Wed 23 Jm2 1435 - 23 April 2014
99863

دوسرے علاقے ميں عورت سے منگنى كرنا چاہتا ہے كيا وہ عورت كى تصوير طلب كرے يا نہ ؟

اگر مرد اور عورت عليحدہ عليحدہ ملك ميں رہتے ہوں تو پھر عورت كو كيسے ديكھا جائے، كيونكہ ميں وہاں نہيں جا سكتا كيا تصوير طلب كى لى جائے ؟

الحمد للہ:

جب كوئى شخص كسى عورت سے منگنى كا عزم ركھتا تو اس كے ليے وہ كچھ ديكھنا جائز ہے جس سے اسے اس عورت كے ساتھ نكاح ميں رغبت پيدا ہو؛ اس كى دليل ابو داود كى درج ذيل حديث ہے:

جابر بن عبد اللہ رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" جب تم ميں سے كوئى شخص كسى عورت كا رشتہ طلب كرے تو اگر وہ عورت كا ديكھ سكے جو اسے نكاح كى دعوت دے تو اسے ديكھنا چاہيے.

جابر رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ ميں نے ايك لڑكى سے منگنى كى تو ميں اسے چھپ كر ديكھا كرتا تھا حتى كہ ميں نے اس سے وہ كچھ ديكھا جس نے مجھے اس سے نكاح كى دعوت دى تو ميں نے اس سے شادى كر لى "

سنن ابو داود حديث نمبر ( 2082 ) علامہ البانى رحمہ اللہ نے اسے صحيح ابو داود ميں صحيح قرار ديا ہے.

عورت كو ديكھنے كے قواعد و ضوابط ديكھنے كے ليے آپ سوال نمبر ( 2572 ) كے جواب كا مطالعہ كريں.

اگر آپ اپنى منگيتر كو ديكھنے گے ليے وہاں نہيں جا سكتے تو آپ كے ليے اس كى تصوير ديكھنا ممكن ہے، يہ علم ميں رہے كہ تصوير مكمل طور پر حقيقت واضح نہيں كرتى، بعض اوقات تصوير ميں عورت حقيقت سے ہٹ كر زيادہ خوبصورت لگتى ہے، اور اس كے برعكس بھى ہو سكتا ہے كہ اصل ميں عورت خوبصورت ہو ليكن تصوير ميں ايسى نہ دكھائى دے.

ليكن تصوير ديكھنے كے بعد آپ كے ليے لازم اورضرورى ہے كہ آپ اس تصوير كو اپنے پاس مت ركھيں بلكہ ضائع كر ديں، اسى طرح يہ بھى ضرورى ہے كہ يہ تصوير كوئى اور مت ديكھے.

آپ اس كے دين اور حالت كے متعلق باز پرس كر لينے اور اس سے نكاح كى رغبت كے حصول كے بعد ہى تصوير كا مطالبہ كريں، اور پھر آپ كا ظن غالب يہ ہو كہ آپ اسے قبول كر ليں گے تو پھر تصوير ديكھنے كا مطالبہ كريں، اس ليے جب سب كچھ طے ہو جائے اور صرف ديكھنا باقى رہے تو پھر آپ تصوير كا مطالبہ كريں اس سے قبل نہيں؛ اس كى دليل مسند احمد اور سنن ابن ماجہ كى درج ذيل حديث ہے:

محمد بن مسلمہ رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ ميں نے ايك عورت سے منگنى كى تو ميں اسے چھپ كر ديكھا كرتا تھا حتى كہ ميں نے اسے اس كے كھجور كے باغ ميں ديكھ ليا تو انہيں كہا گيا:

تم صحابى رسول صلى اللہ عليہ وسلم ہو كر ايسا كام كرتے ہو؟

چنانچہ انہوں نے جواب ديا ميں نے رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كو فرماتے ہوئے سنا:

" اگر اللہ تعالى كسى شخص كے دل ميں كسى عورت سے منگنى كرنے كا ڈال دے تو پھر اسے ديكھنے ميں كوئى حرج نہيں "

مسند احمد حديث نمبر ( 18005 ) سن ابن ماجہ حديث نمبر ( 1864 ) علامہ البانى رحمہ اللہ نے صحيح ابن ماجہ ميں اس حديث كو صحيح قرار ديا ہے.

امام نووى رحمہ اللہ كہتے ہيں:

جب عورت كے نكاح ميں رغبت ہو جائے تو پھر اسے ديكھنا مستحب ہے تا كہ بعد ميں ندامت كا سامنا نہ كرنا پڑے اور ايك قول كے مطابق ديكھنا مستحب نہيں بلكہ مباح ہے، ليكن احاديث كى بنا پر صحيح يہى ہے كہ ديكھنا مستحب ہے.

اور تكرار كے ساتھ نظر دوڑانا جائز ہے تا كہ ہيئت واضح ہو جائے، چاہے اس كى اجازت سے ديكھا جائے يا پھر عورت كى اجازت كے بغير ديكھا جائے برابر ہے، ليكن اگر اسے ديكھنا ممكن نہ ہو تو پھر كوئى عورت بھيج كر اس كے اوصاف معلوم كيے جائيں جو بغور ديكھ كر اوصاف بيان كرے " انتہى

ديكھيں: روضۃ الطالبين ( 7 / 19 ).

منگيتر يا اس كى تصوير ديكھنے كے كچھ اصول و ضوابط ہيں كہ شہوت انگيزى كا خدشہ نہ ہو، بلكہ وہ بغير لذت كے اسے ديكھے.

مطالب اولى النھى ميں ہے:

" اگر عورت سے منگنى كرنے والا شخص شہوت انگيزى سے امن ميں ہو اور خلوت كے بغير ہو، ليكن اگر خلوت ہو يا پھر شہوت انگيزى كے ساتھ ہو تو جائز نہيں " انتہى

ديكھيں: مطالب اولى النھى ( 5 / 12 ).

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments