47396: انٹرنيٹ كيفے كے مينجر كى ملازمت كا حكم


ميں انٹر نيٹ كيفے ( ايسى جگہ جہاں پر افراد انٹر نيٹ استعمال كرنے كے ليے كمپيوٹر اجرت پر حاصل كريں ) كا مينجر ہوں، ليكن بعض لوگ انٹر نيٹ كا استعمال صحيح نہيں كرتے، بلكہ لڑكيوں كے ساتھ چيٹ كرتے ہيں اور ويڈيو كيمرہ كے ساتھ ايك دوسرے كو ديكھتے ہيں، اور بعض لوگ اسلامى ويب سائيٹس ديكھتے ہيں، اور بعض لوگ اپنا كام كرنے كے ليے آتے ہيں، اور بعض لوگ اپنے اہل و عيال كے ساتھ بات چيت كرنے آتے ہيں، تو كيا ميرى يہ ملازمت حرام ہے، يا كہ انٹر نيٹ استعال كرنے والے پر گناہ ہے؟
يہ علم ميں ركھيں كہ كيفے ميرا نہيں بلكہ ميں ملازمت كرتا ہوں، يعنى ميں اس سے منع نہيں كر سكتا، اور ميرے پاس اس كے علاوہ اور كوئى كام بھى نہيں ہے، ميں اس كام كا محتاج ہوں، كيونكہ كام كے مواقع بہت كم ہيں، ہو سكتا ہے ميں چھ ماہ تك بغير كام كے ہى بيٹھا رہوں ؟

Published Date: 2005-06-17

الحمد للہ :

اس ميں كوئى شك نہيں سب سے پہلے تو گناہ تو حرام كا ارتكاب كرنے والے پر ہے، چاہے وہ مشاہدہ حرام ہو يا لكھنا، يا بات چيت كرنا، ليكن اس كے ساتھ تعاون كرنے والے اور حرام كے ارتكاب ميں آسانى اور سہولت پيدا كرنے والا بھى گناہ ميں شريك ہے، جيسا كہ اس ميں وہ شخص بھى ملحق ہو گا جو برائى كو ديكھے اور برائى سے منع نہ كرے، انٹرنيٹ كيفے كا حكم تفصيل كے ساتھ سوال نمبر ( 34672 ) كے جواب ميں بيان كيا جا چكا ہے، آپ اسے پڑھ ليں.

( انٹرنيٹ كيفے ميں ملازمت يا سرمايہ لگانا جائز نہيں، ليكن اگر وہ برائيوں اور خرابيوں سے خالى ہو تو ايسا كرنے ميں كوئى حرج نہيں، اس طرح كہ نيٹ استعمال كرنے كے ليے آنے والوں كو حرام اور فحش ويب سائيٹس استعمال نہ كرنے دينا اور انہيں بند كر كے ناممكن بنانا، يا پھر اگر گاہك اسے استعمال كرنے كا اصرار كرے تو گاہك كو وہاں سے بھگا دينا، كيونكہ اللہ سبحانہ وتعالى كا فرمان ہے:

{اور تم نيكى و بھلائى اور تقوى ميں ايك دوسرے كا تعاون كرتے رہا كرو، اور برائى معصيت اور ظلم و زيادتى ميں ايك دوسرے كا تعاون مت كرو} المائدۃ ( 2 ).

اور نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" تم ميں سے جو كوئى بھى برائى ديكھے اسے چاہيے كہ وہ اسے اپنے ہاتھ سے روكے، اگر اس كى استطاعت نہ ہو تو اسے اپنى زبان سے روكے، اور اگر اس كى بھى طاقت نہ ہو تو دل سے، اور يہ ايمان كا كمزور ترين حصہ ہے"

صحيح مسلم حديث نمبر ( 48 ).

شيخ ابن باز رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

( دل كے ساتھ برائى روكنا اورمنع كرنا ہر ايك شخص پر فرض اور ضرورى ہے، وہ يہ ہے كہ برائى سے بغض ركھنا اور اسے برا جاننا، اورناپسند كرنا، اور ہاتھ اور زبان سے منع نہ كر سكنے كى عدم استطاعت كے وقت برے لوگوں سے جدا ہو جانا ). انتھى

ماخوذ از: الدرر سنيۃ فى الاجوبۃ النجديۃ ( 16 / 142 ).

اور جب اس كيفے پر كنٹرول كرنا ممكن نہ ہو، اور اس سے برائى ختم كرنا، اور اس سے منع كرنا ممكن نہ ہو تو گناہ اور معصيت و نافرمانى ميں پڑنے سے بچتے ہوئے كيفے كھولنا جائز نہيں ہے.

لھذا اگر آپ اس كيفے ميں برائى سے منع نہيں كرسكتے تو پھر اپنے آپ كو اس سے نجات دلائيں، اور معصيت و نافرمانى كرنے والوں كو چھوڑ ديں، كيونكہ آپ اس خطرہ سے خالى نہيں رہ سكتے كہ ان پر اللہ تعالى كا غضب اور ناراضگى نازل ہو، اس ليے اس كے علاوہ كوئى اور مباح اور جائز كام تلاش كر ليں، جس سے آپ حلال روزى كماسكيں.

ہم آپ كو اللہ تعالى كا يہ فرمان ياد دلاتے جائيں كہ:

{اور اللہ تعالى تمہارے پاس اپنى كتاب ميں يہ حكم اتار چكا ہے كہ جب تم اللہ تعالى كى آيات كے ساتھ كفر كرتے ہوئے اور مذاق كرتے ہوئے سنو تو تم اس مجمع ميں ان كے ساتھ اس وقت تك نہ بيٹھو جب تك كہ وہ كسى اور بات ميں مشغول نہ ہو جائيں، ( اگر تم بيٹھو گے تو ) تم بھى انہيں جيسے ہو گے، بلا شبہ اللہ تعالى منافقوں اور كافروں كو جہنم ميں جمع كرنے والا ہے}النساء ( 140 ).

امام قرطبى رحمہ اللہ تعالى اس آيت كى تفسير ميں كہتے ہيں:

فرمان بارى تعالى:

{تو تم اس مجمع ميں ان كے ساتھ اس وقت تك نہ بيٹھو جب تك كہ وہ كسى اور بات ميں مشغول نہ ہو جائيں}.

يعنى كفر كے علاوہ دوسرى باتوں ميں.

{( اگر تم بيٹھو گے تو ) تم بھى انہيں جيسے ہو گے}.

تو يہ اس بات كى دليل ہے كہ جب گناہ اور معصيت ظاہرا ہو تو معاصى اور گناہ كرنے والوں سے اجتناب كرنا واجب ہے؛ كيونكہ جو ان سے اجتناب نہيں كرتا اور ان كے ساتھ بيٹھتا ہے، وہ ان كى معصيت اور فعل پر راضى ہے، اور كفر پر رضامندى كفر كا ارتكاب ہے، اللہ سبحانہ وتعالى كا فرمان ہے:

{( اگر تم بيٹھو گے تو ) تم بھى انہيں جيسے ہو گے}.

لھذا جو شخص بھى معصيت و نافرمانى والى مجلس اور جگہ ميں بيٹھے اور برائى كو نہ روكے تو وہ بھى ان كے ساتھ گناہ ميں برابر كا شريك ہے.

يہ ضرورى ہے كہ جب وہ معصيت اور گناہ كى بات اور اس پر عمل كريں تو انہيں اس سے منع كيا جائے، اور اگر وہ انہيں روك نہيں سكتا تو اسے وہاں سے اٹھ جانا چاہيے، تا كہ وہ بھى اس آيت ميں مذكور لوگوں ميں سے نہ ہو جائے.

عمر بن عبد العزيز رحمہ اللہ تعالى سے بيان كيا جاتا ہے كہ: انہوں نے شراب نوشى كرنے والے كچھ لوگوں كو پكڑ ليا، تو حاضرين ميں سے ايك شخص كے بارہ ميں ان سے كہا گيا كہ: وہ تو روزہ سے ہے، تو انہوں اس كى تاديب زيادہ كى ( يعنى اسے سزا اور تعزير سخت دى ) اور يہ آيت تلاوت كى:

{( اگر تم بيٹھو گے تو ) تم بھى انہيں جيسے ہو گے}.

يعنى معصيت ونافرمانى پر راضى ہونا بھى معصيت و نافرمانى ہى ہے، اور اسى ليے معصيت كا ارتكاب كرنے والے اور اس پر راضى ہونے والے شخص كو گناہوں كى سزا دى جاتى ہے، حتى كہ وہ سب ہلاك ہو جاتے ہيں. اھـ

ديكھيں: تفسير القرطبى ( 5 / 418 ).

پھر خدشہ ہے كہ ان جيسى جگہوں پر كام اور ملازمت كرنے والے شخص كا ايمان كمزور ہو جائے، اور اس كے دل سے غيرت نامى چيز ہى جاتى رہے، اور ہو سكتا ہے شيطان اسے معصيت و نافرمانى كرنے كى دعوت ہى دے ڈالے.

اللہ تعالى كا فرمان ہے:

{اے ايمان والو! شيطان كى پيروى اور اتباع نہ كرو، اور جو كوئى بھى شيطان كى پيروى اور ابتاع كرے تو وہ تو بے حيائى اور برے كاموں كا ہى حكم كرے گا}.

اور پھر يہ بات بھى آپ كے علم ميں ہونى چاہيے كہ جو كوئى بھى كسى چيز كو اللہ تعالى كے ليے ترك كرتا ہے، اللہ تعالى اسے اس كے عوض ميں اس سے بھى بہتر عطا فرماتا ہے، اور پھر جو كچھ اللہ تعالى كے پاس ہے وہ صرف اور صرف اللہ تعالى كى اطاعت و فرمانبردارى سے ہى حاصل ہو سكتا ہے، فرمان بارى تعالى ہے:

{اور جو كوئى بھى اللہ تعالى كا تقوى اور پرہيزگارى اختيار كرتا ہے اللہ تعالى اس كے ليے نكلنے كى راہ بنا ديتا ہے، اور اسے رزق بھى وہاں سے ديتا ہے جہاں سے اس كا وہم و گمان بھى نہيں ہوتا، اور جو كوئى بھى اللہ تعالى پر توكل اور بھروسہ كرتا ہے اللہ تعالى اس كے ليے كافى ہو جاتا ہے، يقينا اللہ تعالى اپنا كام پورا كر كے ہى رہے گا، اور اللہ تعالى نے ہر چيز كا ايك اندازہ مقرر كر ركھا ہے} الطلاق ( 2 - 3 ).

اللہ تعالى سے ہمارى دعا ہے كہ وہ آپ كو حلال اور پاكيزہ كام سے نوازے، اور اس ميں آپ كے ليے بركت پيدا فرمائے.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب
Create Comments