ar

110310: اگر بيوى خاوند كو ناپسند كرتى ہو تو كيا جنت ميں اس كا خاوند وہى ہوگا ؟!


اگر ميں اپنے خاوند كو ناپسند كرتى ہوں اور صرف اللہ كے ليے اپنے بچوں كى خاطر اس كى اذيت و تكليف پر صبر كروں تو كيا وہ جنت ميں بھى ميرا خاوند ہوگا ؟
كيونكہ دنيا فانى اور تھوڑے سے ايام اور زائل ہونے والى ہے، چاہے اس ميں جتنى بھى تبديلى ہو جائے ميں اسے جنت ميں اپنا خاوند نہيں بنانا چاہتى، برائے مہربانى يہ مت كہيں كہ وہ شخص جنت بھى ضرور ميرا خاوند بنےگا! برائے مہربانى ميرے سوال كا جواب ضرور ديں، اللہ تعالى آپ كو جزائے خير عطا فرمائے.

Published Date: 2013-05-01

الحمد للہ:

اول:

ہمارى دعا ہے كہ اللہ تعالى آپ كو خاوند كى جانب سے اذيت و تكليف پر صبر كرنے كا اجروثواب عطا فرمائے، اور يہ صبر و تحمل اخلاق عاليہ اور اچھى اصل كى دليل ہے.

ہمارى يہ بھى دعا ہے كہ اللہ تعالى آپ كے خاوند كو ہدايت دے اور اس كى اصلاح فرمائے، اور آپ كے ساتھ حسن معاشرت اور حسن سلوك ميں ممد و معاون ہو، اور اسے حسن سلوك كى جانب چلائے.

دوم:

اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

{ جن لوگوں نے اللہ تعالى كا چہرہ طلب كرنے كے ليے صبر كيا اور نماز قائم كى اور ہم نے جو رزق انہيں عطا كيا ہے اس ميں سے انہوں نے خفيہ اور اعلانيہ خرچ كيا، اور برائى كو اچھائى سے دور كرتے ہيں، انہيں لوگوں كے ليے بہتر انجام ہے، ہميشہ كى جنتوں ميں داخل ہونگے، اور ان كے آباء اور بيويوں اور اولاد ميں سے جن كے اعمال صالحہ ہوئے وہ بھى داخل ہونگے، اور فرشتے ان پر ہر دروازے سے داخل ہونگے، تم پر سلام ہو اس كے بدلے ميں جو تم نے صبر كيا سو اچھا ہے اس گھر كا انجام }الرعد ( 22 - 24 ).

حافظ ابن كثير رحمہ اللہ اس كى تفسير ميں لكھتے ہيں:

قولہ تعالى:

{ اور جو ان كے آباؤ و اجداد اور بيويوں اور اولاد ميں سے صالح ہو }.

يعنى اللہ تعالى انہيں اور ان كے آباء و اجداد اور اہل و عيال اور اولاد ميں سے جو بھى نيك و صالح ہونگے اورمومنين ميں سے جنت ميں داخل ہونے كے قابل ہونگے انہيں آپس ميں جمع كريگا؛ تا كہ انہيں ديكھ كر ان كى آنكھيں ٹھنڈى ہوں، حتى كہ ادنى درجہ كو اعلى درجہ ميں پہنچايا جائيگا، اور اعلى درجہ والے كو اس كے درجہ سے كم نہيں كيا جائيگا، بلكہ يہ اللہ سبحانہ و تعالى كى جانب سے بطور نعمت و احسان ہو گا.

ديكھيں: تفسير ابن كثير ( 4 / 451 ).

مزيد آپ سوال نمبر ( 5981 ) كے جواب كا مطالعہ ضرور كريں.

سوم:

ہمارى عزيز بہن آپ كو علم ہونا چاہيے كہ جنت ميں جب كوئى داخل ہوگا تو وہ اسى دنيا والى حالت ميں ہى داخل نہيں ہوگا، واضح اور بين نصوص سے ثابت ہے كہ جنت ميں وہ شخص داخل نہيں ہوگا جس كے دل ميں ذرا برابر بھى كھوٹ ہوگى، جنت ميں داخل ہونے والے ہر شخص كو ہر برائى اور شر سے پاك كر ديا جائيگا.

اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

{ اور ان كے سينوں ميں جو بھى كينہ ہے نكال ديں گے، بھائى بھائى بن كر تختوں ميں آمنے سامنے بيٹھے ہوں گے }الحجر ( 47 ).

امام ابن جرير طبرى رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" جن كى صفات بيان ہوئى ہيں ہم ان كے سينوں سے كينہ و حسد نكال ديں گے، اور اللہ نے بتايا ہے كہ وہ جنتى ہيں، دنيا ميں انكى جو آپس ميں دشمنى و عداوت تھى اسے ختم كر ديا جائيگا تو جب وہ جنت ميں داخل ہونگے تو ايك دوسرے كے سامنے تختوں پر بيٹھيں گے، ان ميں سے كوئى بھى كسى چيز ميں كسى سے حسد نہيں كريگا، اللہ تعالى نے كسى ايك كو جو خاص نعمت اور كرامت سے نوازا ہے اس ميں حسد نہيں ہوگا، ان كے نيچے سے نہريں جارى ہونگى.

ديكھيں: تفسير طبرى ( 12 / 437 - 438 ).

ابو سعيد خدرى رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" جب مومن آگ سے چھٹكارا حاصل كر ليں گے ت وانہيں جنت اور جہنم كے مابين قنطرہ پر روك ليا جائيگا، اور دنيا ميں ان كے آپس ميں جو ظلم ہونگے ان كا ايك دوسرے سے بدلہ ليا جائيگا، جب وہ صاف شفاف ہو جائيں گے تو انہيں جنت ميں داخل ہونے كى اجازت ملےگى، اس ذات كى قسم جس كے ہاتھ ميں محمد ( صلى اللہ عليہ وسلم ) كى جان ہے

صحيح بخارى حديث نمبر ( 2308 ).

حافظ ابن حجر عسقلانى رحمہ اللہ فتح البارى ميں اس حديث كى شرح كرتے ہوئے لكھتے ہيں:

" بقنطرۃ "

ظاہر يہى ہوتا ہے كہ يہ پل صراط پر جنت والى سائڈ ہے، اور يہ بھى احتمال ہے كہ پل صرات اور جنت كے مابين كوئى اور جگہ ہو.

قولہ: " قيتقاصون " صاد پر شد ہے جو يفاعلون كے وزن پر قصاص سے ہے، اس سے مراد يہ ہے كہ ايك دوسرے پر جو ظلم كيا تھا اسے تلاش كر كے ايك دوسرے كو معاف كر ديں گے.

قولہ: حتى اذا نقوا " نون پر پيش ہے، اور اس كے بعد قاف ہے اور يہ تنقيۃ سے مشتق ہے، اور مستملى ميں يہاں " تقصوا " يعنى تا پر زبر كے ساتھ ، اور قاف مشددہ ہے، يعنى ايك دوسرے سے قصاص مكمل كرليں گے.

قولہ: ھذبوا " يعنى جب ايك دوسرے سے قصاص لے كر گناہوں سے چھٹكارا حاصل كر ليں گے.

ديكھيں: فتح البارى ( 5 / 96 ).

اس ليے عزيز بہن آپ مطمئن رہيں، آپ كے خاوند كا وہ اخلاق نہيں رہےگا جو دنيا ميں تھا، اور نہ ہى تمہارى وہ حالت ہو گى جو آج آپ كى ہے، جس طرح آپ كا خاوند پاك صاف ہو كر مہذب بن جائيگا، اسى طرح آپ كے ساتھ بھى وہى كچھ ہو گا جب اللہ كا فيصلہ ہوا اور تم دونوں جنت ميں اكٹھے ہو گئے تو جنت ميں آپ لوگوں كا جمع ہونا دنيا ميں جمع ہونے جيسا نہيں ہوگا، بلكہ آپ ايسے اكٹھے ہونگے جس طرح آپ كا دل چاہےگا، اور آپ كو راحت حاصل ہوگى، اور جس سے آپ كى آنكھيں ٹھنڈى ہونگى.

اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

{ ان پر سونے كى پليٹيں اور گلاس گھمائے جائيں گے، اور اس جنت ميں ان كے ليے وہ كچھ ہوگا جو نفس چاہےگا، اور آنكھوں كى لذت ہوگى، اور تم اس ميں ہميشہ رہوگے } الزخرف ( 71 ).اور ايك دوسرے مقام پر فرمايا:

{ ہم دنيا كى زندگى ميں تمہارے ولى ہيں اور آخرت ميں بھى، اور تمہارے ليے اس ميں وہ كچھ ہوگا جو تمہارے دل چاہيں گے، اور تمہارے ليے اس ميں وہ ہوگا جو مانگو گے }فصلت ( 31 ).

اور ايك مقام پر ارشاد بارى تعالى ہے:

{ چنانچہ كوئى بھى نفس نہيں جانتا كہ اس كے ليے آنكھوں كى ٹھنڈك ميں سے كيا چھپايا گيا ہے، جو وہ عمل كرتے رہيں ہيں اس كا بدلہ }السجدہ ( 17 ).

اس ليے اللہ كى بندى آپ ايسے اور اعمال كريں جو آپ كو جنت تك پہنچائيں اور جن اعمال سے جنت ميں آپ كے درجات بلند ہوں، اور يہ يقين كر ليں كہ جنت ميں نہ تو كوئى تكليف ہو گى اور نہ ہى كوئى تھكاوٹ، اور نہ ہى اس ميں غم و پريشانى ہو گى.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب
Create Comments