33020: کیا رضاعی ( دودھ کا ) بھائي بھی رضاعی والد کی وراثت کا حقدار ہے ؟


میرے والد نے پہاڑ کی چوٹی پرایک نومولود بچہ پایا اوراس کی زندگی بچائي ، میری والدہ نے اس کی تربیت کی اوربغیر کسی بچے کے ہی والدہ کی چھاتی میں دودھ بھر آیا لھذا اسے والدہ نے دوبرس تک دودھ پلایا اوروہ بچہ بڑا ہوکرہمارے ساتھ ہی پرورش پاتا رہا ، میرے والدین نے اسے اپنانام بھی دیا اوراسے اپنی جانب منسوب کرلیا ۔
میرے والدین فوت ہوچکے ہیں اورمیرے والد نے یہ وصیت کی ہے کہ یہ بچہ بھی ہمارے ساتھ وراثت کا حقدار ہے ، توکیا وہ بچہ ہمارے ساتھ وراثت میں حقدار ہے اورہمارے خاندان کی عورتوں سے اس کا کیا تعلق ہوگا ؟

Published Date: 2003-12-15
الحمد للہ
اول :

آپ کے والدین اس پرمشکورہیں کہ انہوں نے اس لاوارث بچے پر احسان کیا اوربڑا ہونے تک اس کی پرورش کی اللہ انہيں جزائے خیر عطا فرمائے ۔

دوم :

وہ رضاعت جس سے تحریم ثابت ہوتی ہے وہ دو برس میں پانچ ر‏ضعات ہیں ، لھذا اگر اس بچے نے بھی آپ کی والدہ کا دودھ اسی طرح پیا ہے تووہ اس اوراس کے خاوند کا رضاعی بیٹا ہوگا ، اوران دونوں کی ساری اولاد کا رضا‏عی بھائي بنے گا ۔

اللہ سبحانہ وتعالی کا ارشاد ہے :

{ اورتم پرحرام کی گئيں تمہاری مائیں ، اورتمہاری بیٹیاں ، اورتمہاری بہنیں ، تمہاری پھوپھیاں ، اورتمہاری خالائيں ، اورتمہارے بھائي کی بٹیاں ، اورتمہاری بہن کی لڑکیاں ، اورتمہاری وہ مائيں جنہوں نے تمہیں دودھ پلایا ہو ، اورتمہاری دودھ شریک بہنیں ۔۔۔ } النساء ( 23 ) ۔

اورایک دوسرے مقام پر اللہ تعالی کا فرمان ہے :

{ اورمائيں اپنی اولاد کو مکمل دوسال دودھ پلائيں جن کاارادہ دودھ پلانے کی مدت پوری کرنے کا ہو } البقرۃ ( 233 ) ۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ آپ نے فرمایا :

( رضاعت بھی وہی حرمت پیدا کرتی ہے جوولادت کی وجہ سے حرام ہوتی ہے ) موطا امام مالک ( 2 / 601 ) ۔

اوراسی طرح کے کچھ الفاظ بخاری اور مسلم میں بھی ہيں :دیکھیں صحیح بخاری ( 3 / 149 ) صحیح مسلم ( 2 / 1086 ) ۔

اورحدیث میں عائشہ رضي اللہ تعالی عنہا کا فرمان ہے کہ :

( قرآن مجید میں نازل ہوا تھا کہ دس معلوم رضعات سے حرمت پیدا ہوجاتی ہے ، پھر انہيں پانچ معلوم رضعات سے منسوخ کردیا گیا ، اورجب نبی صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوئے تو معاملہ اس پرہی قائم رہا ) موطاامام مالک ( 2 / 608 ) اور صحیح مسلم ( 2 / 1075 ) ۔

معلوم ہونا چاہیے کہ : رضعہ یہ ہے کہ بچہ پستان منہ میں ڈال کرچوسے اوراگر وہ خود ہی اسے چھوڑ کر دوبارہ چوسنا شروع کرے تواسے دوسری رضعہ شمار کیا جائے گا ، اوراسی طرح اگر وہ چھوڑکر پھر چوسے تواس طرح پانچ بار کرنے پر رضاعت ثابت ہوجائےگی ۔

سوم :

اس بچے کا آپ کے والد کی طرف منسوب کرنا صحیح نہيں اس لیے کہ وہ آپ کے والدکا بیٹا نہيں ہے ۔

چہارم :

مذکورہ بچہ آپ کے والد کی وارثت کا بھی حقدار نہيں اس لیے کہ وہ اس کے وارثوں میں شامل نہيں ہوتا ۔

پنجم :

اورجب یہ ثابت ہوکہ آپ کے والد نےاس بچے کے لیے ثلت یا اس سے بھی کم میں وصیت کی ہے تواس میں کوئي حرج نہیں ، لیکن آپ کوچاہیے کہ آپ اس مذکورہ بچے سے حسن سلوک کریں اوراس کےساتھ احسان کریں اس لیے کہ اللہ تعالی احسان کرنے والوں کےاجروثواب کوضا‏ئع نہيں کرتا ۔

اللہ تعالی ہی توفیق بخشنے والا ہے ۔ .

الإسلام سؤال وجواب
Create Comments