33689: دنیا کی عمر میں وارد ہونے کا بطلان اور رد


میں نے سنا ہے کہ بعض ‏علماء کرام نے کا کہنا ہے کہ پندرہ سوھجری سے قبل قیامت بپا ہوجائے گي اوراس پرنبی صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث سے بھی دلائل لیے ہیں ، توکیا یہ کلام صحیح ہے ؟

Published Date: 2011-03-26
الحمد للہ
سائل نے جس کلام کی طرف اشارہ کیا وہ امام سیوطی رحمہ اللہ تعالی کی ہے انہوں نے اپنی کتاب " الحاوی " میں اس بات کا ذکر کیاہے کہ دنیا کی عمر سات ہزار برس ہے اورنبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت چھ ہزار کے آخر میں ہوئی ہے ۔دیکھیں : الحاوی ( 2 / 249- 256 ) ۔

چھ ہزار کے آخر کا معنی یہ ہے کہ نصف کے بعد ، لھذا اس بنا پر اس امت کی عمر ہزار برس سے زيادہ اورپندرہ سو سے کم ہوگي ۔

امام سیوطی رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں :

یہ توممکن ہی نہیں کہ مدت اصل میں مکمل پندرہ سو ہو ۔ ا ھـ

یعنی ان کا مقصد یہ ہے کہ پندرہ سوبرس سے کم ہوگی ، پھر اس کے بعد بطور استدلال کچھ احادیث اورآثار ذکر کیے ہیں ، اور ان میں بعض تواسرائيلی روایات ہيں جن سے حجت پکڑنا جائز نہیں ، اور کچھ احادیث ضعیف ہیں بکلہ اہل علم نے تو ان پر کذب اورموضو‏ع کا حکم لگایا ہے ۔

اس کلام کے بطلان پر مندرجہ ذيل اشیاء دلالت کرتی ہيں :

1 - اگرتویہ کلام صحیح اوردرست ہوتی تو پھر ہر ایک کو علم ہوتا کہ قیامت کب قائم ہوگی ، اورایسا کتاب وسنت کی واضح نصوص کے خلاف ہے ، جواس بات پر قطعی دلالت کرتی ہیں کہ اللہ سبحانہ وتعالی کے علاوہ کوئي شخص بھی قیامت کے بارہ میں علم نہيں رکھتا ۔

اللہ سبحانہ وتعالی کافرمان ہے :

{ لوگ آپ سے قیامت کے بارہ میں سوال کرتے ہیں ، آپ کہہ دیجۓ کہ اس کا علم تواللہ تعالی کو ہی ہے ، آپ کوکیا خبر بہت ممکن ہے کہ قیامت بالکل ہی قریب ہی ہو } الاحزاب ( 63 ) ۔

ابن کثیر رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں :

اللہ سبحانہ وتعالی اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بتا رہے ہیں کہ انہيں قیامت کا کوئي علم نہيں اوراگر لوگ آپ سے اس بارہ میں سوال کریں تواللہ تعالی نے راہنمائی کرتے ہوئے فرمایا کہ اس علم کو اللہ تعالی کی طرف لوٹائيں ۔ اھـ دیکھیں : تفسیر ابن کثیر ( 3 / 527 ) ۔

شیخ شنقیطی رحمہ اللہ تعالی کا کہنا ہے :

یہ تومعلوم ہی ہے کہ انما حصر کا صیغہ ہے لھذا آيت کا معنی یہ ہوگا : اللہ تعالی کے علاوہ کوئي بھی قیامت کا علم نہيں رکھتا اھـ دیکھیں : اضواء البیان ( 6 / 604 ) ۔

اوراللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے :

{ لوگ آپ سے قیامت کے واقع ہونے کا وقت دریافت کرتے ہیں ، آپ کواس کے بیان کرنے سے کیا تعلق ؟ اس کے علم کی انتہاء تو اللہ تعالی کی جانب ہے ، آپ تو صرف اس سے ڈرتے رہنے والوں کو آگاہ کرنے والے ہيں } النازعات ( 42 - 45 ) ۔

حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ تعالی اس کی تفسیر میں کہتے ہيں :

یعنی قیامت کا علم آپ کے پاس نہيں اور نہ ہی مخلوق میں سے کسی ایک کے پاس قیامت کا علم ہے ، بلکہ اسے تو اللہ تعالی کی طرف ہی لوٹایا جاتا ہے ، وہ اللہ وحدہ لاشریک کی ذات ہی اس کے علم کی تعیین کوجانتی ہے ۔ اھـ

دیکھیں تفسیر ابن کثیر ( 4 / 736 ) ۔

اورشيخ سعدی رحمہ اللہ تعالی اپنی تفسیر میں کہتے ہیں :

جب قیامت کے علم میں بندوں کی کوئي دینی مصلحت نہیں پائي جاتی تھی اورنہ ہی دنیاوی مصلحت لھذا اسے ان سے مخفی ہی رکھا گيا بلکہ اسے مخفی رکھنے میں ہی بندوں کی مصلحت تھی اس لیے اللہ تعالی نے اپنی ساری مخلوق سے اس کا علم مخفی رکھا اورصرف اور صرف اسے اپنے لیے ہی خاص کرتے ہوئے فرمایا : { آپ کے رب کی طرف ہی اس کے علم کی انتہاء ہے } اھـ

سنت نبویہ میں جو اس پر دلالت کرتی ہيں کہ قیامت کا علم توصرف اور صرف اللہ تعالی کے پاس ہی ہے حدیث جبریل سب سے مشھور ہے جس میں بیان ہوا کہ جب جبریل علیہ السلام نے نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے قیامت کے علم کے متعلق سوال کیا تونبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا :

( اس کے بارہ میں جس سے سوال کیا جارہا ہے وہ بھی سائل سے کچھ زيادہ نہيں جانتا ) صحیح مسلم حدیث نمبر ( 8 ) ۔

2 - جن آثار سے امام سیوطی رحمہ اللہ تعالی نے استدلال کیا ہے اہل علم نے انہیں ضعیف قرار دیا ہے بلکہ انہیں کذب یعنی جھوٹ کا حکم دیا گيا ہے کہ یہ سب آثار جھوٹ ہیں ۔

امام ابن قیم رحمہ اللہ تعالی نے المنار المنیف میں موضوع حدیث کو پہنچاننے کے طریقے ذکر کرتے ہوئے کہتے ہيں :

ان میں سے ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ : صریح قرآن کریم کے حدیث کا مخالف ہونا بھی شامل ہے ، مثلا دنیا کی مقدار جس میں یہ تحدید ہے کہ دنیا کی عمر سات ہزار برس ہوگی والی حدیث ، اور ہم اس وقت ساتویں ہزار میں ہيں ، اوریہ سب سے واضح اورکھلا جھوٹ ہے اس لیے کہ اگر یہ صحیح ہوتی توہر ایک کو یہ علم ہوتا کہ ہمارے دور سے لیکر قیامت تک میں دو سواکیاون برس باقی بچے ہیں ، حالانکہ اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے :

{ یہ لوگ آپ سے قیامت کے متعلق سوا ل کرتے ہیں کہ اس کا وقوع کب ہوگا ؟ آپ فرما دیجئے کہ اس کا علم صرف میرے رب ہی پاس ہے ، اس کے وقت پر اس کوسوا اللہ تعالی کے کوئي اورظاہر نہيں کرے گا وہ آسمانوں اور زمین میں بڑا بھاری حادثہ ہوگا وہ تم پر محض اچانک آپڑے گي وہ آپ سے اس طرح پوچھتے ہیں جیسے گویا آپ اس کی تحقیقات کرچکے ہیں ، آپ فرمادیجئے کہ اس کے علم خاص اللہ ہی پاس ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے } الاعراف ( 187 ) ۔ اھـ دیکھیں المنار المنیف ( 1 / 80 ) ۔

ابن کثیر رحمہ اللہ تعالی نے اپنی کتاب " النھایۃ فی الفتن والملاحم " میں کہا ہے کہ :

نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی بھی صحیح حدیث میں یہ ثابت نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قیامت کا وقت کسی مدت میں محصور کیا ہو ، بلکہ صرف اتنا ثابت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قیامت کی کچھ نشانیاں اورعلامات اور شرائط بیان کي ہیں ۔ اھـ

دیکھیں : النھایۃ فی الفتن والملاحم لابن کثير ( 1 / 25 ) ۔

اورابن کثیر رحمہ اللہ تعالی نے ایک دوسری جگہ پر کچھ اس طرح کہا :

کتب اسرائیل اوراہل کتاب میں جویہ لکھا ہوا ہے کہ کئي ہزار اور دو سوبرس گذر چکے ہیں اسے کئي ایک علماء کرام نے اسے غلط کہا اوراس کی خطاء قرار دیا ہے اوروہ اس میں سچے بھی ہیں ، اورایک حدیث میں آیا ہے کہ " دنیا آخرت کے جمعوں میں سے ساتواں دن ہے " لیکن اس کی بھی سند صحیح نہیں ہے ۔

اوراسی طرح قیامت کی تحدید میں جتنی بھی احاديث یا آثار وارد ہوئے ہیں ان سب کی سند ثابت نہيں ۔ اھـ دیکھیں النھایۃ فی الفتن والملاحم لابن کثیر ( 2 / 28 ) ۔

اورامام سخاری رحمہ اللہ تعالی نے" المقاصد الحسنۃ " میں کہا ہے :

روز قیامت کی تحدید میں جتنا کچھ بھی روایات کیا جاتا ہے اس کا یا تو اصل میں وجود ہی نہيں یا پھر اس کی سند ثابت نہيں ہے ۔ اھـ

دیکھیں : المقاصد الحسنۃ للسخاوی ( 444 ) ۔

3 - امام سخاوی کا اپنا بیان کردہ بھی اس قول کے باطل ہونے پر دلالت کرتا ہے :

سخاوی کہتے ہيں کہ امام مھدی بارہ سوکے بعدظاہر ہونگے ، اوراس وقت تو چودہ سو برس سے بھی زيادہ گزر چکے ہیں لیکن پھر بھی امام مھدی کا ظہور نہيں ہوا ۔

سخاوی رحمہ اللہ کہتے ہيں کہ مغرب کی جانب سے طلوع شمس کے بعد لوگ ایک سو بیس برس تک رہیں گے اورپھر قیامت قائم ہوگي ، لھذا اس کا معنی یہ ہوا کہ بیس برس سے زائدپہلے ہی سورع مغرب سے طلوع ہوچکا ہے !!!

سخاوی نے یہ بھی ذکر کیا ہے کہ دجال صدی کے آخر میں ظاہر ہوگا ، اورمسیح عیسی بن مریم علیہ السلام کا نزول اورمغرب سے سورج کا طلوع ہونا قیامت سے دو سوبرس قبل ہوگا !!!

لھذا یہ سب کچھ اس تحدید کے باطل ہونے پر دلالت کرتا ہے ، واجب اورضروری تویہی ہے کہ قیامت کے علم کو اللہ تعالی کی طرف ہی لوٹایا جائے ، اوراللہ سبحانہ وتعالی نے اسی چيز کاہمیں حکم دیتے ہوئے فرمایا :

{ لوگ آپ سے قیامت کےبارہ میں سوال کرتے ہيں آپ کہہ دیجئے کہ اس کا علم تو اللہ تعالی ہی کے پاس ہے آپ کو کیا خبر کہ قیامت بالکل قریب ہی ہو } الاحزاب ( 63 ) ۔

واللہ تعالی اعلم .

الشیخ محمد صالح المنجد
Create Comments