42909: سركلى نظام ميں ايك شخص كارڈ لے اور وہ اس كے مالك اور پانچ افراد كو رقم ادا كرے


ميں نے اپنے ايك دوست سے كارڈ ليا تو ميرے ليے اس كارڈ كے بدلے اسے سو ڈالر، اور جس شخص نے ميرے اس دوست كو كارڈ ديا تھا اسے بھى سو ڈالر اور ان پانچ افراد كو بھى سو ڈالر ضرور دينا ہونگے جنہوں نے اسى ترتيب سے يہى عمل كيا، اور چھٹا شخص آٹھ سو ڈالر لےگا، اور اس كارڈ كى كمپنى آٹھ سو ڈالر لےگى، اور اسى طريقہ سے يہ كام چلتا ہے كہ جو شخص بھى كارڈ ارسال كريگا اسے چار سو ڈالر حاصل ہونگے، اور اگر اس نے چار اشخاص كو چار كارڈ ديے اور ان ميں سے ہر ايك شخص نے كارڈ دوسرے تك پہنچايا تو پہلے شخص كو سولہ سو ڈالر ( 1600 ) حاصل ہونگے، اور اسى طرح ....
كيا اس لين دين اور معاملہ ميں شامل ہونا جائز ہے ؟

Published Date: 2010-05-29

الحمد للہ:

يہ معاملہ جوا اور قمار بازى پر اور لوگوں كا ناحق اور باطل طريقہ سے مال كھانے پر مشتمل ہے، اور يہ دونوں طريقے ہى ظاہرا حرام ہيں، جيسا كہ اللہ سبحانہ وتعالى كا فرمان ہے:

﴿ اے ايمان والو يقينا بات يہى ہے كہ شراب اور جوا و قمار بازى، اور پرستش گاہيں اور بت، اور فال نكالنے كے تير يہ سب گندى باتيں اور شيطانى كام ہيں، ان سے بالكل الگ تھلگ رہو، تا كہ تم كامياب اور فلاح ياب ہو سكو، شيطان تو يہى چاہتا ہے كہ وہ شراب اور جوئے كے ذريعہ تمہارے مابين آپس ميں بغض و عداوت اور دشمنى پيدا كر دے، اور تمہيں اللہ تعالى كى ياد اور نماز سے روك دے، تو كيا تم اب بھى تم ركنے والے ہو ﴾ المآئدۃ ( 90 - 91 ).

اور ايك دوسرے مقام پر كچھ اس طرح فرمايا:

﴿ اے ايمان والو! تم آپس ميں ايك دوسرے كا مال باطل اور ناحق نہ كھاؤ، ہاں يہ ہے كہ وہ تمہارى آپس كى رضامندى سے خريد و فروخت ہو ﴾ النساء ( 29 ).

اور يہ معاملہ جوا و قماربازى اس طرح بنتا ہے كہ اس ميں شركت كرنے والا شخص اپنا مال بغير كسى مقابل چيز كے اس اميد پر خرچ كرتا ہے كہ وہ خرچ كردہ مال سے زيادہ رقم حاصل كريگا، جو كہ دھوكہ اور حاصل ہونے كے مابين گھومتا ہے، اور يہى جوا و قمار بازى كى تعريف ہے.

اور لوگوں كا ناحق مال كھانے كى وجہ بھى ظاہر ہے كہ اس معاملہ سے فائدہ صرف انہيں ہى ہوتا ہے جنہوں نے يہ شروع كر ركھا ہے، يا پھر اس ميں شركت كرنے والوں ميں سے بہت ہى قليل سى تعداد كے دوسرے افراد كو حاصل ہوتا ہے، اور باقى اكثر لوگ بغير كسى فائدہ اور چيز كے باہر نكل جاتے ہيں اور انہيں صرف گناہ ہى حاصل ہوتا ہے.

اس ليے بعض يورپى ممالك ميں اسے وہمى سركل، يا ہوائى خريد و فروخت كا نام ديا جاتا ہے.

جواب ٹيكنكل اى ميل كمپنى كے ماركيٹنگ مينجر ڈاكٹر وائل غنيم كہتے ہيں:

يہ سوچ ايسى منطق پر قائم ہے جو قمار بازى كے زيادہ مشابہ ہے، وہ اس طرح كہ سب اپنا مال ميز پر ركھتے ہيں پھر جو ان ميں سب سے زيادہ بات چيت اور دوسروں كو قائل كرنے كا ملكہ ركھتا ہو وہ اس مال كو جمع كر كے اٹھا ليتا ہے، اور اس ميں سب سے پہلے آنے والا يعنى پہل كا بہت زيادہ دخل ہے جو باقى مانندہ ہزاروں ملنے والے افراد كو لاتى ہے، وہ اس طرح كہ اس كام كا مؤسس اور سركل كے معين طبقہ كے كچھ اس كے تابع افراد ـ جو كمپنى كے عام ہونے اور اس سركل كے حساب سے مختلف ہوتے ہيں ـ ہى بہت زيادہ نفع حاصل كرتے ہيں، اور وہ لوگ يہاں اس جوارى كا كردار ادا كرتے ہيں جو سارا مال حاصل يا جمع كر ليتا ہے، اور ان كے اس بہت بڑى كمائى ميں ان كى شديد ذہانت داخل نہيں ہوتى، بلكہ انہوں نے جو كچھ كيا ہے وہ صرف اتنا ہے كہ انہوں نے كئى ايك اشخاص كو اس پر قائل كيا اور پھر وہ ايك طرف بيٹھ كر ديكھنے لگے كہ ان كے قائل كردہ تابع افراد كيا كرتے ہيں، اور ايسے ہى وہ، اور سب سے پہلا شخص وہ افضل ہے.. اور سركل كئى بنيادى اور رئيسى دور ميں تقسيم ہوتا ہے:

پہلا:

اس وہمى سركل كے بادشاہ اور وہ يہ لوگ ہيں جيسا كہ ميں ابھى بيان كيا ہے جو جو وہمى كمائى صرف اپنے پہل كى بنا پر حاصل كرينگے اور ان كا تناسب بہت ہى زيادہ كم ہے.

دوسرا:

وہمى سركل كے تاجر حضرات، اور وہ يہ لوگ ہيں جو اپنى كمائى حاصل كرينگے ليكن ان كى كمائى بہت سادہ اور عام قسم كى ہوگى اتنى نہيں جتنى انہوں نے اپنى اميدوں سے وابستہ كر ركھى اور ان كا تناسب بھى بہت ہى كم ہے.

سوم:

وہمى سركل كے جال سے كامياب ہونے والے افراد، اور وہ يہ افراد ہيں جو نہ تو كچھ كما سكے، اور نہ ہى انہيں كوئى خسارہ ہوا بلكہ انہوں نے ادا كردہ رقم حاصل كر لى، اور ان كا تناسب معقول ہے.

چہارم:

اس وہمى سركل كى قربانى بننے والے افراد، اور ان كا تناسب اسى فيصد ( 80 % ) سے بھى زائد ہے اور سركل كے جتنے درجات اور مراتب زيادہ ہونگے ان كى نسبت بھى زائد ہوتى جائيگى.

اور سركل كى گہرائى جتنى كم ہو گى اتنى ہى دوسروں كو قائل كرنے والوں كى نسبت بھى كم ہو گى، يہ چيز ہمارے سامنے يہ وضاحت كرتى ہے كہ جتنى زيادہ زيادہ تعداد خسارہ پانے والوں كى ہو گى اسى اعتبار سے زيادہ كمائى ہوگى، كيونكہ اساسا كمپنى ہى نفع حاصل كريگى، يا پھر وہمى اور خيالى سركل كے بادشاہ اور تاجر ہى فائدہ حاصل كرينگے... اور اس حساب و كتاب كے مقابلہ ميں صرف وہى باقى رہينگے جو وہمى اور خيالى سركل كے ليے قربانى كا بكرا بنينگے... جو وہمى اور خيالى سركل كے بادشاہ اور تاجر حضرات كے ليے اپنا مال جمع كراتے ہيں.

اور وہ كہتے ہيں:

پانچ جنورى دو ہزار ( 2000 ) ميلادى كو امريكہ كى ايك رياست ميں كھپت كے حمائتى ادارہ نے نشريہ جارى كيا جس ميں ايك ايسى مجلس سے بچنے كا كہا گيا تھا جس نے شراكت كارڈوں كو وہمى اور خيالى سركل كے نشر كا ذريعہ بنا ليا تھا، اور اس رياست كے چميبر آف كامرس نے ان وہمى سركلوں سے بچنے كا كہا اور اس كى درج ذيل صفات مقرر كيں:

ـ يہ يقينى اور جلدى نفع شمار ہوتا ہے.

ـ اس ميں شريك ہونے والے بعض كھاتھ داروں كے ذريعہ كاميابى كى فكر ظاہر ہوتى ہے.

ـ يہ بلا واسطہ ملاقاتوں كے ذريعہ قائم ہوتى ہے جس ميں آپ نفسياتى دباؤ ميں آ كر كام كرتے ہيں، اس طرح كہ آپ بغير سوچے اس ملاقات كے ختم ہوتے ہى اس ميں شركت اختيار كر ليتے ہيں.

اور ادارہ نے يہ يقين دلايا كہ يہ وہمى اور خيالى سركل بہت بڑا جھوٹ ہے.

شركت اختيار كرنے والوں كى بہت ہى كم تعداد كامياب ہوتى ہے.

ـ كينڈا كى حكومت نے جرائم كے قوانين ميں ايك خاص جزء كا اضافہ كيا ہے: جو شخص يا گروپ وہمى اور خيالى سركل كے نظام كا كاروبار كريگا وہ مجرم ٹھريگا.

اور حكومت نے اس نظام كے متعلق وصف بيان كرتے ہوئے كہا تھا كہ يہ ايسا طريقہ ہے جس كى اساس اور بنياد يہ ہے كہ اس ميں شريك ہونے كے ليے كچھ رقم گروپ كے ضمن ميں ادا كى جاتى ہے، جو كہ اس موضوع كے متعلق ليكچروں يا تعليمى لٹريچر كے حصول كے عوض ميں ہوتى ہے، اور اس كے بعد قربانى كا مطالبہ كيا جاتا ہے كہ اسے قائم ركھنے كے ليے كئى ايك اشخاص اور افراد كو تيار اور قائل كرنے كى كوشش كى جائے.

اور كينڈين پوليس كى ويب سائٹ نے وضاحت كى ہے كہ جنہوں نے نقصان اور خسارہ اٹھايا ان سے كئى ملين ڈالر جمع كيے گئے ہيں، ليكن اس كے مقابلہ ميں كامياب ہونے والى تعداد بہت ہى كم ہے اور انہوں نے بہت زيادہ مال جمع كيا ہے.

كتاب " False Profits " كے مؤلف نے اس كو شرح و بسط كے ساتھ بيان كيا ہے جس سے سب كے ليے يہ ثابت ہوتا ہے كہ وہمى اور خيالى سركل كا طريقہ ايك ايسا عمل ہے جس ميں شريك ہونے والوں ميں سے صرف وہى كامياب ہوتے ہيں جو سردار اور بڑے ہوتے ہيں جو غالبا كمپنى كے مالكان يا ان كے ساتھ كمپنى كے مؤسسين ميں شامل ہوتے ہيں.

مستقل فتوى كميٹى كے علماء كرام سے اس معاملہ كى كئى ايك صورتوں كے متعلق دريافت كيا گيا تو كميٹى نے اس كى حرام ہونے كا فتوى ديا، يہ بيان كيا كہ يہ سود اور جوا و قمار بازى كى ايك قسم ہے.

مستقل فتوى كميٹى كے فتاوى جات ميں ہے:

اگر تو معاملہ ايسا ہى ہے جيسا بيان كيا گيا ہے؛ تو پھر يہ معاملہ جوا اور قمار بازى ميں شامل ہوتا ہے، جس سے اللہ تعالى نے منع كرتے ہوئے فرمايا ہے:

﴿ اے ايمان والو! بات يہى ہے كہ يقينا شراب، اور جوا اور بت پرستى و پرستش گاہيں اور فال نكالنے والے تير يہ سب گندى باتيں اور شيطانى كام ہيں، تو اس سے اجتناب كرو اور باز رہو، تا كہ تم فلاح حاصل كرسكو ﴾المآئدۃ ( 90 ).

ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 15 / 212 ).

اور فتاوى جات ميں يہ فتوى بھى درج ہے:

يہ معاملہ اور لين دين جائز نہيں، بلكہ يہ منكرات اور برائى اور عظيم كبيرہ گناہوں ميں شمار ہوتا ہے؛ كيونكہ يہ معاملہ ربا الفضل اور ربا النسئۃ يعنى زيادہ اور ادھار سود پر مشتمل ہے، اور يہ دونوں ہى مسلمانوں كے اجماع كے مطابق حرام ہيں.

اور اس ليے بھى كہ اس ميں لوگوں كے مال كے ساتھ كھيلنا، اور لوگوں كا ناحق مال كھانا بھى ہے، جو اس معنى ميں جوا اور قمار بازى كے حكم ميں آتا ہے، اور يہ بھى نص اور اجماع كے لحاظ سے حرام ہے " اھـ

ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 15 / 215 ).

اور فتاوى جات ميں يہ فتوى بھى درج ہے:

" مذكورہ لين دين واضح دھوكہ اور فراڈ اور سود و جوا اور قمار بازى پر مشتمل ہے، اور يہ سب كچھ كبيرہ گناہوں ميں شامل ہوتا ہے، جو اللہ تعالى كى ناراضگى اور سزا كا موجب ہيں " اھـ

ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 15 / 218 ).

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments