ar

115801: احاديث ميں نبى صلى اللہ عليہ وسلم كے كھانوں كى تفصيل نہيں


آپ سے گزارش ہے كہ درج ذيل نوٹ ميں نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے متعلق بيان كردہ اشياء كے متعلق بتائيں كہ يہ كہاں تك صحيح ہيں، اور اس كے متعلق احاديث سے دلائل ديں:
جب نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم جب نيند سے بيدار ہو كر نماز اور ذكر و اذكار سے فارغ ہوتے تو ايك گلاس پانى ميں ايك چمچ شہد اچھى طرح ملا كر نوش كرتے.
اور بيان كيا جاتا ہے كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:
" شہد كا شربت پيا كرو "
نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا ناشتہ:
جب شہد كا شربت پى كر فارغ ہوتے تو كچھ دير كے ليے سہارا ليتے، نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم جو عبادات كيا كرتے تھے يعنى اللہ كى اطاعت و فرمانبردارى ميں تفكر اور نماز چاشت كے بعد ايك گلاس دودھ ميں بھيگى ہوئى سات كھجور تناول فرماتے، جيسا كہ بيان كيا جاتا ہے.
سات كھجور كھانے كى تحديد ابو نعيم اور ابو داود كى روايت ميں موجود ہے نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:
" جو كوئى صبح كے وقت سات كھجوريں كھائے تو اسے اس روز نہ تو زہر نقصان ديگا اور نہ ہى جادو "
رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا دوپہر كا كھانا:
ناشتہ كرنے كے بعد نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم عصر كى نماز سے فارغ ہو كر ايك چمچ زيتون كا تيل اور اس ميں دو قطرے سركہ ملا كر جو كى روٹى سے كھاتے جو تقريبا ہتھيلى جتنى ہوتى.
نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا رات كا كھانا:
نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نماز عشاء اور نوافل اور وتر سے فارغ ہو كر نماز تہجد ادا كرنے سے قبل تيسرا كھانا رات كا كھانا تناول فرماتے، جس ميں دہى كے ساتھ جو كى روٹى ہوتى. ؟

Published Date: 2008-10-09

الحمد للہ:

نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى كھانے كى عادت كے متعلق بہت سارى احاديث وارد ہيں جن ميں نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا ايك معتدل طريقہ بيان ہوا ہے، نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نہ تو اسراف كرتے اور نہ ہى ضرر و نقصان كيونكہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم سب كے ليے رحمت بنا كر بھيجے گئے ہيں.

سوال ميں نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے كھانے كے متعلق درج ذيل اشياء وارد ہيں:

1 - شہد:

عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا بيان كرتى ہيں:

" رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم ميٹھا اور شہد پسند فرماتے تھے "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 5431 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 1474 ).

2 - كھجور:

سعد بن ابى وقاص رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں ميں نے رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كو يہ فرماتے ہوئے سنا:

" جو شخص صبح كے وقت سات عجوہ كھجور كھائے اسے اس دن زہر اور جادو نقصان نہيں ديگا "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 5445 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 2047 ).

اور نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" اے عائشہ جس گھر ميں كھجوريں نہ ہوں اس گھر والے بھوكے ہيں، اے عائشہ جس گھر ميں كھجوريں نہ ہوں اس گھر والے بھوكے ہيں "

صحيح مسلم حديث نمبر ( 2046 ).

بلكہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى اكثر خوراك تو كھجور ہوا كرتى تھي.

عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا بيان كرتى ہيں:

" ہم ايك چاند كا انتظار كرتے پھر دوسرے كا دو ماہ ميں تين چاند ديكھ ليتے اور رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے گھروں ميں آگ نہ جلائى جاتى "

ميں نے عرض كيا ـ يعنى عروۃ بن زبير ـ خالہ جان تو پھر آپ كى خوراك اور گزارا كس چيز پر ہوتا تھا ؟

تو عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا نے فرمايا: دو سياہ چيزوں پر، كھجور اور پانى، ليكن يہ ہے كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے انصار پڑوسي دودھ تحفہ ديتے تو ہم نوش كر ليا كرتے تھے "

متفق عليہ.

3 - سركہ:

عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا بيان كرتى ہيں نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" سركہ بہت اچھا سالن ہے، سركہ بہت اچھا سالن ہے "

صحيح مسلم حديث نمبر ( 2051 ).

4 - زيتون كا تيل:

ابو اسيد رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" زيتون كا تيل كھاؤ اور اسے اپنے جسم پر ملو، كيونكہ يہ بابركت درخت سے ہے "

سنن ترمذى حديث نمبر ( 1852 ) شواہد كى بنا پر علامہ البانى رحمہ اللہ نے السلسلۃ الاحاديث الصحيحۃ حديث نمبر ( 379 ) ميں اس حديث كو صحيح قرار ديا ہے.

5 - جو:

عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا بيان كرتى ہيں:

" نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى آل اور گھر والوں نے مسلسل دو دن تك سير ہو كر جو كى روٹى نہيں كھائى حتى كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم اس دنيا سے رخصت ہو گئے "

صحيح مسلم حديث نمبر ( 2970 ).

رہا دودھ تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم اس كا اكثر استعمال كرتے تھے، اور يہ فطرت ميں سے ہے جسے رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم اسراء و معراج كے موقع پر اختيار كيا تھا:

رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" تو ميں نے وہ پيالہ پكڑ ليا جس ميں دودھ تھا اور اسے پى ليا، تو مجھے كہا گيا آپ نے اور آپ كى امت نے فطرت كو پا ليا "

متفق عليہ.

سوال ميں وارد شدہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے كھانوں كا ماحاصل يہ ہے، ليكن سنت ميں وہ تفصيل وارد نہيں جس طرح سوال ميں بيان كى گئى ہے، اور اسے تين كھانوں ناشتہ، دوپہر كا كھانا اور رات كے كھانے ميں تقسيم كيا گيا ہے، يہ حديث ميں نہيں، بلكہ آپ صلى اللہ عليہ وسلم كى عادت ميں تو دو كھانوں سے زيادہ كھانے تناول كرنا شامل ہى نہيں.

عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا بيان كرتى ہيں:

" رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے گھر والوں نے ايك دن ميں دو كھانے نہيں كھائے مگر ان دو كھانوں ميں ايك كھانا كھجور ہوا كرتى تھى "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 6455 ).

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" اس حديث ميں يہ اشارہ ہے كہ ہو سكتا ہے انہوں نے دن ميں ايك كھانے ہى پايا ہو، اور اگر دو كھانے ملتے تو ان ميں ايك كھجور كا كھانا ہوتا " انتہى.

ديكھيں: فتح البارى ( 11 / 292 ).

اس ليے نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے كھانوں كے متعلق اس ترتيب سے جو كچھ سوال ميں بيان ہوا ہے اسے نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى طرف منسوب كرنا جائز نہيں، بلكہ ضرورى ہے كہ اسى پر اقتصار كيا جائے جو عام احاديث ميں نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے كھانے تناول كرنے ميں وارد ہيں.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments