے اپنا كپڑا اتار سكتى ہے " انتہى.

ديكھيں: فتاوى نور على الدرب فتاوى النساء ( 170 ).

اور شيخ صالح الفوزان كہتے ہيں:

" راجح ـ واللہ اعلم ـ يہى ہے كہ نابينا شخص سے عورت كے ليے پردہ واجب نہيں؛ يعنى نابينا شخص كى موجودگى ميں اپنا چہرہ چھپانا واجب نہيں " انتہى.

ديكھيں: المنتقى من فتاوى الفوزان ( 3 ) سوال نمبر ( 410 ).

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments