ar

134256: لڑكى نے زنا كيا ولى اور منگيتر كو علم ہونے كے باوجود نكاح كے وقت كنوارى لكھنا


ميرى ايك قريبى رشتہ دار لڑكى نے ماضى ميں غلطى كر لى ليكن الحمد للہ اب توبہ كر چكى ہے، اور ايك با اخلاق اور دين والے شخص سے اس كى منگنى بھى طے ہو چكى ہے، جو كچھ ہوا اسے بتايا بھى گيا ہے اور اس نے اسے معاف كر ديا اور اللہ نے جو اس كى پردہ پوشى كر ركھى ہے اسے پورا كرنا چاہا.
ليكن يہاں ايك سوال پيدا ہوتا ہے كہ عقد نكاح كے وقت اگر ولى كہتا ہے كہ ميں نے اپنى كنوارى بيٹى كا تجھ سے نكاح كيا، يہ علم ميں رہے كہ ولى اور منگيتر دونوں ك واس واقعہ كا علم ہے، ليكن آپ جانتے ہيں كہ شادى كے وقت عرف ميں يہ كلمات كہے جاتے ہيں، تو كيا جب ولى يہ كلمات كہےگا اور خاوند كو بھى علم ہو تو كيا يہ شادى صحيح ہے يا باطل ؟

Published Date: 2011-02-16

الحمد للہ:

الحمد للہ اگر آپ كى قريبى رشتہ دار لڑكى اپنے گناہ سے توبہ كر چكى ہے تو اس پر لازم نہيں كہ وہ اس معاملہ كو اپنے منگيتر كے سامنے واضح كرے اور اسے بتائے، بلكہ اسے چاہيے تھا كہ اللہ سبحانہ وتعالى نے اس پر جو پردہ ڈال ركھا تھا اسے رہنے ديتى، اور اس كا بتانا لازم نہيں تھا، چاہے وہ دريافت بھى كرتا، جيسا كہ سوال نمبر ( 83093 ) كے جواب ميں بيان ہو چكا ہے.

اس ليے كہ اس نے بتا ديا ہے، اور خاوند علم ہونے كے باوجود كہ وہ كنوارى نہيں اس سے شادى كرنے پر موافق ہے تو پھر ولى كے ليے كنوارى وغيرہ كے الفاظ كہنے ميں كوئى حرج نہيں، اور اگر ولى جھوٹ بھى بولے تو اس ميں بہت بڑى مصلحت پائى جاتى ہے، اور وہ پردہ پوشى ہے، اور اس كا كسى پر بھى ضرر اور نقصان نہيں، لہذا اس اعتبار سے جائز ہوگا.

سنت نبويہ ميں تين مقام پر جھوٹ بولنے كى رخصت وارد ہے، جيسا كہ درج ذيل ترمذى اور ابو داود كى حديث ميں ہے:

اسماء بنت يزيد رضى اللہ تعالى عنہا بيان كرتى ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" تين جگہوں كے علاوہ جھوٹ حلال نہيں: آدمى اپنى بيوى كو راضى كرنے كے ليے بات كرے، اور جنگ ميں جھوٹ بولنا، اور لوگون كے مابين صلح كرانے كے ليے "

سنن ترمذى حديث نمبر ( 1939 ) سنن ابو داود حديث نمبر ( 4921 ) علامہ البانى رحمہ اللہ نے صحيح ترمذى ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.

اہل علم كى ايك جماعت كے ہاں يہ صريح جھوٹ پر محمول ہے، نہ كہ توريہ اور كنايہ پر، اور انہوں نے اس كے ساتھ اسے بھى ملحق كيا ہے جس كى ضرورت پيش آ جائے يا مصلحت ہو تو اس ميں بھى جھوٹ بولنا جائز ہے، چاہے اس ميں قسم بھى اٹھانى پڑے تو قسم اٹھا لے اس پر كوئى گناہ نہيں، ليكن اولى و بہتر يہ ہوگا كہ وہ توريہ اور كنايہ استعمال كرے.

امام نووى ر حمہ اللہ مسلم كى شرح ميں كہتے ہيں:

" قولہ صلى اللہ عليہ وسلم: " جنگ دھوكہ ہے.. "

حديث ميں تين مقام پر جھوٹ بولنے كا جواز پايا جاتا ہے ان ميں سےايك جنگ بھى ہے، طبرى رحمہ اللہ كا قول ہے: حقيقى جھوٹ كى بجائے جنگ ميں توريہ وغيرہ كرنا جائز ہے، كيونكہ حقيقى جھوٹ حلال نہيں، ان كى كلام يہى ہے.

اور ظاہر يہ ہوتا ہے كہ حقيقى جھوٹ بھى مباح ہے، ليكن توريہ پر انحصار كرنا افضل اور اعلى ہے, اللہ اعلم " انتہى

اور سفارينى رحمہ اللہ كا كہنا ہے:

" يہ تو اس ميں ہے جس ميں نص وارد ہے، اور جو اس كے معنى ميں ہو اسے بھى اس پر قياس كيا جائيگا، مثلا كسى پر ظلم ہونے ميں اس كا مال چھپانا، اور پردہ پوشى كے ليے معصيت و نافرمانى كا انكار كرنا، يا كسى دوسرے كى معصيت چھپانا جب تك دوسرا اسے ظاہر نہ كرے.

بلكہ اس پر خود بھى چھپانا لازم ہے وگرنہ وہ مجاہر يعنى اعلانيہ معصيت كرنے والوں ميں شامل ہوگا.

الا يہ كہ وہ اپنے اوپر حد نافذ كرانا چاہتا ہو، جس طرح ماعز اسلمى رضى اللہ تعالى عنہ كا قصہ ہے، ليكن اس كے باوجود پردہ پوشى اختيار كرنا بہتر ہے، اور وہ اپنے اور اللہ كے مابين ہى توبہ كر لے كسى كو مت بتائے.

يہ سب ضرر و نقصان دور كرنے كے ليے ہے، ہم نے امام حافظ ابن جوزى رحمہ اللہ سے نقل كيا ہے كہ جھوٹ كى اباحت كا ضابطہ يہ ہے كہ:

ہر وہ مقصود جو قابل تعريف ہو اور جھوٹ كے بغير اس تك پہنچنا مشكل ہو تو وہ مباح ہے، اور اگر وہ مقصود چيز واجب ہو تو يہ بھى واجب ہوگا، شافعيہ ميں سے امام نووى رحمہ اللہ كا بھى يہى قول ہے.

اس ليے اگر كوئى مسلمان شخص كسى ظالم شخص سے چھپ جائے اور ظالم كسى دوسرے كو ملے اور دريافت كرے كيا تم نے فلان شخص كو ديكھا ہے ؟

تو وہ اسے نہ بتائے، اس حالت ميں اس پر جھوٹ بولنا واجب ہے، اور اگر اسے معصوم كو ہلاك اور قتل ہونے سے بچانے كے ليے قسم اٹھانے كى بھى ضرورت پيش آئے تو گريز مت كرے.

امام موفق كہتے ہيں: كيونكہ معصوم كى بچانا اور اسے محفوظ ركھنا واجب ہے.... ليكن اس حالت ميں وہ حتى الامكان توريہ كرنے كى كوشش كرے تا كہ اسے جھوٹ بولنے كى عادت نہ پڑ جائے.

پھر سفارينى رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" حاصل يہ ہوا كہ: معتبر مذہب يہى ہے كہ جہاں راجح مصلحت پائى جائے وہاں جھوٹ بولنا جائز ہے، جيسا كہ ہم امام ابن جوزى رحمہ اللہ سے بيان كر چكے ہيں، اور اگر واجب مقصود تك اس كے بغير نہ پہنچا جا سكتا ہو تو يہ بھى واجب ہو گا، اور اس ليے كہ جائز ہے، لہذا توريہ استعمال كرنا اولى اور بہتر ہے " انتہى

ديكھيں: غذاء الالباب ( 1 / 141 ).

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments