ar

151420: بيوى كے سابقہ خاوندوں كے متعلق سوچ سے پريشان رہنے والے شخص كے بارہ ميں چند ايك نصيحتيں


تين برس قبل ميں نے ايك عورت سے شادى كى ہے منگنى كے عرصہ ميں جب ہمارا تعارف ہوا تو وہ ميرے ساتھ امين تھى، اور شادى كے معاملہ ميں اس عورت نے مجھ سےكچھ بھى نہيں چھپايا، وہ ايك بچے كى ماں ہے.
جب اس نےمجھے سب كچھ بتا ديا تو ميں نے استخارہ كيا اور اس سے شادى پر ميں خوش تھا، وہ عورت بقدرے خوبصورت بھى اور دين والى بھى، ميں نے بھى اپنى پہلى بيوى كو طلاق دے ركھى ہے اور ميرا ايك بچہ بھى ہے.
اور جب اس كى رخصتى ہوئى اور وہ ميرے گھر آ كر رہنے لگى تو مجھے اس كے پہلے خاوندوں بارہ ميں مختلف قسم كى سوچ نے آ گھيرا، مجھے معلوم ہے كہ يہ سوچ صحيح نہيں باوجود اس كے كہ وہ ايك اطاعت گزار اور اللہ سےڈرنےوالى بيوى اور اچھى صفات كى مالك ہے پھر بھى شيطان وسوسے ڈال رہا ہے، يہ ميرى خواہش تھى كہ ايسى ہى بيوى سے شادى كروں، ميں محسوس كرتا ہوں كہ ميں نے شادى كے بعد تين ماہ اس سے عدل نہيں كيا، ان افكار اور سوچ كى بنا پر ميں نے اس سے سخت رويہ اختيار كيے ركھا جس كى بنا پر ميں تعصب مزاج كا مالك بن گيا. اب وہ حاملہ ہے اور وہ اللہ كے قرب اور جنت كے حصول ميں ميرى معاونت كرتى ہے، ميں اس سے بہت زيادہ محبت كرتا ہوں، وہ مجھے دين كى طرف رغبت دلاتى ہے، اور باپرد بھى ہے اور قرآن مجيد كى تلاوت كثرت سے كرتى ہے، اور مسجد ميں جا كر نماز پنجگانہ پابندى سےادا كرتى ہے.
ليكن ميرى اس كے ساتھ مشكل يہ ہے كہ ميں اس كا ماضى نہيں بھول پاتا، ميں يہ نہيں سوچنا چاہتا كہ وہ كسى اور مرد كى آغوش ميں رہى ہے، ميں اس بيمارى كا شكار ہوں بعض اوقات تو اس سوچ كو روكنےكى طاقت ركھتا ہوں، اور بعض اوقات شيطان اپنا كھيل كھيل جاتا ہے، حتى كہ زيادہ سوچ و بچار كى بنا پر سر چكرا جاتا ہے، ميں اللہ كى طرف رجوع اور توبہ كرنےكى كوشش كرتا ہوں، ميرا يقين ہے كہ وقت ہى اس كا بہتر علاج ہے، اگر اس سلسلہ ميں آپ مجھےكوئى نصيحت كريں تو آپ كى عين نوازش ہو گى.

Published Date: 2011-05-08

الحمد للہ:

ہمارے ليے آپ كو نصيحت كرنے ميں اس بنا پر آسانى ہے كہ آپ كو اپنى غلطى كا علم ہے كہ آپ اپنى بيوى كے ساتھ سخت رويہ ركھتے ہيں، حالانكہ وہ ايسے سخت رويہ كى مستحق نہيں ہے، كيونكہ اس نے كوئى معصيت تو نہيں كى، بلكہ وہ تو كتاب و سنت كےمطابق اپنے خاوندوں كى بيوى بن كر رہى ہے.

وہ تو اسى شخص كے ساتھ رہى ہے جسے اللہ تعالى نےاسے بطور خاوند حلال كيا تھا، اور اسى طرح آپ بھى تو اپنى سابقہ بيوى كى آغوش ميں رہے ہيں جس طرح اللہ نے حلال كيا تھا؛ اس ليے آپ اور اس كے ماضى ميں كوئى فرق نہيں ہے، تم دونوں ہى اللہ تبارك و تعالى سے ڈرنے والے تھے اور آپ دونوں نے ہى اپنى شہوت كو حلال ميں ہى استعمال كيا ہے.

ميرے محترم بھائى:

اگر ہم آپ سے يہ سوال كريں كہ كيا آپ زيادہ غيرت والے ہيں يا كہ محمد صلى اللہ عليہ وسلم زيادہ غيرت مند تھے ؟

تو آپ اس كا جواب دينے ميں كسى تردد كے شكار نہيں ہونگے، بلكہ آپ فورا يہى جواب دينگے كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم زيادہ غيرتمند تھے.

كيا آپ كو علم ہے كہ عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا كے علاوہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى باقى سارى بيوياں پہلے سے شادى شدہ تھيں كوئى مطلقہ تھى تو كوئى بيوہ ؟!

اور پھر اگر كسى طلاق يافتہ يا بيوہ عورت سے شادى كرنا مرد كو عيب دار بناتا تو اللہ سبحانہ و تعالى اپنے نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے ليے اس پر كبھى بھى راضى نہ ہوتا.

اور كيا آپ كو يہ بھى علم ہے كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى بيويوں ميں سے ايك بيوى جو زينب بنت جحش رضى اللہ تعالى عنہا كے نام سے جانى جاتى ہيں كى شادى تو اللہ سبحانہ و تعالى نے خود ہمارے نبى محمد صلى اللہ عليہ وسلم سے كى تھى؟!

جى ہاں ايسا ہى ہوا جيسا كہ اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

{ اور جب زيد ( رضى اللہ تعالى عنہ ) نے اس عورت سے اپنى غرض پورى كر لى تو ہم نے اسے تيرے نكاح ميں دے ديا }الاحزاب ( 37 ).

اسى ليے انہيں اس پر فخر كرنے كا بھى حق حاصل ہوا جيسا كہ درج ذيل حديث ميں بيان ہوا ہے:

وہ بيان كرتے ہيں كہ : زينب رضى اللہ تعالى عنہا نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى دوسرى بيويوں پر فخر كرتى ہوئى كہتى تھيں:

" تمہارى شادى تو تمہارے گھر والوں نے كى، ليكن ميرى شادى تو ساتوں آسمانوں كے اوپر سے اللہ تعالى نے خود كى ہے "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 6984 ).

صحيح مسلم حديث نمبر ( 177 ) ميں بھى عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا سے اسى طرح مروى ہے.

اور كيا آپ جانتے ہيں كہ صحابيہ اسماء بنت عميس رضى اللہ عنہا نے كتنى بار شادى كى تھيں ؟

انہوں نے تين بار عالم و فاضل اشخاص سے شادى كى جس طرح كے لوگ صحابہ كے دور كے بعد كبھى پيدا بھى نہيں ہوئے، اور پھر يہ تينوں افراد شجاعت و بہادرى اور علم و دين اور غيرت كےاعلى درجہ پر فائز تھے.

انہوں نے سب سے پہلے جعفر بن ابى طالب رضى اللہ تعالى عنہ سے شادى كى، اور جب وہ فوت ہو گئے تو انہوں نے ابو بكر صديق رضى اللہ تعالى عنہ سے شادى كر لى، اور جب ابو بكر رضى اللہ تعالى عنہ فوت ہو گئے تو اسماء رضى اللہ تعالى عنہا نے على بن ابى طالب رضى اللہ تعالى عنہ سے شادى كى.

ليكن ايسا كرنےسے نہ تو اسماء رضى اللہ تعالى عنہا ميں كوئى عيب پيدا ہوا، اور نہ ہى ان تين قابل قدر اور اعلى درجہ پر فائز افراد ميں كوئى عيب آيا كہ انہوں نے ايك بيوہ سے شادى كى اور نہ ہى انہوں نے اس سے نفرت كى، اور نہ ہى بے وقوفوں كى غيرت كى طرح ان كے دلوں كو جلايا.

انہوں نے ديكھا كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے خود بھى ايسا كيا تھا، اگر يہ چيز عيب شمار ہوتى يا پھر مروت و غيرت ميں نقص كا باعث بنتى ـ حاشا و كلا يہ كبھى نہيں ہو سكتا ـ تو نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كبھى ايسا نہ كرتے اور نہ ہى صحابہ كرام اس پر عمل كرتے.

بلكہ ہم تو يہ كہتے ہيں كہ:

اگر يہ نقص اور عيب ہوتا تو اللہ سبحانہ و تعالى اصلا اسے مشروع ہى نہ كرتا؛ كيونكہ اللہ سبحانہ و تعالى غيرت والا ہے اور پھر وہ تو اپنے بندوں سے بھى زيادہ غيرت ركھتا، اور اللہ كى غيرت يہ ہے كہ اللہ كى حرام كردہ چيزوں كا ارتكاب كيا جائے، يہ نہيں كہ بندے اس سے فائدہ اٹھائيں جو اللہ نے ان كے ليے حلال كيا ہے تو اس ميں غيرت ہو!!

محترم بھائى:

عقل مند شخص تو اپنى بيوى كے اب اور موجودہ واقع كو ديكھتا ہے، اور وہ اطاعت گزار اور دين دار ہونے پر اللہ كا شكر بجا لائے كہ اسے ايسى بيوى ملى ہے، اور اگر كوئى غلطى كرے تو بيوى كو سمجھائے.

اور پھر آپ نےتو اپنى بيوى كے بارہ كوئى غلط بات تك نہيں كى بلكہ اس كى اچھائى اور تعريف ہى بيان كى ہے، اس ليے آپ كو پريشان و غمزدہ نہيں ہونا چاہيے، كيونكہ پريشانى اور غمزہ ہونے ميں كوئى فائدہ نہيں ہے، بلكہ يہ تو آپ كى زندگى ميں اور پريشانياں لانے كا باعث بنےگے.

بلكہ آپ كے گھر كى تباہى كا باعث بن سكتے ہيں اور آپ كے گھر كا شيرازہ بكھر كر آپ كے سر پرآن گرےگا، اور پھر اس نعمت كى ناشكرى كرنے پر نادم ہونگے اور افسوس كرينگے ليكن اس ندامت اور افسوس كا كوئى فائدہ نہيں ہوگا.

اس ليے آپ اس كےماضى ميں سوچنا چھوڑ ديں، اور پريشان نہ ہوں، كيونكہ اس سے غم و پريشانى اور بڑھيگى، كيونكہ آپ كى بيوى كا ماضى تو صاف وشفاف ہے، آپ اس كے ايمان كى تقويت كا باعث بنيں، اور اپنے خاندان اور گھر كو اللہ كى اطاعت و فرمانبردارى كرنے والا مثالى خاندان بنائيں.

محترم بھائى:

آپ علم ميں ركھيں ـ ان شاء اللہ ـ آپ كى اولاد ميں بيٹياں ہونگى، جب اللہ ان كے مقدر ميں شادى كريگا اور اگر كسى كا خاوند فوت ہو گيا يا پھر اسے طلاق دے دى تو آپ اسے كس نظر سے ديكھيں گے، اور اس كے معاملہ ميں كيا خيال كريں گے ؟

كيا آپ اپنى طلاق يافتہ يا پھر بيوى بيٹى كے ليے راضى نہيں نہيں ہونگے كہ وہ كسى اور سے شادى كرے، بلكہ آپ كو تو اس پر خوشى ہوگى، كيونكہ عقل و دان شركھنےوالے تو اپنى بيٹيوں كے ليے كوئى مناسب خاوند خود تلاش كرتے ہيں.

بالكل اسى طرح جيسے عمر رضى اللہ تعالى عنہ نے اپنى بيٹى حفصہ رضى اللہ تعالى عنہا كى رشتہ ـ جب ان كا خاوند فوت ہو گيا تو ـ عثمان رضى اللہ تعالى عنہ پر پيش كيا، اور پھر ابو بكر رضى اللہ تعالى عنہ پر.

اس ليے جب آپ اپنى بيٹى يا بہن كے ليے راضى نہيں كہ وہ اپنے گھر ميں قيد ہو كر رہ جائے، اور لوگ اسے ايسى چيز كى سزا ديں جس ميں ان كا كوئى گناہ نہيں ہے، اور نہ ہى اس كى بنا پر كوئى عيب ہے، تو پھر آپ اپنى بيوى كو ايسے امر كى سزا كيوں دے رہے ہيں جس ميں اس كا كوئى گناہ نہيں اور نہ ہى اس كے دين اور اور اس كى عزت ميں كوئى عيب ہے، اللہ محفوظ ركھے ؟!!

اے كے بندے آپ اپنے نفس كے ساتھ انصاف كيوں نہيں كرتے؟!!

محترم بھائى:

يہ جان ليں كہ اگر شيطان آپ كى بيوى كو طلاق دلوانے ميں كامياب ہو گيا ـ نہ تو ہم آپ سے يہ چاہتے ہيں، اور ان شاء اللہ ہميں آپ سے اس كى توقع بھى نہيں ہے ـ تو اس ميں آپ دونوں كے ليے نقصان و ضرر ہے.

كيونكہ آپ دوسرى بيوى كو طلاق دے رہے ہيں، اور لوگوں ميں يہ معروف ہو جائيگا، اس طرح آپ كے ليے كسى اور عورت سے شادى كرنےكى فرصت اور موقع ختم ہو جائيگا كہ يہ تو بيويوں كو طلاق دے ديتا ہے.

اور اس عورت كے ليے بھى شادى كى فرصت ختم ہو جائيگى كيونكہ آپ اس كے چوتھے خاوند ہيں اس طرح اس كے ليے بھى شادى كے مواقع يا تو كم ہو جائينگے يا پھر منعدم.

اس ليے آپ كوئى فيصلہ كرنے سے پہلے سوچيں، اور يہ علم ميں ركھيں كہ خاوند اور بيوى ميں عليحدگى شيطان اور ابليس كے ہاں سب سے اہم اور افضل كام ہے، كيونكہ ابليس خاوند اور بيوى ميں عليحدگى كرانے والے شيطان كو اپنے قريب كرتا ہے، اسى ليے شريعت اسلاميہ ميں غير مرغوب ہے اور اس طرف لے جانے والے سارے اسباب منع كيے گئے ہيں.

شيخ الاسلام ابن تيميہ رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" طلاق اصلا ممنوع ہے، صرف بقدر ضرورت مباح كى گئى ہے، جيسا كہ صحيح مسلم ميں جابر رضى اللہ تعالى عنہ سے مروى ہے كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" ابليس اپنا تخت سمندر پر نصب كر كے اپنا لاؤ لشكر روانہ كرتا ہے، اس كا قريبى وہ شيطان ہوتا ہے جو سب سے بڑا اور عظيم فتنہ پيدا كرنے والا ہو، ايك شيطان آ كر كہتا ہے: ميں اس كے ساتھ رہا حتى كہ اس نے ايسے ايسے كر ليا، اور ايك دوسرا شيطان آ كر كہتا ہے ميں اس كے ساتھ لگا رہا حتى كہ ميں نے اس اور اس كى بيوى كے مابين عليحدگى كرا دى تو ابليس اسے اپنے ساتھ لگاتا اور كہتا ہے: تم تم !! "

صحيح مسلم حديث نمبر ( 2813 ).

اور اللہ سبحانہ و تعالى نے جادوگروں كى مذمت كرتے ہوئے فرمايا ہے:

{ تو وہ ان دونوں سے وہ كچھ سيكھتے ہيں جس سے آدمى اور اس كى بيوى كے مابين جدائى ڈا لديں }. انتہى

ديكھيں: جامع المسائل ( 1 / 356 ).

محترم بھائى:

آپ اس سے قبل بھى ايك عورت كو طلاق دے چكے ہيں ہمارے خيال ميں وہ كنوارى تھى؛ تو كيا آپ اپنى سارى زندگى ايسے ہى بسر كرينگے، كنوارى لڑكى كو اس ليے طلاق دى كہ وہ آپ سے موافقت نہ ركھتى تھى، اور اب ايك شادى شدہ عورت كو طلاق دينگے كہ وہ پہلے خاوند والى تھى؛ آپ كے اس عمل كو كونسى عقل اور كونسا دين قبول كريگا ؟!

اللہ سبحانہ و تعالى نے آپ كو جو نعمت دى ہے اس پر آپ شكر كيوں نہيں كرتے، كہ آپ كى بيوى ديندار اور خوبصورت و جمال كى مالك ہے؟

اور پھر اللہ سبحانہ و تعالى نے سچ فرمايا ہے:

{ اور ميرے بندوں ميں شكر گزار بہت ہى كم ہيں } سبا ( 13 ).

ہمارى دعا ہے كہ اللہ سبحانہ و تعالى آپ كے دل كو ہدايت دے اور آپ كا سينہ كھولے، اور آپ سے شيطان كے وسوسے اور اس كى چاليں دور كرے، اور آپ كى بيوى كى آپ كے ليے اصلاح فرمائے، اور آپ كى بيوى كے ليے آپ كى اصلاح كرے.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب
Create Comments