41052: کاسمیٹک سامان فروخت کرنے کا حکم


سوال: میری کاسمٹیک اور ہیئر ڈریسنگ کے لوازمات فروخت کرنے کی دکان ہے، تو کیا یہ پیشہ حلال ہے یا حرام؟

Published Date: 2015-03-25

الحمد للہ:

اس پیشے کے بارے میں قدرے تفصیل ہے:

1- اگر آپ یہ اشیاء ایسے  کسمٹر کو فروخت کرتے ہیں جن کے بارے میں آپ جانتے ہیں کہ  اسے حرام بے پردگی میں استعمال   کریگا تو یہ جائز نہیں ہے۔

2- اگر آپ یہ اشیاء ایسے کسٹمر کو فروخت کریں جو  جائز بناؤ سنگھار کیالئے استعمال کریگا تو یہ جائز ہے۔

3- اور اگر آپ کو کسٹمر کے بارے میں علم نہیں ہے کہ کس چیز میں اسے استعمال کیا جائے گا، تو براءت اصلیہ کے اعتبار سے  ان اشیاء کی فروخت جائز ہوگی۔

دائمی فتوی کمیٹی کا کہنا ہے کہ:
"اگر دکاندار کو یہ علم ہو کہ  خریدار ان اشیاء کو  اللہ کی حرام کردہ  جگہوں میں استعمال کریگا تو ایسے کسٹمر کو مطلوبہ اشیاء مہیا کرنا جائز نہیں ہے، کیونکہ اس میں گناہ اور زیادتی کے کاموں میں معاونت ہے، اور اگر خریدار کے بارے میں علم ہے کہ ان اشیاء کو اپنے خاوند کیلئے بناؤ سنگھار میں استعمال کریگی ،  یا آپکو اس خاتون کے بارے میں علم ہی نہیں ہے تو پھر ان چیزوں کی تجارت کرنا جائز ہے"
"فتاوى اللجنة الدائمة "(13/67)

واللہ اعلم.

اسلام سوال و جواب
Create Comments