ar

165761: امام تین وتر ، دو تشہد اور ایک سلام کیساتھ پڑھاتا ہے، اور دعائے قنوت کے بدلے اجتماعی دعا مانگتا ہے۔


جس مسجد میں میں نماز پڑھتا ہوں اس مسجد کا امام وتر کی نماز کچھ ایسے پڑھاتا ہے کہ: تین رکعات بالکل مغرب کی نماز کی طرح یعنی: دوسری رکعت میں تشہد کیلئے بیٹھتا ہے، پھر اسکے بعد تیسری رکعت کیلئے کھڑا ہوتا ہے، اور فاتحہ کے بعد قرآن مجید کی کچھ تلاوت کرتا ہے، پھر اسکے بعد تکبیر کہہ کر 2 سے 3 منٹ کیلئے خاموش ہوجاتا ہے، رکوع نہیں کرتا، پھر اسکے بعد ایک بار پھر تکبیر کہہ کر رکوع کرتا ہے، اسکے بعد اپنی نماز بغیر کسی دعائے قنوت کے مکمل کرتا ہے؛ کیونکہ اس نے نمازِ وتر سے پہلے ہی دعا مانگ لی تھی، یعنی نمازِ تراویح پڑھنے کے بعد اس نے بیٹھ کر اجتماعی دعا کروادی تھی، اس نماز کا کیا حکم ہے؟ کیا اس نماز کی کوئی شرعی دلیل ہے یا نہیں؟ کیا میں اسکے ساتھ صرف تراویح پڑھ کر وتر اکیلئے پڑھ لوں؟ یا میں وتر اسکے ساتھ پڑھوں؟
یہ بات ذہن نشین رہے کہ میری یہ بہت ہی زیادہ خواہش ہے کہ میرے لئے ساری رات کا قیام لکھا جائے جیسے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مفہوم حدیث ہے کہ:(جس شخص نے امام کے جانے تک امام کیساتھ قیام کیا تو اسکے لئے ساری رات کا قیام لکھ دیا جاتا ہے)۔
یہ بات بھی علم میں ہو کہ امام متعصب حنفی ہے۔

Published Date: 2014-07-08

الحمد للہ:

آپکے امام نے نمازِ وتر تین رکعات دو تشہد اور ایک سلام کیساتھ پڑھائی ہے یہ ان مشہور مسائل میں سے ہے جن کے بارے میں جمہور اور احناف کے مابین اختلاف پایا جاتا ہے، اور ہمارے نزدیک اس انداز سے نماز وتر ادا کرنا مکروہ ہے، چنانچہ تین رکعت وتر ادا کرنے کے دوشرعی طریقے ہیں وہ یہ ہیں:

پہلا طریقہ: تین رکعت کو ایک ہی تشہد کیساتھ پڑھا جائے۔

دوسرا طریقہ: کہ دو رکعت پڑھ کر سلام پھیر دے، اور پھر ایک رکعت وتر ادا کرے۔

آپکو ان دونوں طریقوں کی تفصیل مع دلائل سوال نمبر : (46544) کے جواب میں ملے گی۔

اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز وتر کی تین رکعات کو دو تشہد اور ایک سلام کیساتھ نمازِ مغرب کی طرح پڑھنے سے منع فرمایا ہے، اور ہم نے اس کیفیت سے ممانعت کے متعلق علمائے کرام کے فتاوی جات سوال نمبر: (72246) اور (26844) کے جوابات میں ذکر کئے ہیں۔

دوم:

آپکے امام صاحب نے قراءت کے بعد اور رکوع سے قبل تکبیر کہی، اور کوئی [دعا یا ] ذکر نہیں کیا بلکہ خاموش کھڑے رہے، یہ بدعتی عمل ہے، اسکی کوئی دلیل نہیں ہے، چنانچہ قراءت کے بعد تکبیر کہنے پر رکوع کرنا ہوتا ہے، تکبیر کے بعد خاموشی / کوئی ذکر نہیں ہوتا، پھر رکوع کیلئے ایک اور الگ سے تکبیر نہیں کہی جاتی جیسے کہ آپ کے امام نے کیا ہے۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے طریقہ کار جس پر آپ کے صحابہ نے بھی عمل کیا ، اس میں اس قسم کی کوئی چیز نہیں تھی، چنانچہ آپکے لئے ضروری ہے کہ آپ اسے نصیحت کریں، اور اتباعِ سنت کیلئے اسکی راہنمائی کریں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عام چال چلن، اور خصوصی طور پر نماز میں اقتدا کی جائےاور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان بھی ہے کہ: (ایسے نماز پڑھو جیسے کہ مجھے نماز پڑھتے ہوئے دیکھتے ہو) بخاری: (605)

اور قنوت وتر کے بارے میں مسئلہ ہم نے سوال نمبر: (14093) کے جواب میں بیان کردیا ہے۔

سوم:

دعائے قنوت نمازِ وتر سے پہلے بیٹھ کر مانگنے کی احادیث مبارکہ میں کوئی دلیل نہیں ہے، احادیث مبارکہ میں نمازِ وتر میں دعائے قنوت کا ذکر ملتا ہے، وتروں سے پہلے نہیں، چنانچہ حسن بن علی رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وتروں میں کہنے کیلئے کچھ کلمات سیکھائے : (اللَّهُمَّ اهْدِنِي فِيمَنْ هَدَيْتَ ۔۔۔الحديث) اس حدیث کو ابو داود (1214) ، ترمذی: (426) ، اور نسائی (1725) نے روایت کیا ہے، اور البانی رحمہ اللہ نے "صحیح سنن نسائی " میں اسے صحیح کہا ہے۔

ہم آپ کے لئے یہ مناسب سمجھتے ہیں کہ:

آپ اس امام اچھے انداز میں نصیحت کریں، شاید کے وہ آپکی بات مان لے، اور خود ساختہ اعمال ترک کردے، اور اگر وہ اپنی ڈِگر پر ڈٹا رہے تو آپ اسکے پیچھے نماز اسی صورت میں ترک کر سکتے ہیں کہ آپ کسی ایسے امام کے پیچھے نماز پڑھیں تو اپنی شکل وصورت اور نماز میں سنت کا پیرو کار ہو، اور اگر ایسا امام نہ ملے تو آپ اسی کے پیچھے نمازیں پڑھیں، اسکی بدعت کا نقصان اُسی کو ہوگا، اور آپکو ساری رات قیام کا ان شاء اللہ اجر مل جائے گا۔

امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی صحیح بخاری میں کتاب الآذان میں کہا ہے کہ: باب ہے: "فتنہ پرور، اور بدعتی کی امامت کے بارے میں" اور حسن بصری کہتے ہیں کہ: [اسکے پیچھے] نماز پڑھو، اسکی بدعت اُسی پر ہوگی۔

اور عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ :( نماز آدمی کے تمام اعمال میں سب سے عمدہ چیز ہے جب لوگ عمدہ کام کریں تو تم بھی عمدہ کام کرو، اور جب وہ برا کام کریں تو ان کی برائی سے علیحدہ رہو)انتہی

اس امام نے امام ابو حنیفہ کیلئے تعصب کا اظہار کیا، تو مسلمان پر واجب ہے کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل پیرا ہو، چاہے اس کی زد میں کسی بھی شخص کی مخالفت ہوتی ہو۔

چنانچہ امام شافعی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ:

"تمام مسلمانوں کا اس بات پر اجماع ہے کہ جس شخص کیلئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت واضح ہوگئی تو اب اس کیلئے یہ جائز نہیں ہے کہ کسی بھی شخص کے قول کی وجہ سے سنت کو ترک کردے"

تمام مسلم ائمہ کرام کے اجتہادات ہیں، اور جو اجتہاد میں کامیاب رہے تو اسکے لئے دوہرا اجر ہے، اور اگر اجتہاد میں غلطی کا شکار ہوجائے تو ایک اجر ضرور ہے، جیسے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرما ن ہے: (جب کوئی فیصلہ کرنے والا فیصلہ خوب تگ ودو کیساتھ فیصلہ کرے، اور فیصلہ صحیح ہوجائے تو ایسے شخص کو دوہرا جر ملے گا، اور اگر فیصلہ کرنے والا غلط فیصلہ کر بیٹھتا ہے تو اسے ایک اجر ملے گا) بخاری: (7652)، مسلم: (1716)

یہی وجہ تھی کہ ائمہ کرام اتباع کتاب و سنت کا زیادہ حرص کیساتھ اہتمام کرتے تھے، چنانچہ انہوں نے ہمیں یہ حکم دیا کہ اگر انکے اجتہادی اقوال سنت سے متصادم ہوں تو ہمارے اقوال کو چھوڑ دیا جائے۔

اور اس قسم کے اقوال آپکو البانی رحمہ اللہ کی کتاب: "صفۃ صلاۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم " میں ملے گے، لیکن ہم یہاں پر ان میں سے صرف امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے چند اقوال ذکر کرتے ہیں۔

آپ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ:

"اگر حدیث صحیح ثابت ہو تو وہ میرا مذہب ہے"

اور فرمایا:

"جب تک کوئی ہمارے اقوال کے ماخذ، مصادر [یعنی دلائل]نہیں جانتا اس وقت تک اس کیلئے ہمارے اقوال اپنانا جائز نہیں ہے"

اسی طرح فرمایا:

"جب میں کوئی بات کہوں جو کتاب اللہ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کےسے متصادم ہو تو میری بات کو چھوڑ دینا۔ "

چنانچہ ہمیں امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ خود ہی قرآن وسنت کی اتباع کا حکم دے رہے ہیں، اور اپنے اجتہاد کیساتھ کہے ہوئے متصادم اقوال کو چھوڑنے کا کہہ رہے ہیں۔

اس سب کے باوجود ہم آپکی آراء کیلئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل کیسے ترک کر دیں!؟ اگر یہ متعصب امام ، ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی بات کو سچے دل سے مانتا تو سنت پر عمل کرتا، اور ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے قول کو ترک کردیتا ، جیسے کہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے خود ہی اس بات کا حکم دیا ہے۔

واللہ اعلم .

اسلام سوال وجواب
Create Comments