ar

110591: اپنے ملك سے دور بيوى كا خاوند تبليغ كے ليے جاتا اور اس سے براس سلوك كرتا اور طلاق دينا چاہتا ہے


ميں آپ سے اپنى زندگى كى شقاوت و بدبختى كو خفيہ نہيں ركھنا چاہتى جس سے ميں گزر رہى ہوں، حتى كہ ميں تو دعا قبول ہونے سے بھى نااميد ہوگئى ہوں، ميں چار بچوں كى ماں اور ايك ايسے شخص كى بيوى ہوں جسے ميں پسند نہيں كرتى، ميں نے اس كے ساتھ بہت كوشش كى ليكن كوئى فائدہ نہيں ہوا.
ميں محسوس كرتى ہوں كہ ميرا عقيدہ بھى بہت متاثر ہو گيا ہے، ميرے خاوند كے ساتھ تعلقات لڑائى اور جھگڑے ميں تبديل ہو چكے ہيں، اور بالآخر ميرا خاوند يہ اعلان كرتا ہے كہ يہ چيز واجب نہيں، اور اللہ كى راہ ميں تبليغ كرنے نكل جاتا ہے كيونكہ يہ فرض عين ہے.
ہمارى زندگى جبر و ستم اور برے سلوك كى ايك كڑى بن چكى ہے، يہ سلسلہ صرف ميرے ساتھ ہى نہيں بلكہ اپنے بچوں پر بھى جبر كرتا ہے جو ابھى نابالغ ہيں انہيں نفلى روزے ركھنے پر مجبور كرتا ہے، ميں نے گيارہ برس تك بغير كسى زندگى ميں ٹھراؤ كے اپنے ملك سے دور صبر سے كام ليا ہے.
ميرے سارے بچوں نے سعودى عرب كى نيشنيلٹى حاصل كر لى ہے، ليكن ميرا خاوند مجھے سعودى عرب كى شہريت حاصل نہيں كرنے ديتا، ميرى زندگى لا يعنى سى بن كر رہ گئى ہے، اس نے فيصلہ كيا ہے كہ وہ مجھے لے كر ميرے ملك جائيگا اور پھر سوچے كہ ميرے بارہ ميں كيا كرنا ہے.
ميرى سوچ پر يہ حاوى ہے كہ اگر ميرا خاوند فوت ہو گيا تو ميں كيا كروں گى، ميرى جيسى بيوہ كے ساتھ كون شادى كرےگا ؟ ميرے بچوں كو محبت و پيار كون دےگا، اور ان كى ديكھ بھال كون كريگا ؟
ميں اپنے بچوں كو خرچ كيسے برداشت كرونگى جبكہ ميرى كوئى بہن بھى نہيں ہے، اور ميرا بھائى ابھى تك اپنے كفر پر قائم ہے، ليكن ميرے ماں باپ مسلمان تو ہيں اور وہ بھى دين كا التزام نہيں كرتے.
ميرے خاوند كے خاندان والے امريكہ ميں مكمل يورپى طرز كى زندگى بسر كر رہے ہيں، ميرا خاوند برے اخلاق كا مالك ہے، بہت زايادہ قيام كرتا اور روزے تو ركھتا ہے ليكن اخلاق اچھا نہيں، اور مجھے ہر دن زيادہ اختلافات كى طرف لے جا رہا ہے، اور لعنت اور كفريہ كلمات كى طرف دھكيل رہا ہے!
ميں اپنے آپ كو كيسے بچاؤں ؟ كيا كروں ؟ حتى كہ اگر ميں تھوڑى سى رقم حاصل كر لوں تو خاوند ميرے پاس نہيں رہنے ديتا، ميں اب بھى اس سے محبت تو كرتى ہوں ليكن پريشان اس ليے ہوں كہ اگر خاوند فوت ہو گيا تو كيا ہوگا ؟

Published Date: 2014-04-30

الحمد للہ:

اول:

خاوند كا دعوت و تبليغ ميں مشغول ہو كر اپنے بيوى بچوں كا خيال نہ كرنا اور ان كے حقوق كى ادائيگى نہ كرنے كے متعلق ہم درج ذيل سوالات كے جوابات ميں تفصيل بيان كر چكے ہيں آپ ان جوابات كا مطالعہ كريں:

سوال نمبر ( 6913 ) اور ( 3043 ) اور ( 23481 ).

دوم:

آپ نے سوال كے شروع ميں يہ كہا ہے كہ:

" حتى كہ ميں اپنى دعا كى قبوليت سے بھى نا اميد ہو چكى ہوں " !

يہ بات كہنى غلط اور شريعت اسلاميہ كے مخالف ہے، اللہ سبحانہ و تعالى مسلمان كى دعا قبول فرماتا ہے يا پھر قبول نہيں كرتا، اگر اس كى دعا قبول نہيں ہوتى تو اسے اپنے اندر اس كے اسباب كو تلاش كرنا چاہيے، كيونكہ ہو سكتا ہے اس كے اندر كوئى ايسا سبب پايا جاتا ہو جو دعا كى قبوليت ميں مانع ہو، مثلا حرام كھانا، اور حرام كا لباس زيب تن كرنا، اور گناہ كى دعا كرنا.

اس كى مزيد تفصيل كے ليے آپ سوال نمبر ( 5113 ) كے جواب كا مطالعہ ضرور كريں.

اور جب اللہ سبحانہ و تعالى اپنے بندے كى دعا قبول كرتا ہے تو پھر اس قبوليت كا يہ معنى نہيں كہ اس كا مطلوب پورا ہو كر رہے، بلكہ اس كے ساتھ دو چيزوں كا اضافہ كرنا چاہيے، يا تو جو اس نے مانگا وہ پورا ہوگا، يا پھر اس دعا كا اجروثواب روز قيامت كے ليے زخيرہ كر ليا جاتا ہے، اور دعا كے مطابق اس سے برائى دور كر دى جاتى ہے.

ابو سعيد رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" جو مسلمان بھى كوئى دعا كرتا ہے جس ميں كوئى گناہ نہ ہو اور نہ ہى قطع رحمى ہو، تو اللہ سبحانہ و تعالى اسے اس دعا كے بدلے تين چيزوں ميں سے ايك ضرور عطا كرتا ہے: يا تو جلد اس كى دعا قبول كر لى جاتى ہے، يا پھر اسے آخرت كے ليے زخيرہ كر ليا جاتا ہے، يا پھر اس سے اتنى ہى برى چيز كو دور كر ديا جاتا ہے.

صحابہ كرام نے عرض كيا: پھر تو ہم كثرت سے دعا كريں گے ؟

نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا: اللہ تو اس سے بھى زيادہ دينے والا ہے "

مسند احمد حديث نمبر ( 10749 ) علامہ البانى رحمہ اللہ نے صحيح الترغيب و الترھيب حديث نمبر ( 1633 ) ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.

اور پھر نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے دعا كى قبوليت سے نا اميد ہو جانے سے منع فرمايا ہے، اور بيان فرمايا كہ اس طرح كے شخص كى دعا قبول نہيں ہوتى، كيونكہ اس كى نا اميدى اسے دعا چھوڑنے كا باعث بن جاتى ہے، بلكہ دعا تو اس كى قبول ہوتى ہے جو بار بار دعا مانگتا ہے، اور آہ و زارى اور التجا كرتا ہے، اس كى دعا قبول نہيں ہوتى جو اپنے رب كو كہے قبول كرنى ہے تو ٹھيك وگرنہ نہيں، كيونكہ اللہ سبحانہ و تعالى تو اپنى مخلوق سے غنى و بےپرواہ ہے.

ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" بندے كى دعا اس وقت تك قبول ہوتى رہتى ہے جب تك وہ گناہ يا پھر قطع رحمى كى دعا نہيں كرتا جب وہ جلد بازى سے كام نہ لے.

رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے عرض كيا گيا: جلد بازى كيا ہے ؟

نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

بندہ كہتا ہے ميں نے بار بار دعا كى پھر دعا كى ليكن مجھے لگتا ہے كہ ميرى دعا قبول نہيں ہوگى تو نا اميد ہو كر دعا كرنا ہى چھوڑ ديتا ہے "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 5981 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 2735 ) مندرجہ بالا الفاظ مسلم كے ہيں.

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" اس حديث ميں دعا مانگنے كے آداب بيان ہوئے ہيں كہ اللہ سے مانگا جائے اور نااميد نہ ہوا جائے؛ كيونكہ ايسا كرنے ميں اللہ تعالى كے سامنے سرخم تسليم كرنا اور اس كى اطاعت اور اس كے سامنے عاجزى و انكسارى كا اظہار ہے.

حتى كہ بعض سلف رحمہ اللہ كا قول ہے:

مجھے دعا كى قبوليت سے محروم ہونے كى بجائے دعا سے محروم ہونے كا زيادہ ڈر ہے...

مومن كى دعا رد نہيں ہوتى، يا تو اسے جلد قبول كر ليا جاتا ہے، يا پھر اس سے اس جيسى كوئى برائى دور كر دى جاتى ہے يا پھر اس كے ليے اس سے بھى بہتر آخرت كے ليے زخيرہ كر ليا جاتا ہے.

داودى رحمہ اللہ نے بھى اسى طرف اشارہ كيا ہے، اور ابن الجوزى رحمہ اللہ اسى طرف اشارہ كرتے ہوئے كہتے ہيں:

" يہ علم ميں ركھيں كہ مومن كى دعا رد نہيں ہوتى، ليكن يہ ہے كہ اس كے ليے قبوليت ميں تاخير بہتر ہوتى ہے يا پھر اسے اس كے عوض ميں جلد ہى كوئى بہترى عطا كر دى جاتى ہے، يا دير ميں، اس ليے مومن كو اپنے پروردگار سے دعا مانگنا ترك نہيں كرنى چاہيے.

كيونكہ بندہ دعا كر كے اللہ كى عبادت كرتا ہے، جس طرح كہ بندہ تسليم كر كے اور اللہ كے سپرد كر كے اللہ كى عبادت كرتا ہے "

ديكھيں: فتح البارى ( 11 / 141 ).

سوم:

ہم نہيں جانتے اور نہ ہى ہميں سمجھ آ رہى ہے كہ ہم ايسے خاوندوں كى صفت كيسے بيان كريں جو اپنى بيوى اور بچوں كا خيال نہيں كرتے اور اللہ تعالى كى جانب سے ان كے مقرر كردہ حقوق كى ادائيگى نہيں كرتے، ہميں سمجھ نہيں آتى كہ انہوں نے اسلام كو كيا سمجھا ہے جس كى طرف يہ لوگوں كو اسلام پر چلنے كى دعوت دينے نكل كھڑے ہوتے ہيں.

حالانكہ اللہ سبحانہ و تعالى نے تو خاوندوں كو حكم ديا ہے كہ وہ اپنى بيوى اور بچوں كے ساتھ حسن سلوك كريں اور انہيں اللہ نے ان گردن پر امانت ركھا ہوا ہے، اور ان كے ليے خيرخواہى كو واجب قرار ديا ہے، اور بيوى بچوں كو جہنم كے عذاب سے بچانا واجب كيا ہے، اور پھر دوسروں كى بجائے انہيں دعوت دينا اولى و بہتر ہے.

ابتدائى طور پر اللہ سبحانہ و تعالى نے جو آيت اپنے رسول صلى اللہ عليہ وسلم پر نازل فرمائى وہ يہ تھى:

{ اور آپ اپنے قريبى رشتہ داروں كو ڈارئيں }الشعراء ( 214 ).

چنانچہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے اللہ سبحانہ و تعالى كے اس حكم كو بجالاتے ہوئے اپنے چچا ابو طالب كو اسلام كى دعوت دى، اور اسے سارى عمر دعوت ديتے رہے حتى كہ ابو طالب كى موت كے وقت بستر مرگ پر بھى نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے اسلام قبول كرنے كى دعوت دى پھر نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے اپنے چچا عباس اور پھوپھى صفيہ اور اپنى بيٹى فاطمہ رضى اللہ تعالى عنہم كو جمع كر كے انہيں دعوت دى، اور انہيں نصيحت فرمائى، اور انہيں روز قيامت اور حساب و كتاب ياد دلايا اور فرمايا كہ وہ روز قيامت ان كے كسى كام نہيں آ سكيں گے.

اسى طرح اپنى زوجہ خديجہ رضى اللہ تعالى عنہا كے ساتھ بھى كيا اور انہيں دعوت پيش كى تو زمين ميں سب سے پہلے اسلام قبول كرنے والى وہى خاتون تھيں.

اللہ كى راہ ميں دعوت و تبليغ كرنے والے شخص كو چاہيے كہ سب سے پہلے تو وہ اپنى نيت خالص كرے اور پھر اپنے عمل ميں متقن ہو يعنى مہارت سے كام كرے.

اخلاص ميں يہ شامل ہوتا ہے كہ وہ دعوت الى اللہ ميں اللہ سبحانہ و تعالى كى رضا و خوشنودى حاصل كرنے كى نيت ركھتا ہو.

اور مہارت يہ ہے كہ: سب سے پہلے دعوت كا كام اپنے گھر والوں سے شروع كرے، دوسروں سے نہيں بلكہ اپنے گھر سے ابتدا كرے، اور انہيں نصيحت كرنے اور ان كے ساتھ خير و بھلائى ميں كوئى كوتاہى مت كرے، اس ميں غلفت مت برتے اور نہ ہى وہ گھر كو چھوڑ كر لوگوں كو دعوت ديتا پھرے يا پھر دنياوى امور ميں مشغول رہے.

اور اگر اس كى بيوى اس كے گھريلو كام كاج كرتى اور اس كى اولاد كى تربيت و ديكھ بھال كرتى ہے تو وہ خاوند كو بہت ہى اہم پيغام دے رہى ہے، اور ايك بہت ہى اہم كام ميں خاوند كا ہاتھ بٹا رہى ہے، اس ليے وہ اس كى حفاظت كرے، چاہے بيوى اس كے گھر ميں اجنبى اور اپنے اہل عيال سے دور ہے خاوند پر واجب ہے كہ وہ اس كى خاص ديكھ بھال كرے اور اس كى كمزورى پر رحم كرے اور اس كى اجنبيت كا احساس ركھتے ہوئے اس كے ساتھ نرم برتاؤ كرے، اور اس پر جبر و ظلم و ستم مت كرے.

ہمارے پاس تو آپ كے خاوند كو اس كے ان اعمال پر اسے غلط كہنے كے علاوہ كچھ نہيں، اور ہم آپ كو صبر و تحمل كى نصيحت كرتے ہوئے كہتے ہيں كہ آپ اللہ سبحانہ و تعالى سے اپنے خاوند كى ہدايت كے ليے دعا كرتى رہيں، اميد ہے اللہ تعالى اس كى حالت كو بدل كر اسے اچھى حالت ميں كر دے.

اور آپ سے اميد ركھتے ہيں كہ آپ نااميد مت ہوں، اور يہ علم ركھيں كہ اللہ سبحانہ و تعالى تو اپنى مخلوق پر ايك رحمدل ماں جو اپنے بچے پر رحم كرتى ہے سے بھى زيادہ رحم كرنے والا ہے.

اور اگر طلاق بھى ہو جائے تو يہ دنيا كى انتہاء نہيں ہے كہ طلاق ہونے پر دنيا ختم ہو جائيگى، اور يہ ياد ركھيں كہ آپ كو روزى دينے والا خاوند نہيں كہ وہى آپ كو اور آپ كى اولاد كو روزى دے رہا ہے، بلكہ روزى تو اللہ ديتا ہے جو حي و زندہ ہے اسے موت كبھى نہيں آئيگى.

اور پھر اللہ سبحانہ و تعالى كے خزانے تو ختم ہونے والے نہيں، ہميں تو اللہ سبحانہ و تعالى نے بتايا ہے كہ ہو سكتا ہے طلاق كے ساتھ روزى ميں وسعت اور مشكل سے نجات ہو جائے.

اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

{ اور اگر وہ عليحدہ ہو جائيں تو اللہ سبحانہ و تعالى ہر ايك كو اپنے فضل و كرم سے غنى كر ديگا، اور اللہ تعالى بڑى وسعت والا حكمت ولا ہے }النساء ( 130 ).

طبرى رحمہ اللہ كہتے ہيں:

{ اللہ تعالى ہر ايك كو اپنى وسعت سے غنى كر ديگا }.

اللہ تعالى فرماتا ہے كہ اللہ تعالى خاوند اور طلاق يافتہ عورت دونوں كو اپنے فضل و كرم كى وسعت سے غنى كر ديگا اس عورت كو اس خاوند جس نے اسے طلاق دى سے بھى بہتر اور اچھا خاوند دے كر يا پھر وسيع روزى اور عفت و عصمت دے كر غنى كر ديگا.

اور اس مرد كو وسعت رزق دے كر اور اچھى بيوى دے كر جو طلاق يافتہ بيوى سے اچھى ہو يا پھر عفت و عصمت دے كر غنى كر ديگا.

{ اور اللہ تعالى بڑى وسعت والا ہے }.

يعنى: اللہ سبحانہ و تعالى ان دونوں كے ليے بڑى وسعت كرنے والا ہے، ان كے ليے اور دوسرى مخلوق كے رزق ميں وسعت كرنے والا ہے.

حكيما بڑى حكمت والا ہے.

اللہ نے ان دونوں كے مابين جو عليحدگى اور طلاق كا فيصلہ كيا ہے اس ميں بڑى حكمت پائى جاتى ہے، اس اور اس كے علاوہ دوسرى آيات ميں جو حكمت كے معانى ہم جان چكے ہيں اور دوسرے احكام اور اس كى تدبير اور مخلوق كے بارہ ميں فيصلوں كے اندر بڑى حكمت پائى جاتى ہے " انتہى

ديكھيں: تفسير طبرى ( 9 / 294 ).

بہت سارى عورتيں اس حقيقت سے غفلت ميں رہتى ہيں اور يہ گمان كرتى ہيں كہ طلاق سے اسے فقر وفاقہ حاصل ہوگا، يہ اعتقاد ميں خلل ہے اس سے اجتناب كرنا اور ايسے اعتقاد كو چھوڑنا واجب ہے، اسى طرح يہ واقع كے بھى مخالف ہے، جس طرح نكاح غنى كرنے كا باعث ہے اسى طرح طلاق ميں بھى ہو سكتا ہے.

چہارم:

ہميں جس چيز نے پريشان كيا اور قلق ميں ڈال ديا ہے وہ آپ كے ليٹر كا اختتام ہے كہ آپ نے بيان كيا ہے كہ آپ كا خاوند آپ كو كفريہ كلمات كہنے كى طرف لے جاتا ہے!

اگر تو يہ صرف خدشہ كى حد تك ہے كہ ہو سكتا ہے ايسے كلمات نكل جائيں تو خطرناك معاملہ ہے اس پر خاموشى اختيار كرنا حلال نہيں، آپ كو ايسے خاوند سے جتنى جلدى ہو سكے چھٹكارا حاصل كر لينا چاہيے جس كے بارہ احتمال ہے كہ وہ آپ كو كفريہ كلمات بولنے تك لے جائے.

ليكن اگر آپ ايسے واقعہ كے متلق بتا رہى ہيں جو ہو چكا ہے، يعنى آپ نے بالفعل كفريہ كلمات ادا كيے ہيں تو آپ كو علم ہونا چاہيے كہ آپ شر و برائى اور بڑے گناہ ميں پڑى ہيں جس كا آپ كے خاوند كى جانب سے صادر شدہ اشياء كے ساتھ مقارنہ اور موازنہ نہيں كيا جا سكتا.

كيونكہ بغير كسى جبر و اكراہ اور غلطى كے كہا گيا كلمہ اور الفاظ انسان كو دائرہ اسلام سے خارج كر ديتا ہے، اور اگر اسے اسى پر موت آ جائے اور وہ اپنے آپ كو توبہ كر كے نئے سرے سے اسلام ميں لا كر نہ بچائے تو وہ دائمى جہنم ميں رہےگا.

اس ليے اگر آپ سے ايسے الفاظ ادا نہيں ہوئے تو آپ ان سے شديد اجتناب كريں، اور اگر ادا ہو چكے ہيں تو يہ علم ركھيں كہ يہ اسلام سے ارتداد ہے اور ايسا كرنے سے سارے نيك و صالح اعمال تباہ ہو جاتے ہيں، اور عقد نكاح فسخ ہو جاتا ہے، الا يہ كہ آپ توبہ كرتے ہوئے نئے سرے سے اسلام ميں داخل ہو جائيں.

ہميں سب سے زيادہ خدشہ اور خطرہ يہى ہے كہ كہيں آپ نے ايسے الفاظ كہہ نہ ديے ہوں، كيونكہ عورت كو شيطان آہستہ آہستہ اس طرح كے امور كى طرف لے جاتا ہے، يا پھر زندگى كى مشكلات اسے كفريہ كلمات كى طرف دھكيل ديتى ہيں.

اور ہو سكتا ہے كہ خاوند ديكھے كہ بيوى دينى طور پر كمزور ہے، اور اس كا خيال نہيں كرتى تو وہ بھى اس سے بے رغبتى كرنے لگتا ہے، اور اس سے معاشرت كرنا صحيح نہيں سمجھتا.

اس كى مزيد تفصيل ديكھنے كےليے آپ سوال نمبر ( 42505 ) اور ( 65551 ) اور ( 103082 ) كے جوابات كا مطالعہ كريں.

اللہ كى بندى ہمارى نصيحت كا خلاصہ يہ ہے كہ:

ہر چيز سے پہلے تو آپ اپنے دينى معاملات ميں جو خلل ہے اسے پورا كريں، اور قبل اس كے كہ ندامت كا سامنا كرنا پڑے جس وقت ندامت كا بھى كوئى فائدہ نہ ہو آپ اپنى دينى خرابى كو صحيح كر ليں.

يونس بن جبير رحمہ اللہ كہتے ہيں:

ہم جندب بن عبد اللہ كے ساتھ چلے اور جب حصن المكاتب پہنچے تو ہم نے عرض كيا ہميں كوئى وصيت فرمائيں:

تو انہوں نے كہا:

ميں تمہيں اللہ كے تقوى كى وصيت كرتا ہوں، اور قرآن مجيد كى كيونكہ يہ سياہ رات كى روشنى اور دن كى راہنمائى و ہدايت ہے؛ اس پر عمل كرو چاہے جتنى بھى جدوجھد اور فاقہ اختيار كرنا پڑے، اور اگر كوئى آزمائش آ جائے تو آپ اپنى جان كى بجائے مالك كو پيش كريں، اگر تو آزمائش ختم ہو جائے تو ٹھيك، اور اگر نہ ختم ہو تو پھر آپ دين كے علاوہ اپنا مال اور جان پيش كريں، كيونكہ جس كے دين كے خلاف جنگ كى گئى تو محروب وہى ہے، اور جس كا دين سلب ہو جائے تو وہى شخص مسلوب كہلاتا ہے.

آگ كے بعد غنا نہيں، اور جنت كے بعد كوئى فاقہ نہيں آگ اپنے قيدى كو آزاد نہيں كرتى، اور اس كا فقير غنى نہيں ہو سكتا "

اسے امام احمد نے الزھد ( 202 ) ميں اور ابن ابى عاصم نے الآحاد و المثانى ( 2048 ) ميں اور امام بيھقى نے شعب الايمان ( 3 / 402 ) طبع مكتبہ الرشد ميں روايت كيا ہے اس كى سند صحيح ہے.

ہم آخر ميں آپ كو اللہ سبحانہ و تعالى كا يہ فرمان ياد دلاتے ہيں:

{ يقينا جو لوگ ايمان لائے اور نيك و صالح اعمال كيے عنقريب اللہ تعالى ان كے ليے محبت پيدا كر ديگا }مريم ( 96 ).

قتادہ رحمہ اللہ كہتے ہيں:

اللہ كى قسم اللہ تعالى اہل ايمان كے دل ميں ہے، ہميں بيان كيا گيا ہے كہ ھرم بن حيان رحمہ اللہ كہا كرتے تھے:

" جو بندہ بھى دل كے ساتھ اللہ كى طرف رجوع كرتا ہے تو اللہ تعالى مومنوں كے دل اس كى طرف پھير ديتا ہے، حتى كہ اسے ان كى محبت و مودت اور رحمدلى عطا كرتا ہے "

اسے طبرى نے قتادہ تك صحيح سند كے ساتھ تفسير طبر ( 18 / 262 ) ميں بيان كيا ہے.

شيخ سعدى رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" اللہ سبحانہ و تعالى كى اپنے ان بندوں پر نعمت ہے جو اپنے اندر ايمان اور عمل صالح جمع كرتے ہيں، اللہ نے ان سے وعدہ كيا ہے كہ وہ ان كے ليے مبحت پيدا كر ديگا، يعنى وہ آسمان و زمين ميں اپنے وليوں كے دلوں ميں اس كى محبت و مودت پيدا كريگا، اور جب ان كے دلوں ميں محبت ہوگى ت ان كے بہت سارے امو آسان ہو جائيں گے، اور انہيں خير و بھلائى اور دعوت و ارشاد اور قبوليت و امامت حاصل ہوگى.

اسى ليے صحيح حديث ميں آيا ہے كہ:

" جب اللہ تعالى كسى بندے سے محبت كرتا ہے تو جبريل كو فرماتا ہے ميں فلاں شخص سے محبت كرتا ہوں تم بھى اس سے محبت كرو، تو جبريل اس سے محبت كرنے لگتا ہے اور پھر آسمان والوں ميں منادى كى جاتى ہے:

" اللہ تعالى فلاں بندے سے محبت كرتا ہے تو تم اس سے محبت كرو، چنانچہ آسمان والے اس سے محبت كرنے لگتے ہيں پھر اس كے ليے زمين ميں قبوليت ركھ دى جاتى ہے، جب اللہ تعالى كسى بندے سے محبت كرتا ہے تو جبريل كو فرماتا ہے ميں فلاں شخص سے محبت كرتا ہوں تم بھى اس سے محبت كرو، تو جبريل اس سے محبت كرنے لگتا ہے اور پھر آسمان والوں ميں منادى كى جاتى ہے:

" اللہ تعالى فلاں بندے سے محبت كرتا ہے تو تم اس سے محبت كرو، چنانچہ آسمان والے اس سے محبت كرنے لگتے ہيں پھر اس كے ليے زمين ميں قبوليت ركھ دى جاتى ہے "

متفق عليہ.

اللہ تعالى نے ان كے ليےمحبت اس ليے پيدا كى كہ وہ اللہ سے محبت كرتے ہيں، اس ليے اللہ نے اپنے اولياء ميں بھى ان كى محبت پيدا كر دى " انتہى

ديكھيں: تفسير السعدى ( 501 ).

واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب
Create Comments