33683: بےگناہ کافر کوقتل کرنے میں دیت اورکفارہ واجب ہے


میں ایک اسلامی ملک میں ملازمت کررہا ہوں ، مجھ سے گاڑی کے حادثہ میں ایک کافرملازم مارا گيا ، میں نے یہ کام عمدا نہيں کیا توکیا مجھ پرکفارہ لازم آتا ہے کہ نہيں ؟

Published Date: 2005-02-02

الحمد للہ :

جی ہاں آپ کے ذمہ کفارہ ہے ، اورکفارہ کے ساتھ دیت بھی اس کے ورثاء کودینا ہوگي اس کی دلیل اللہ سبحانہ وتعالی کافرمان ہے :

{ کسی مومن کے لیے جائز نہیں کہ وہ کسی دوسرے مومن کوقتل کردے ، مگر غلطی سے ہوجائے ( تواوربات ہے ) جوشخص کسی مسلمان کوبلاقصد مار ڈالے ، اس پرایک مسلمان غلام کی گردن آزاد کرنا اورمقتول کے عزيزوں کودیت دینا ہوگي ، ہاں یہ اوربات ہے کہ وہ لوگ بطور صدقہ معاف کردیں ، اوراگر مقتول تمہاری دشمن قوم کا ہو اورہوبھی مومن ومسلمان توصرف ایک مومن غلام کی گردن آزاد کرنی لازمی ہے ، اوراگر مقتول اس قوم سے تعلق رکھتا ہو کہ تم اوران میں کوئي معاھدہ ہوتودیت دینالازم ہے ، جواس کے کنبے والوں کی دی جائے گي ، اورایک مسلمان غلام آزاد کرنا بھی ضروری ہے ، پس جونہ پائے اس کے ذمہ دومہینے کے لگاتار روزے رکھنا ہونگے ، اللہ تعالی سے بخشوانے کے لیے اوراللہ تعالی بخوبی جاننے والا اورحکمت والا ہے } النساء ( 92 ) ۔

جمہورعلماء کرام کہتے ہیں کہ جوبے گناہ کافرکوقتل کرے گا اس پر کفارہ ادا کرنا واجب ہے ۔

بے گناہ کافر کی تین اقسام ہیں :

1 - ذمی کافر : یہ وہ کافرہے جس کا ہمارے اوراس کی قوم کے ذمہ کا معاھدہ ہو ۔

2 - معاھد : وہ کافر ہے کہ ہمارے اوراس کی قوم کے مابین لڑائي نہ کرنے کا معاھدہ ہو ۔

3 - مستامن : یعنی جسے امن دیا گياہو ، یہ وہ کافر ہے جواسلامی ملک میں امان کے ساتھ آیا ہو ، مثلا : جواسلامی ملک میں تجارت یا ملازمت اوراپنے کسی رشتہ دار وغیرہ کوملنے کے لیے آیا ہو۔

لھذا جوکوئي بھی بے گناہ کافرکو قتل کرے اس پردواشیاء لازم آتی ہيں :

اول : دیت ۔

یہ دیت مقتول کے اہل خانہ کوادا کی جائے گی ، یہ اس وقت ہے جب اس کے اہل خانہ محاربی ( یعنی مسلمانوں کےخلاف لڑنے والے نہ ہوں ) نہ ہوں لیکن اگروہ ہمارے خلاف لڑنے والے ہوں تووہ دیت کے مستحق نہيں ، اس لیے کہ ان کے اموال اورخون کی کوئي حرمت نہيں رہتی ۔

دیکھیں : تفسیر السعدی صفحہ نمبر ( 277 ) ۔

دوم : کفارہ کی ادائيگي ، جمہورعلماء کرام کاقول یہی ہے ۔

ابن قدامہ رحمہ اللہ تعالی اپنی کتاب المغنی میں کہتے ہیں :

اور مضمون کافر کوقتل کرنے پر(کفارہ ) واجب آتا ہے ، چاہے وہ کافر ذمی ہویا امن دیا گيا ہو ، اکثر اہل علم رحمہم اللہ کا یہی قول ہے ، اورحسن ، امام مالک رحمہمااللہ کہتے ہیں : اس میں کوئي کفارہ نہیں کیونکہ اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے:

{ اور جوکوئي کسی مومن شخص کوغلطی سے قتل کردے اس پرایک مسلمان غلام آزاد کرنا ہے } ۔

تواس کا مفھوم یہ ہے کہ جومومن نہ ہو اس کے قتل میں کفارہ نہيں ۔

اورہماری دلیل ہے کہ اللہ تعالی نے فرمایا :

{ اوراگروہ ( مقتول ) ایسی قوم میں سے ہو جس کےاورتمہارے مابین معاھدہ ہو تواس کے اہل خانہ کودیت دینا ہوگي اورایک مومن غلام آزاد کرنا ہوگا } ۔

اورذمی کافر کے لیے بھی معاھدہ ہے اوریہ منطوق دلیل خطاب پر مقدم کیا جائے گا ، اوراس لیے بھی کہ آدمی کوظلما قتل کیا گيا ہے لھذا مسلمان کی طرح اس کے قتل سے بھی کفارہ واجب ہوگا ۔ اھـ

دیکھیں المغنی لابن قدامہ ( 12 / 224 ) ۔

اوریہی قول مفسرین کی ایک جماعت نے بھی اختیار کیا ہے جن میں امام طبری امام قرطبی اورحافظ ابن کثیر رحمہم اللہ شامل ہیں دیکھیں : تسفیر الطبری ( 9 / 43 ) اورتفسیر قرطبی ( 5 / 325 ) تفسیر ابن کثیر ( 2 / 376 ) ۔

ابن جریر الطبری رحمہ اللہ تعالی اپنی مایہ ناز تفسیر الطبری میں کہتے ہیں :

اہل تفسیر ہمارے اوران کے مابین معاھدہ والی قول سے تعلق رکھنے والے مقتول کی صفت میں اختلاف کرتے ہیں کہ آیا وہ مومن ہے یا کافر ؟

بعض اہل تفسیر کا کہنا ہے کہ وہ کافر ہے ، لیکن اس کے قاتل کوپر دیت دینی لازم آتی ہے ، اس لیے کہ اس کے اوراس کی قوم کے مابین معاھدہ ہے لھذا اس کی قوم کواس معاھدہ کی بنا پرجوان کے اورمومنوں کے مابین ہے دیت دینا واجب ہوگی ، اوریہ کہ وہ مال ان کے اموال میں سے ہی ہے ، اورمومنوں کے لیے ان کے مال میں سےکچھ بھی ان کے رضامندی کے بغیر لینا حلال نہیں ۔۔۔

پھرامام طبری رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں :

اس آیت کی تفسیر کے دوقولوں میں اولی اورقول اس کا ہے جویہ کہتا ہے کہ اس سے اہل عھد کا مقتول مراد لیا گيا ہے ، کیونکہ اللہ تعالی نے اسے مبھم رکھتے ہوئے فرمایا ہے :

{ اوراگروہ ایسی قوم میں سے ہوجس کے اورتمہارے مابین معاھدہ ہو } اوراللہ تعالی نے یہ نہيں فرمایا : کہ وہ مومن ہو ، جیسا کہ اہل حرب اورمومنوں کے مقتول میں کہا ہے ۔۔۔ لھذا اس میں ایمان کا وصف جوپہلے دونوں مقتولوں کے بارہ میں وصف بیان ہوا ہے ترک کرنے میں اس کے صحیح ہونے کی دلیل ہے جوہم نے اس بارہ میں کہا ہے ۔

اورانہوں نے یہ بھی ذکر کیا ہے کہ ابن عباس رضي اللہ تعالی عنہما نے کا قول ہے :

( اوراگر وہ اس قوم سے ہوجس کے اورتمہارے مابین معاھدہ ہو ) ابن عباس کہتے ہیں جب کوئي کافر تمہارے ذمہ میں ہواوراسے قتل کردیا جائے تواس کے قاتل پر لازم ہے کہ واس کے اہل خانہ کودیت ادا کرے ، اورایک مومن غلام آزاد کرے ، یاپھر دو ماہ کے مسلسل روزے رکھے ۔ اھـ کچھ کمی وبیشی کے ساتھ نقل کیا گيا ہے ۔

دیکھیں : تفسیر الطبری ( 9 / 40 - 43 ) ۔

اورشيخ ابن عثیمین رحمہ اللہ تعالی نے بھی سورۃ النساء کی تفسیر میں یہی قول اختیار کیا ہے ۔ کیسٹ نمبر ( 27 ) دوسری سائڈ ۔

واللہ اعلم  .

الاسلام سوال وجواب
Create Comments