Sun 20 Jm2 1435 - 20 April 2014
96194

راجح قول كے مطابق تين طلاق كى ايك ہى واقع ہوگى

ميرے ايك دوست نے اپنى بيوى كو غصہ كى حالت ميں طلاق دے دى، اس نے اسے ايك ہى بارہ تين طلاقيں ديں، ليكن ميں نے انٹرنيٹ پر پڑھا ہے كہ تين طلاقيں ايك ہى شمار ہوتى ہے، كيا يہ بات صحيح ہے كہ ايك مجلس كى تين طلاقيں ايك ہى شمار ہو گى، اور ميں نے غصہ كى بھى تين قسميں پڑھى ہيں كيا يہ بھى صحيح ہے ؟

الحمد للہ:

اول:

تين طلاق كے مسئلہ ميں فقھاء كا اختلاف ہے، اور راجح يہى ہے كہ يہ ايك طلاق ہى شمار كى جائيگى، چاہے ايك ہى كلمہ ميں " تجھے تين طلاق " كہا جائے، يا پھر عليحدہ عليحدہ مثلا " تجھے طلاق، تجھے طلاق، تجھے طلاق " شيخ الاسلام ابن تيميہ رحمہ اللہ نے اسے ہى اختيار كيا ہے، اور شيخ سعدى اور شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ نے اسے راجح قرار ديا ہے.

انہوں نے ابن عباس رضى اللہ تعالى عنہما كى اس حديث سے استدلال كيا ہے، وہ بيان كرتے ہيں كہ:

" نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے عہد مبارك ميں اور ابو بكر رضى اللہ تعالى عنہ كى خلافت ميں، اور عمر رضى اللہ تعالى عنہ كى خلافت كے دو برس ميں تين طلاقيں ايك ہى شمار كى جاتى رہى، چنانچہ عمر رضى اللہ تعالى عنہ كہنے لگے: لوگوں نے اس معاملہ ميں جلدبازى كى ہے جس ميں ان كے ليے وسعت تھى اس ليے اگر ہم اسے جارى كر ديں تو انہوں نے اسے ان پرجارى كر ديا "

صحيح مسلم حديث نمبر ( 1472 ).

دوم:

غصہ كى حالت ميں طلاق دينے والے كى تين حالتيں ہيں:

پہلى حالت:

غصہ تھوڑا سا ہو كہ وہ اس كے ارادہ و اختيار پر اثرانداز نہ ہو تو اس كى طلاق صحيح اور واقع ہوگى.

دوسرى حالت:

اگر غصہ اتنا شديد ہو كہ پتہ ہى نہ چلے وہ كيا كہہ رہا ہے اور اسے شعور ہى نہ رہے تو اس حالت ميں دى گئى طلاق واقع نہيں ہو گى كيونكہ يہ پاگل و مجنون كى طرح ہے جس كے قوال كو نہيں ليا جائيگا.

ان دونوں حالتوں كے حكم ميں علماء كرام كا كوئى اختلاف نہيں.

تيسرى حالت:

اتنا شديد غصہ كہ آدمى كے ارادہ پر اثرانداز ہو اور وہ ايسى كلام كرنے لگے گويا كہ اسے اس كلام پرمجبور كيا جا رہا ہے پھر كچھ ہى دير ميں غصہ زائل ہونے پر وہ اس پر نادم ہو ليكن يہ غصہ اس حديث تك نہ پہنچا ہو كہ اس احساس و شعور اور ادراك ہى ختم ہو جائے، اور اپنے قول و فعل پر كنٹرول نہ كر سكے.

تو غصہ كى اس قسم كے حكم ميں علماء كا اختلاف پايا جاتا ہے، اور راجح يہى ہے جيسا كہ شيخ ابن باز رحمہ اللہ كا كہنا ہے كہ اس ميں بھى طلاق واقع نہيں ہوگى.

كيونكہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" مدہوشى كى حالت ميں نہ تو طلاق ہے اور نہ ہى آزاد كرنا "

سنن ابن ماجہ حديث نمبر ( 2046 ) علامہ البانى رحمہ اللہ نے ارواء الغليل ( 2047 ) ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.

علماء كرام نے " الاغلاق " كى شرح كرتے ہوئے كہا ہے كہ اس كا معنى جبر اور شديد غصہ ہے.

شيخ الاسلام ابن تيميہ اور ان كے شاگرد ابن قيم نے بھى يہى قول اختيار كيا ہے، اور اس ميں " اغاثۃ اللھفان فى حكم طلاق الغضبان " كے نام سے ايك مشہور كتابچہ بھى تاليف كيا ہے.

مزيد آپ سوال نمبر ( 45174 ) كے جواب كا بھى مطالعہ كريں.

اس قول كى بنا پر اگر آپ كے دوست نے شديد غصہ كى حالت ميں طلاق كى طلام كى تو يہ طلاق واقع نہيں ہوئى، اور اگر اس كا غصہ اتنا شديد نہ تھا بكلہ تھوڑا سا تھا تو ايك طلاق واقع ہو چكى ہے.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments