72848: كمپيوٹر صحيح اور فارميٹ كرنے كے ليے مختلف قسم كے كاپى شدہ سوفٹ وئر پروگرام استعمال كرنا


ميں كپيوٹر صحيح كرنے كى دوكان كھولنا چاہتا ہوں، يہ تو معلوم ہى كہ كمپيوٹر ميں مختلف قسم كے سوفٹ وئر انسٹال كرنے كے كئى پروگرام كى كاپى شدہ سى ڈيز پائى جاتى ہيں، تو كيا گاہك كے كپيوٹر ميں سوفٹ وير كى يہ سى ڈيز استعمال كرنا جائز ہيں ؟
اور كيا اس كے نتيجہ ميں گاہك سے ليا گيا مال حلال شمار ہو گيا يا كہ حرام ؟

Published Date: 2007-06-03

الحمد للہ:

اگر سوفٹ وير يا سى ڈيز بنانے والے مالكان نے سى ڈي كاپى كرنے كى اجازت نہيں دى تو اسے كاپى كرنا جائز نہيں، يہ اس ليے كہ اس كى ايجاد اور پروگرام بنانے اور اس كى محنت كرنے كے حق كا خيال ركھا جا سكے، جو كہ ايك معتبر حق ہے، اور اس پر زيادتى كرنى جائز نہيں، اور اس شرط كا بھى التزام كرنا چاہيے جو دونوں نے معاہدہ كرتے وقت ركھى تھى.

شيخ عبد العزيز بن باز رحمہ اللہ كى سربراہى ميں قائم فتوى كميٹى كے فتاوى جات ميں درج ذيل فتوى ہے:

" جس پروگرام كى كاپنى كرنے كى ممانعت پروگرام كے مالك نے كردى ہو اس كى اجازت كے بغير اس كى كاپى كرنا جائز نہيں، كيونكہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" مسلمان اپنى شرطوں پر قائم رہتے ہيں "

اور اس ليے بھى كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" كسى بھى مسلمان شخص كى اجازت اور رضامندى كے بغير اس كا مال حلال نہيں "

اور رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" جو شخص كسى مباح كى طرف سبقت لے جائے وہ اس كا زيادہ حقدار ہے "

چاہے اس پروگرام كا مالك اور بنانے والا مسلمان ہو يا غير حربى كافر، كيونكہ غير حربى كافر كے حق كا احترام مسلمان كے حق جيسا ہى ہے.

واللہ تعالى اعلم. انتہى

ماخوذ از: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء

اور شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ تعالى كا اس مسئلہ ميں درج ذيل قول ہے:

" اس سلسلے ميں عرف عام ميں جو چل رہا ہو اس پر عمل كيا جائيگا، الا يہ كہ اگر كوئى شخص وہ پروگرام اپنے ليے كاپى كرنا چاہے اور جس نے اس كو ابتدا ميں لكھا ہو اس نے كسى شخص كو خاص اپنے ليے يا عام كاپى كرنے سے منع نہ كيا ہو تو مجھے اميد ہے كہ اس ميں كوئى حرج نہيں، ليكن اگر لكھنے اور پروگرام بنانے والے نے بيان كر ديا ہو كہ اس نہ تو خاص اور نہ ہى عام كاپى كى جاسكتى ہے تو پھر مطلقا جائز نہيں " انتہى.

اس بنا پر كمپيوٹر كے خاص سوفٹ وئر وغيرہ كى كاپى كرنا جائز نہيں، جب تك كہ اس كى اجازت نہ مل جائے.

ليكن اگر يہ سى ڈيز كسى ايسے ملك كى كمپنى سے تعلق ركھتى ہوں جو مسلمانوں كے خلاف جنگ كر رہا ہو اور لڑ رہا ہو تو اسے كاپى كرنے ميں كوئى حرج نہيں.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments