ar

150638: عورتوں سے باتيں كرنے والے خاوند كے بارہ ميں مشورہ چاہتى ہے


ميں اپنى مشكل كے متعلق مشورہ كرنا چاہتى ہوں اس كے حل كے ليے صحيح طريقہ كيا ہے، ميں شادى شدہ ہوں اور شادى كو ايك برس بھى نہيں ہوا، اور حاملہ بھى ہوں سب سے بڑى مشكل يہ ہے كہ مجھے چھيانوے فيصد شك ہے كہ ميرا خاوند غير محرم عورتوں سے محبت و غرام كى باتيں كرتا ہے كيونكہ اچانك مجھے اس كے موبائل فون كى كالز اور اس ميں موجود ميسج كے ليے اس كا انكشاف ہوا.
اور اس كے تصرفات و معاملات بھى اس كى تصديق كرتے ہيں، مجھے بہت زيادہ صدمہ ہوا كيونكہ ميں نے خاوند كے حقوق ميں كسى طرح بھى كمى اور كوتاہى نہيں كى تا كہ وہ ميرے علاوہ كسى اور عورت كى طرف متوجہ ہى نہ ہو، برائے مہربانى جتنى جلدى ہو سكے ميرے سوال كا جواب ديں كيونكہ ميں اپنى زندگى كے بہت ہى مشكل ايام سے گزر رہى ہوں.

Published Date: 2012-05-20

الحمد للہ:

انسان كو اپنى مشكل اور پريشانى سے نجات حاصل كرنے كى كوشش سے قبل اس دنيا كى حقيقت كا ادراك ہونا چاہيے جس ميں وہ رہ رہا ہے كہ يہ دنيا خطرناك ہے، اور اس ميں بہت سارى پريشانياں ركھى ہيں، حالات بدلتے رہتے ہيں جس ميں كبھى آسانى اور كبھى تنگى و مشكلات سامنے آتى ہيں، اور ايك ہى جيسے حالات رہنا تو محال ہے، اور پھر يہ بھى محال ہے كہ انسان ہر پريشانى اور غم سے چھٹكارا حاصل كر پائے.

تنگى و مشكلات اس كى طبع ميں داخل ہے، تم اسے بالكل پريشانيوں اور تنگيوں سے صاف شفاف چاہتے ہو.

ايام ايك جيسے نہيں رہتے بدلتے رہتے ہيں، تم پانى ميں آگ تلاش كرتے پھرتے ہو.

اسى ليے جنتى جن نعمتوں ميں ہونگے وہ محسوس كريں گے، اور اس ميں سب سے عظيم نعمت ان كى آنكھوں كى ان نعمتوں سے ٹھنڈى ہونگى، نہ تو كسى موجود چيز كے ختم ہونے كا خوف ہوگا، اور نہ ہى ماضى پر كوئى پريشانى:

فرمان بارى تعالى ہے:

{ اور وہ كہيں گے اس اللہ كى تعريف ہے جس نے ہم سے غم و پريشانى دور كر دى، يقينا ہمارا پروردگار بخشنے والا قدر دان ہے، جس نے ہميں اپنے فضل سے ہميشگى والے گھر ميں داخل كيا ہے جہاں ہميں نہ تو كوئى تكليف ہوگى اور نہ ہى خفگى }فاطر ( 34 ـ 35 ).

اس ليے سعادت مند و خوشبخت وہى ہے جس نے مشكلات برداشت كرنے پر اپنے آپ كو تيار كر ليا، اور اپنى روح اور دل كو اللہ تعالى كے ايمان و يقين كى غذا فراہم كى اور اپنے آپ كو سارے كا سارا اللہ رب العالمين كے سپرد كر ديا.

ہم آپ كو اور ہر پريشان و غمزدہ شخص كو يہى عظيم نصيحت كرتے ہيں كہ قوۃ نفس اور پختہ عزم پيدا كرے، يہ صفات علم و تربيت كے ذريعہ حاصل كى جا سكتي ہيں، كسى بھى انسان كو ان سے تجاوز نہيں كرنا چاہيے، بلكہ اس كے ليے ضرورى ہے كہ وہ دل ميں اسے پيدا كرے، اور اس كے بارہ مطالعہ كرے، اور صالحين جنہيں يہ وافرمقدار ميں حاصل ہوئى تھى كى سيرت كا مطالعہ كرے.

بلاشبہ جب مسلمان شخص كے دل ميں اللہ كى محبت گھر كر جاتى ہے، تو اس پر ہر چيز آسان ہو جاتى ہے، اور ہر بشرى تكليف اس سے دور بھاگ جاتى ہے، اس طرح وہ ہر قسم كى تنگى سے نجات حاصل كر ليتا ہے، اور ان مشكلات كے ساتھ بڑى حكمت اور ثابت قدمى كے ساتھ پيش آتا ہے.

رہى آپ كى مشكلات ان شاء اللہ يہ تو بہت ہى جلد ختم ہونے والى ہيں، ان كى حد مناسب حجم ميں ہى ركھى جائے نہ تو اسے بہت بڑا سمجھا جائے اور نہ چھوٹا، تا كہ اس كے علاج كے صحيح طريقہ سے تجاوز نہ ہو.

جو خاوند دوسرى عورتوں كى طرف ديكھنے كى كوشش كرتے اور حلال چھوڑ كر حرام ميں تجاوز كر جاتے ہيں، اور مباح سے معصيت كى طرف جا نكلتے ہيں، ان كى اكثر بيويوں كے يہى حالات ہيں جو آپ كو درپيش ہيں،  ليكن الحمد للہ بہت سارے ايسے حالات كا علاج ہو چكا ہے تا كہ معاملات اپنى اصل حالت ميں آ جائيں.

يہاں ہم دو چيزوں كا ذكر كرتے ہيں جو اس مشكل كو حل كرنے كى كنجى بن سكتى ہيں:

اول:

بيوى كو ہر وہ كام تلاش كرنا چاہيے جس سے وہ اپنے خاوند كے ساتھ تعلقات اچھے اور بہتر كر سكے، تا كہ اس كے جذبات وغيرہ كو بہت زيادہ اپنى طرف مائل كر لے اور وہ دوسرى عورتوں كى جانب مت ديكھے، اس ليے اسے زيادہ سے زيادہ خاوند كا خيال ركھنا چاہيے، اور خاوند كے ساتھ محبت و مودت كے خوبصورت كلمات كا تبادلہ كرتے رہنے چاہيے.

اور خاوند كو راضى ركھنے اور اس كى سعادت كى كوشش ميں لگے رہنے ہوگا، كيونكہ بيوى كى سعادت و خوشى تو خاوند كى خوشى و سعادت كے ساتھ شراكت ركھتى ہے، ہم بيوى كو يہ نہيں كہيں گے كہ:

وہ اپنى كوتاہى كو تلاش كر كے اس كى اصلاح كرے، كيونكہ ہو سكتا ہے اس ميں واجبات كى ادائيگى ميں تو كوئى كوتاہى نہ ہو ـ جيسا كہ آپ اپنے بارہ ميں كہہ رہى ہيں ـ ليكن اكثر طور پر وہ مستحب اور مباح اور تكميل سے غافل رہتى ہو جو اس كے اپنے خاوند كے ساتھ تعلقات كو اور زيادہ شفاف بناتے ہوں اور اسے محبت و مودت اور الفت و رحمت كا ايك نيا رنگ ديتے ہوں.

ايك دانشور كا قول ہے:

سب سے بہتر عورت وہ ہے جو عفت و عصمت اختيار كرے، اور اپنى زبان كو روك كر ركھے، اور تھوڑى سى چيز پر راضى ہو جائے، اور زيبائش زيادہ سے زيادہ كرے، اور يہ زيبائش صرف اپنے خاوند كے سامنے ظاہر كرے.

دوم:

ايسے وقت ميں جب اطمنان ہو اور دلى طور پر حاضر ہو تو خاوند كے ساتھ اس موضوع پر بات چيت كى جائے، اس ليے آپ كو چاہيے كہ اپنے خاوند كے ساتھ اس مسئلہ ميں بات چيت كرتے ہوئے آپ اسے اللہ كى ڈر ياد كرائيں اور اسے اللہ كے تقوى كى نصيحت كريں اور جو وہ كر رہا ہے اس كى حرمت ياد دلائيں، اور اس كے ساتھ ساتھ اپنى جانب سے درگزر و معافى كو باور كرائيں كہ جو كچھ ہوچكا ہے اس پر مؤاخذہ نہيں كر رہى ہوں.

بلكہ مقصد صرف اللہ كے حق كى حفاظت ہے، ليكن يہ سب كچھ غيرت سے قبل ہو كہ كبھى آپ غيرت ميں آئيں اور اس طرح اس سے صحيح معاملہ نہيں كرپائيں گى، اور اپنے اوپر كنٹرول بھى نہيں ہوگا، لہذا آپ اس سے بالا تر ہو كر نصحيت كريں، اور ويسے ہى سرسى طور پر بات چيت ميں بطور نصيحت ہو.

آپ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا يہ فرمان ياد ركھيں:

" جس چيز ميں بھى نرمى آ جاتى ہے وہ اسے خوبصورت بنا ديتى ہے، اور جس چيز سے بھى نرمى چھين لى جائے وہ اسے بدصورت اور عيب دار بنا ديتى ہے "

صحيح مسلم حديث نمبر ( 2594 ).

اس ليے آپ ہميشہ ٹھنڈے دل اور آسان معاملات كو اپنائيں، اور اس كے ساتھ ساتھ اللہ كے ڈر اور تقوى كے ڈر كا اسلوب اختيار كريں، اور جھگڑے اور لڑائى سے آواز بلند كرنے سے گريز كريں اور دل ميں نفرت پيدا مت كريں.

كيونكہ يہ ضرورى نہيں كہ خاوند كا يہ رويہ بيوى كو ناپسند كرنے كى بنا پر ہى ہو، يا اس سے نفر كى وجہ سے، بلكہ اس كا سبب طمع و شہوت بھى ہو سكتى ہے جس كى طرف نفس امارہ ابھارتا ہے، اور يہ بھى ہو سكتا ہے كہ كوئى محدود معاملہ ہو، وہ يہ سوچتا ہو كہ اس موجودہ حالت سے آگے نہيں جائےگا، اس ليے اس حالت كا علاج كسى برے طريقہ سے نہ كيا جائے كہ دلوں ميں بغض و نفرت پيدا ہو جائے.

اس دوران آپ پردہ پوشى كا بھى خيال ركھيں، اسے يہ احساس بھى نہ ہو كہ اس كے معاملہ كى انكشاف ہوچكا ہے، كيونكہ ايسا ہونے ميں اكثر مخالفت پيدا ہوتى ہے اور غلطى پر اصرار كا سبب بنتا ہے.

اور اميد ہے كہ آپ جس بچے كى ماں بننے والى ہيں وہ بھى آپ كے مابين محبت و مودت اور الفت پيدا كرنے كا سبب بنے گا، كيونكہ جب خاوند كو باپ كا احساس ہوگا، اور ذمہ دارى كا احساس ہو جائيگا تو يہ اس كے ليے اللہ كى جانب سے ايك پيغام ہے، جو اسے نعمت كا شكر ادا كرنے كے وجوب كو ياد دلائے اور سنت كى حفاظت كرے، يہ اسى صورت ميں ہو سكتا ہے جب اس ميں تقوى آ جائے اور اس كے اوامر و نواہى پر عمل كرے.

آخر ميں ہم يہى كہيں گے كہ آپ اس كے ليے ہدايت كى دعا كرتى رہيں اور اس كے ليے توفيق كى طلبگار ہوں كيونكہ جب آپ صدق و سچائى سے اس كے ليے دعا مانگے گى تو اللہ تعالى قبول فرمائيگا، اس طرح آپ كى طويل مشكل بھى ختم ہو جائيگى.

مزيد آپ سوال نمبر ( 7669 ) كے جواب كا مطالعہ كريں.

جواب كے آخر ميں ہم آپ كو يہ تنبيہ كرنا چاہتے ہيں كہ آپ كے ليے لوگوں عيب تلاش نہيں كرنے چاہيں ـ چاہے آپ كا خاوند ہى ہو ـ اس ليے آپ اس كا ميسج اس كى اجازت كے بغير مت كھوليں، اور نہ ہى اس كى ڈاك اس كى اجازت كے بغير ديكھيں.

اور اگر آپ ايسا كرتى ہيں تو آپ نے وہ تجسس والا كام كيا جس سے منع كيا گيا ہے:

اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

{ اے ايمان والو بہت سارے گمان سے اجتناب كرو، كيونكہ كچھ گمان گناہ ہوتے ہيں، اور تم نہ تو جاسوسى كرو، اور نہ ہى تم ايك دوسرے كى غيبت كرو }الحجرات ( 12 ).

واللہ اعلم.

الاسلام سوال و جواب
Create Comments