ar

148245: بيوى كو كہا كہ اگر مالدار ہو گيا تو ہو سكتا ہے وہ طلاق دے دے


بيوى ملازمت كرتى ہے اور تئيس برس كى عمر كا خاوند بھى ابھى نئى ملازمت كرنے لگا ہے، اس وقت خاوند اپنے بھائى كے پاسم لازمت كرتا ہے، ليكن خاوند كى آمدنى بيوى كى آمدنى سے كم ہے، بيوى گھر كے بل وغيرہ ادا كرتى ہے، اور مالى مشكلات كى بنا پر خاوند اور بيوى كے مابين جھگڑا اور اختلافات پيدا ہوئے ہيں.
خاوند كے پاس كچھ قانونى مال بھى ہے جو كچھ مہينوں كے بعد ملنے والا ہے، خاوند نے غصہ كى حالت ميں بيوى كو بتايا كہ ہو سكتا ہے جب مال آئے تو وہ اسے طلاق دے دے، ميرا سوال يہ ہے كہ:
كيا دين اسلام اس كى اس دھمكى كو طلاق شمار كرتا ہے اور اگر اس كے پاس مال آ جائے تو كيا اسے اپنا وعدہ پورا كرنا چاہيے ؟
كيا اب بھى صلح ہو سكتى ہے كيونكہ يہ وعدہ تو بہت تنگ حالات ميں كيا گيا تھا ؟

Published Date: 2011-03-24

الحمد للہ:

خاوند كا اپنى بيوى كو كہنا كہ: ممكن ہے كہ جب مال آئے تو وہ اسے طلاق دے دے، يہ طلاق شمار نہيں ہوگى بلكہ يہ تو طلاق كى دھمكى يا طلاق كا وعدہ ہے، اس ليے جب مال آئے تو اسے حق حاصل ہے كہ وہ اپنى دھمكى پورے كرتا ہوا طلاق دے دے، يا پھر اس پر عمل نہ كرے اور طلاق نہ دے، اور افضل و بہتر يہى ہے كہ طلاق مت دے، كيونكہ شرعى طور پر طلاق مكروہ ہے.

ليكن اگر خاوند كہے كہ: اگر ميرے پاس مال آئے تو تجھے طلاق، تو يہ شرط پر معلق طلاق ہے، اس ليے مال آنے پر طلاق واقع ہو جائيگى.

شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ سے درج ذيل سوال كيا گيا:

كوئى شخص اپنى بيوى سے كہے: تم اپنے ميكے مت جاؤ اور اگر ميكے گئى تو ہمارے درميان عليحدگى ہو جائيگى، اور اس سے مقصد بيوى كو طلاق دينا ہو تو اس كا حكم كيا ہو گا؟

شيخ رحمہ اللہ كا جواب تھا:

" اس شخص نے طلاق بيوى كے ميكے جانے پر معلق نہيں كى، بلكہ اس نے كہا ہے ميں تمہيں طلاق دے دونگا، يہ وعدہ ہے اور تنفيذ نہيں.

اس بنا پر اگر بيوى اپنے ميكے گئى تو اسے طلاق نہيں ہو گى الا يہ كہ جب وہ اسے طلاق دے تو طلاق ہو جائيگى، اس ليے اختيار اس كے ہاتھ ميں ہے چاہے بيوى ميكے چلى بھى جائے، اور جب معاملہ ايسا ہے كہ تو بيوى اپنے خاوند كےنكاح ميں ہے اس ميں كوئى اشكال نہيں " انتہى

ديكھيں: اللقاء الشھرى ( 2 / 262 ).

خاوند كو اللہ كا تقوى اور ڈر اختيار كرنا چاہيے، اور اسے غصہ كى حالت ميں طلاق كے الفاظ استعمال نہيں كرنے چاہيں.

اور بيوى كو بھى چاہيے كہ وہ اپنے خاوند كے ساتھ تعاون كرے اور جس تنگى سے وہ گزر رہى ہے وہ اس پر صبر كرے.

اور اسے معلوم ہونا چاہيے كہ دنياوى زندگى ايك ہى حالت ميں نہيں رہتى بلكہ تبديلى ہوتى رہتى ہے.

اللہ تعالى سے دعا ہے كہ وہ آپ دونوں كے حالات كى اصلاح فرمائے.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments