21918: اس کی سہیلیاں اعلانیہ گناہ کرتی ہيں کیا وہ ان سے دوستی رکھے


اگرکسی مسلمان عورت کی سہیلیاں اعلانیہ طورپرگناہ کا ارتکاب کرتی ہوں تواسے کیا کرنا چاہيۓ ، حالانکہ انہیں کئ ایک بار نصیحت کی جاچکی ہے توکیاان سے دوستی رکھے ؟
مثلا وہ صحیح طورپر پردہ نہيں کرتیں ، یا پھر سرمہ وغیرہ ڈال کراور بناؤ سنگار کرکے نکلتی ہوں ۔ اللہ تعالی آپ کوبرکت سے نوازے ۔

Published Date: 2003-06-21
الحمد للہ
ہم پر یہ اللہ تعالی کی نعمت اوراحسان ہے کہ اس طرح کے سوالات پوچھے جاتے ہيں جو سائل کی دینی غیرت کی غمازی کرتے ہیں اوراس پرثابت قدمی کے اسباب کی حفاظت کے اہتمام پر دلالت کرتے ہیں ان اسباب میں سے اہم اوربڑا سبب اہل معاصی وگناہ سے علیحدگی ہے ۔

ہم اللہ تعالی سے اپنے اورسائلہ کے لیے دین پر ثابت قدمی طلب کرتے ہیں ، مندرجہ بالا سوال کا جواب درج ذیل نقاط میں دیا جاتا ہے :

اول :

اعلانیہ گناہ کرنے سے اللہ تعالی کی جانب سے بندے کومعافی ودرگزر سے محرومی کے اسباب میں سے ایک سبب ہے جس سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بچنے کی تلقین کرتے ہوۓ فرمایا :

( میری ساری امت کومعاف کردیا جاۓ گا لیکن اعلانیہ گناہ کرنے والوں کو نہیں ) صحیح بخاری حديث نمبر ( 60696 ) ۔

لھذا یہ بہت ہی عظیم گناہ ہے اللہ تعالی ہمیں اس سے بچا کے رکھے ۔

اورگنہگاروں کے ساتھ میل جول رکھنے اوربیٹھنے والے شخص کا معاملہ دوحالتوں سے خالی نہيں :

پہلی حالت :

یہ کہ معصیت و گناہ کا ارتکاب کرنے والے کےساتھ معصیت کے وقت اس کے پاس بیٹھا جاۓ ۔

تواس حالت میں جب تک معصیت کا ارتکاب ہورہا ہو تووہاں بیٹھنا حرام ہے الا یہ کہ اگراس میں اس معصیت کونصیحت وغیرہ کے ساتھ ختم کرنے کی استطاعت ہو اوراگر وہ معصیت ختم ہوجاۓ تووہاں بیٹھ سکتا ہے ۔

اللہ سبحانہ وتعالی کافرمان ہے :

{ اوراللہ تعالی تم پر اپنی کتاب میں یہ حکم نازل فرما چکا ہے کہ تم جب کسی مجلس والوں کواللہ تعالی کی آیتوں کے ساتھ کفر کرتے اورمذاق اڑاتے ہوۓ سنو تو اس مجمع میں اس کے ساتھ اس وقت تک نہ بیٹھو جب تک کہ وہ اس کے علاوہ کسی اور بات میں مشغول نہ ہوجائيں ، وگرنہ تم بھی اس وقت انہیں جیسے ہو جاؤ گے } النساء ( 140 ) ۔

اورجب وہ اپنی اس معصیت سے نہ رکے تواس مجلس کوچھوڑنا واجب ہے اوربہتر ہے کہ وہاں سے نکلنے کا سبب بھی بیان کردیا جاۓ ہو سکتا ہے یہ بات وہاں اثرانداز ہو اوراسے معصیت کے ترک کرنے پرآمادہ کرے ۔

شیخ عبدالرحمن سعدی رحمہ اللہ تعالی نے اس آیت کی تفسیرکرتے ہوۓ کہا ہے :

اوراس لیے ہرمکلف پرواجب ہے کہ وہ اللہ تعالی کی سب آیات پرایمان رکھے اوران کی تعظیم و توقیر بجالاۓ ۔۔۔۔۔۔۔۔

اوراس میں کفاراورمنافقین کےساتھ مل کر اللہ تعالی کی آیات کوباطل کرنے کے لیے جدال کرنا اوران کے کفرکا تعاون بھی شامل ہے ۔۔۔۔۔۔۔

بلکہ اس میں معصیت اورفسق وفجور کی مجالس میں شریک ہونا بھی داخل ہے جن میں اللہ تعالی احکامات اورمنھیات کی اھانت کی جاتی اوراوراللہ تعالی کی حدوں کوپھلانگا جاتا ہے ۔ ا ھـ تفسیر سعدی ( 2 / 198 ) ۔

دوسری حالت :

یہ کہ وہ مجلس معصیت پر مبنی نہ ہوتواس وقت وہاں بیٹھنے میں کوئ حرج نہيں ۔

دوم :

آپ کا یہ کہنا کہ کیا میں ان سے دوستی اورمیل جول ختم کردوں ؟

تواس کاجواب یہ ہے کہ :

اگرتوبہن کواپنے آپ پر بھروسہ ہے کہ وہ ان سہیلیوں کی وجہ سے راہ سے پھسلے گی نہیں اوران کے ساتھ دوستی رکھنے میں اسے فائدہ نظرآتا ہے کہ اس طرح وہ انہيں وعظ ونصیحت اوران کی اصلاح کرسکے گی تو وہ ان سے دوستی رکھے بلکہ یہ افضل ہے اورہم اللہ تعالی سے اس کےلیے توفیق اوردرستگی کے طلبگار ہیں ۔

اوراگر وہ یہ دیکھے کہ ان کے ساتھ کثرت سے اٹھنے بیٹھنے میں وہ اس پر اثرانداز ہوں گی اوراسے بھی وہ عادات پڑنے کا خدشہ ہوتو ان کے ساتھ نہ بیٹھے اوراپنے دین کی حفاظت کرتے ہوۓ ان سے دوستی ترک کردے اورخاص کرکے جب وہ انہیں کئ ایک بار پہلے نصیحت کرچکی ہے اورانہوں نے اسے قبول نہیں کیا ۔

پھریہ ہے کہ اگر وہ ان کے علاوہ کوئ اورسہیلی ڈونڈھ لے جوانہيں نصیحت کرے تو اسے بھی اس بات کا اجر ملے گا ۔

واللہ اعلم .

الشیخ محمد صالح المنجد
Create Comments