93208: غير شرعى قوانين كو استعمال كرتے ہوئے خاوند كو شادى نہ كرنے دينا


ايك باپرد مسلمان عورت كو خاوند نے طلاق كے الفاظ بول كر طلاق دے دى يہ عورت سويسرا ميں رہتى ہے، اس طلاق كے فورا بعد يہ عورت سويسرى عدالت ميں گئى اور خاوند سے عليحدگى طلب كر لى جس كى بنا پر خاوند كى آدھى سے زيادہ ماہانہ تنخواہ عورت كو ديے جانے كا فيصلہ ہوا.
يہ علم ميں رہے كہ يہ عورت ملازمت نہيں كرتى بلكہ اپنى چار برس كى بيٹى كى ديكھ بھال اور پرورش كر رہى ہے، يہاں سويسرى قانون كے مطابق يہ عدالتى فيصلہ طلاق نہيں، بلكہ طلاق تو خاوند اور بيوى كى رضامندى سے ہوتى ہے، يا پھر عليحدگى كى تاريخ سے دو برس پورے ہونے كى صورت ميں طلاق ہوگى.
اب عليحدگى كو ايك برس سے زائد ہو چكا ہے اور يہ عورت اپنے حق سے زائد حاصل كر رہى ہے، اور اب تك طلاق پر رضامند ہونے سے بھى انكار كرتى ہے تا كہ اس طرح وہ اپنے خاوند كو كسى اور عورت سے شادى كرنے سے روكے ركھے، سوال يہ ہے كہ:
ـ كيا اس بنا پر كہ ملكى قوانين كے مطابق فيصلہ كرانا ضرورى ہے جہاں ہم رہتے ہيں اور شرعى عدالت ميں نہ جانا صحيح ہے ؟
يہ علم ميں رہے كہ بچى كا خرچ تو اس كے والد كے ذمہ ہے تو كيا اس عورت كى عدت گزرنے كے بعد ايك برس سے بھى زائد ہو چكا ہے كے بعد بھى عورت كے اخراجات اور اس كى رہائش سابقہ خاوند كے ذمہ ہے، اور ان اخراجات كا وجوب كب ختم ہوتا ہے ؟
ـ اس عورت كا حكم كيا ہے جو خاوند كو دوسرى شادى سے روكنے كے ليے سويسرى قوانين كو استعمال كرے حالانكہ اسے ايك برس قبل طلاق بھى دے چكا ہے ؟

الحمد للہ:

غير شرعى قوانين سے فيصلے كرانا جائز نہيں كيونكہ اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

{ تيرے پروردگار كى قسم ہے يہ اس وقت تك مومن ہى نہيں ہو سكتے جب تك آپ كو اپنے سب اختلافات ميں حاكم نہ مان ليں، اور پھر آپ جو فيصلہ كر ديں اس كے متعلق اپنے دلوں ميں كوئى تنگى محسوس نہ كريں، اور اسے بالكل تسليم نہ كر ليں }النساء ( 65 ).

ابن كثير رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" اللہ سبحانہ و تعالى نے اپنے عزت والے مقدس نفس كى قسم اٹھائى ہے كہ يہ لوگ اس وقت تك مومن ہى نہيں ہو سكتے جب تك محمد صلى اللہ عليہ وسلم كو اپنے سب امور ميں فيصلہ كرنے والا تسليم نہ كر ليں، اور جو نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم فيصلہ كر ديں وہ حق ہے اسے تسليم كرنا اور اس كے سامنے ظاہرى اور باطنى طور پر سرتسليم خم كرنا واجب ہے اسى ليے اللہ سبحانہ و تعالى نے فرمايا ہے:

{ پھر آپ ان ميں جو فيصلہ كر ديں اسے پورى طرح تسليم كر ليں اور اپنے دلوں ميں كوئى تنگى محسوس نہ كريں }.

يعنى: جب آپ فيصلہ كريں تو وہ اپنے اندر اور باطن ميں بھى اس كى اطاعت كريں اور اپنے دلوں ميں آپ كے فيصلہ سے كسى بھى قسم كى تنگى محسوس نہ كريں، اور ظاہر ميں بھى اس كى اطاعت كريں، اور باطن ميں اسے مكمل طور پر غير كسى تنگى كے تسليم كريں، نہ تو اس كى مخالفت ہو اور نہ ہى مدافعت.

جيسا كہ حديث ميں وارد ہے:

" اس ذات كى قسم جس كے قبضہ ميں ميرى جان ہے تم ميں اس وقت تك كوئى مومن ہى نہيں ہو سكتا جب تك اس كى خواہش اس كے تابع نہ ہو جائے جو ميں لايا ہوں " انتہى

ديكھيں: تفسير ابن كثير ( 1 / 532 ).

اور شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" اس قسم كى " لا " كے ساتھ تاكيد ہے، اور اللہ كى ربوبيت كى اپنے بندوں كے ليے خاص قسم ہے ـ جو كہ اللہ كے رسول كے ليے اللہ كى ربوبيت ہے ـ اس پر قسم ہے كہ جو شخص ان امور پر قائم نہيں اس ميں ايمان ہى نہيں ہے:

اول:

رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كو اپنا فيصل و حاكم تسليم كرنا كيونكہ اللہ كا فرمان ہے: " حتى كہ وہ آپ كو اپنا فيصلہ كرنے والا مان ليں "

اس ليے جس نے بھى اللہ اور اس كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم كے علاوہ كسى اور كو اپنا فيصل مانا تو وہ مومن نہيں، يا تو وہ كافر ہے ملت اسلاميہ سے خارج كافر، يا پھر وہ كافر ہے ليكن يہ كفر دون كفر ہے.

دوسرا:

اس فيصلہ پر شرح صدر ہو يعنى شرح صدر سے فيصلہ تسليم كرے، وہ اس طرح كہ اپنے دلوں ميں نبى صلى اللہ عليہ وسلم كے فيصلہ پر كوئى تنگى و حرج محسوس نہ كريں، بلكہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے جو فيصلہ كيا ہے وہ اسے خوشى و دل سے تسليم كريں.

تيسرا:

وہ اسے مكمل اور پورى طرح تسليم كريں، اور اس كى مصدر سے تاكيد كى گئى ہے كہ مكمل اور پورى طرح تسليم كريں.

اس ليے ميرے مسلمان بھائى آپ اس سے بچيں كہ كہيں آپ سے ايمان كى نفى نہ ہو جائے " انتہى

ديكھيں: شرح الواسطيۃ ابن عثيمين ( 181 - 182 ).

سوال سے ظاہر ہوتا ہے كہ اس بہن ميں بہت خير و بھلائى ہے اور پردہ كا التزام كرنا اس خير كى علامت ہے، اس بہن پر واجب ہوتا ہے كہ وہ ايسے افراد سے رجوع كرے جو اسے طلاق دينے والے خاوند كے درميان شريعت مطہرہ كے مطابق فيصلہ كرے.

ايسے ممالك ميں جہاں غير شرعى قوانين ہيں اور شرعى عدالتيں نہيں وہاں اس پر كيسے عمل كيا جا سكتا ہے اس كے متعلق ہم سوال نمبر ( 4044 ) كے جواب ميں پورى تفصيل بيان كر چكے ہيں، اس ليے آپ اس كا مطالعہ كريں اس ميں ان شاء اللہ كفايت ہے.

رہا سوال ميں وارد شدہ مسائل كے متعلق جواب تو ہم گزارش كرتے ہيں:

اول:

خاوند كى جانب سے طلاق كے الفاظ بولنے كى بنا پر طلاق واقع ہو جاى ہے، اور اس كے ليے كسى شرعى حكم كى ضرورت نہيں، چہ جائيكہ غير شرعى قوانين كا سہارا ليا جائے جسے اللہ نے نازل نہيں كيا.

دوم:

كسى بھى شخص كو اللہ كى جانب سے اس كے ليے مباح كردہ چيز سے روكنے كے ليے غير شرعى قوانين كا سہارا لينا جائز نہيں، بلكہ ايسا كرنا ظلم و زيادتى ہے اس ليے اس بہن كو اللہ كا ڈر اور تقوى اخيتار كرنا چاہيے، اور اسے علم ہونا چاہيے كہ ظلم روز قيامت كے اندھيروں ميں سے ايك اندھيرا ہے.

سوم:

طلاق شدہ عورت كى عدت ختم ہونے كے بعد اسے كوئى نفقہ و اخراجات نہيں اور نہ ہى رہائش ہے.

ابن قدامہ رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" نفقہ اور رہائش تو اس عورت كے ليے واجب ہے جو رجعى طلاق والى ہو جب تك اس سے رجوع كرنا ممكن ہے " انتہى

ديكھيں: المغنى ( 7 / 145 ).

چہارم:

جب يہ علم ہو چكا كہ اس عورت كو نہ تو نفقہ ملےگا اور نہ ہى رہائش تو پھر غير شرعى قانون كى بنا پر جو كچھ وہ اس شخص سے لے رہى ہے اور وہ شخص اسے دينے پر راضى نہيں تو يہ حرام ہے.

كيونكہ اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

{ اے ايمان والو تم آپس ميں ايك دوسرے كا مال باطل طريقہ سے مت كھاؤ، الا يہ كہ وہ آپس ميں رضامندى كے ساتھ تجارت ہو }النساء ( 29 ).

اور اس ليے بھى كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" ہر مسلمان شخص كا دوسرے مسلمان پر اس كا خون بھى حرام ہے اور اس كا مال بھى اور اس كى عزت بھى حرام ہے "

اسے امام مسلم نے روايت كيا ہے.

اس ليے اس عورت كو چاہيے كہ اس نے جو كچھ ليا ہے وہ اسے واپس كر دے، يا پھر اس سے معاف كروائے.

پنجم:

سات برس كى عمر سے قبل بچى كى پرورش كا حق ماں كو ہے، ليكن شرط يہ ہے كہ جب ماں مسلمان ہو، اور امانتدار ہو اور جب تك وہ كسى دوسرے شخص سے شادى نہ كر لے.

امام ابن قدامہ رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" جب دونوں خاوند اور بيوى عليحدہ ہو جائيں اور ان كى اولاد بھى ہو يا پھر معذور بچہ ہو تو اس كى كفالت كے ليے ماں زيادہ حقدار ہے جب اس ماہ ميں شرائط پورى پائى جائيں، چاہے بچہ ہو يا بچى، يحي انصارى اور امام زھرى، ثورى، مالك، شافعى، ابو ثور، اسحاق، اور اصحاب الرائے كا يہى قول ہے، اس ميں ہميں كسى اختلاف كا علم نہيں " انتہى

ديكھيں: المغنى ( 8 / 190 ).

ششم:

اگر بچى ماں كى پرورش ميں ہے تو بچى كا نفقہ و اخراجات شرعى طور پر اس كے والد كے ذمہ ہے، اس كى دليل صحيح بخارى اور صحيح مسلم كى درج ذيل حديث ہے:

عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا بيان كرتى ہيں كہ ھند بن عتبہ رضى اللہ تعالى عنہا نے عرض كيا:

اے اللہ تعالى كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم ابو سفيان ايك كنجوس اور بخيل شخص ہے وہ مجھے اتنا مال نہيں ديتا جو ميرے اور ميرى اولاد كے ليے كافى ہو جائے، ليكن وہى ميں جو ميں اس كے علم كے بغير مال لے ليتى ہوں.

تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" تم اچھے طريقہ سے اتنا مال لے ليا كرو جو تمہيں اور تمہارى اولاد كو كافى ہو "

اس حديث ميں يہ بيان ہوا ہے كہ اولاد كا نفقہ باپ كے ذمہ واجب ہے، اور اس نفقہ كا اندازہ كفائت كے مطابق ہو گا، عورت كے ليے جائز نہيں كہ وہ كافى اخراجات سے زائد لے.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب
Create Comments