ar

107051: وہ حمل جس كے وضع ہونے سے عدت ختم ہو جاتى ہے


سوال نمبر ( 106328 ) كے جواب ميں آپ نے يہ بتايا ہے كہ طلاق واقع نہيں ہوئى، كيونكہ يہ طلاق اس طہر ميں ہوئى جس ميں ميں نے اپنى بيوى سے جماع كيا تھا، ليكن طلاق كے ايك ماہ بعد مجھے علم ہوا كہ بيوى تو حاملہ ہے، اور حمل دو ماہ كا ہونے سے قبل ہى ساقط ہو گيا، مجھے اور بيوى كو حمل كا علم ہى طلاق كے بعد ہوا تھا، كيا طلاق واقع ہوئى ہے يا نہيں ؟

Published Date: 2010-06-07

الحمد للہ:

اول:

اگر طلاق حمل كى حالت ميں دى گئى ہو تو طلاق واقع ہو جاتى ہے چاہے خاوند اور بيوى كو حمل كا علم نہ بھى ہو، ليكن اگر طلاق ميں يہ شك پيدا ہو جائے كہ آيا يہ حمل ميں ہوئى يا كہ حمل سے قبل، تو اصل يہى ہے كہ حمل نہ تھا، اس ليے جو قول بيان ہو چكا ہے اس كے مطابق طلاق واقع نہيں ہوگى، وہ قول يہ ہے كہ: اگر طلاق اس طہر ميں دى گئى ہو جس ميں آدمى نے بيوى سے جماع كيا ہو تو يہ طلاق واقع نہيں ہوتى.

دوم:

جب يہ يقين ہو جائے كہ طلاق كے الفاظ بولتے وقت حمل تھا تو طلاق واقع ہو جائيگى.

سوم:

حاملہ عورت كى عدت وضع حمل تك ہوتى ہے، اگر وہ حمل ساقط ہو جائے، اور يہ واضح ہو جائے كہ اس ميں انسان كى خلقت ہو چكى تھى كہ بچے كا سر يا ہاتھ يا پاؤں بن چكا تھا تو يہ حمل ساقط ہونے كى صورت ميں عدت ختم ہو جائيگى، اور آدمى اپنى بيوى سے رجوع نہيں كر سكتا، ليكن نيا نكاح نئے مہر كے ساتھ ہو سكتا ہے.

كشاف القناع ميں درج ہے:

" جس حمل كے وضع ہونے سے عدت ختم ہو جاتى ہے وہ ہو گا جس ميں انسان كا سر يا پاؤں بن چكا ہو، تو بالاجماع اس سے عدت ختم ہو جائيگى، اسے ابن منذر رحمہ اللہ نے بيان كيا ہے كيونكہ معلوم ہو چكا ہے كہ يہ حمل تھا اس ليے يہ عمومى نصوص ميں داخل ہوگا....

ليكن اگر ايسا حمل وضع ہو جس ميں ابھى كچھ بھى واضح نہ ہوا ہو اور وہ صرف خون اور گوشت كا لوتھڑا ہى ہو اور خلقت واضح نہ ہوئى ہو تو ثقہ دائيوں نے گواہى دى ہو كہ اس ميں خفيہ صورت واضح ہو چكى تھى تو اس سے بھى عدت ختم ہو جائيگى؛ كيونكہ يہ حمل ہے اور عمومى نصوص ميں داخل ہے " انتہى بتصرف.

ديكھيں: كشاف القناع ( 5 / 413 ).

اور شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" اور كم از كم مدت جس ميں انسان كى خلقت واضح ہو جاتى ہے وہ حمل كى ابتدا سے اسى ( 80 ) يوم ہيں، اور غالبا نوے ( 90 ) يوم ہونگے " انتہى

ماخوذ از: پمفلٹ " احكام الدماء الطبيعيۃ "

جب آپ كى بيوى كا حمل دو ماہ بعد ساقط ہوا تھا تو اس سے عدت ختم نہيں ہوئى، بلكہ تين حيض عدت شمار كى جائيگى، اور آپ كو عدت كے اندر اندر بيوى سے رجوع كرنے كا حق حاصل ہے.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments