75636: قريبى رشتہ دار كے خاوند كو بيكرى ميں نظام صحت كى مخالفت كرنے پر جرمانہ كرنے كا حكم


ميں ہر قسم كى اقتصادى مخالفات كى روك تھام كے ادارہ ميں كام كرتى ہوں ايك بار ايسا ہوا كہ ميں نے ايك بيكرى سے روٹى خريدى تو اس ميں سے چوہے كى مينگنياں نكليں، ميں نے قسم اٹھائى كہ اس بيكرى كے مالك كا پيچھا كرونگى كيونكہ اس نے صفائى كا خيال نہيں ركھا اور اس ميں كوتاہى سے كام ليا ہے، جيسا كہ مجھے يہ بھى علم تھا كہ چوہے گندگى نجس ہے.
جب تحقيق كى تو علم ہوا كہ يہ بيكرى ايك ايسے شخص كى ملكيت ہے جو ميرے رشتہ داروں سے مربوط ہے، اس مناسبت سے ميں يہ معلوم كرنا چاہتى ہوں كہ آيا يہ صلہ رحمى شمار ہوتى ہے يا نہيں، اس ليے كہ اس شخص كى بيوى چچا كى بيٹى يعنى ميرے دادا كى پوتى ہے ؟
يہ ديكھتے ہوئے كہ روٹى ميں گندگى كا پايا جانا پہلى بار نہيں ہے، ميں نے اس كے ليے ضرورى كاروائى كى اور اس بيكرى كا معائنہ كرتے وقت كئى قسم كى مخالفت كرتے ہوئے پايا گيا، اور طبعى طور پر ميرے خاندان كى جانب سے حتى كہ ميرے گھر كے بعض افراد نے بھى اس كا الزام مجھ پر لگانا شروع كر ديا كہ اس كا باعث ميں ہوں.
ميں يہ جاننا چاہتى ہوں كہ آيا ميں اللہ تعالى كے ہاں گنہگار ہوں ؟

Published Date: 2007-08-29

الحمد للہ:

اول:

جن افراد كے ساتھ اللہ تعالى نے صلہ رحمى كرنے كا حكم ديا ہے وہ ماں اور باپ كى جانب سے رشتہ دار اور عزيز و اقارب ہيں، جن ميں چچے اور ان كى اولاد بھى شامل ہوتى ہے، تو اس طرح آپ كے چچا كى بيٹى كى بيٹى آپ كے اقربا اور رشتہ داروں ميں شامل ہوتى ہے.

شيخ عبد العزيز بن باز رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" ارحام وہ اقربا اور رشتہ دار افراد ہيں جو آپ كى ماں اور باپ كى طرف سے ہوں، اور سورۃ الانفال اور احزاب كى درج ذيل آيت ميں بھى يہى مراد ہيں:

اللہ سبحانہ وتعالى كا فرمان ہے:

﴿ اور رشتہ دار كتاب اللہ كى رو سے بہ نسبت دوسرے مومنوں كے اور مہاجروں كے آپس ميں ديادہ حقدار ہيں ﴾.

اور ان ميں زيادہ قريبى باپ دادا اور ان كى اولاد، اور ماں نانى اور ان كى اولاد ہيں، چاہے جتنى بھى نسل نيچى ہو، پھر سب سے قريبى بھائى اور ان كى اولاد، اور چچے اور ان كى اولاد، اور پھوپھياں اور ان كى اولاد، اور ماموں اور ان كى اولاد ہيں.

صحيح حديث ميں ثابت ہے كہ جب نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے ايك سائل نے دريافت كيا كہ:

اے اللہ تعالى كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم ميرے ليے صلہ رحمى كا سب سے زيادہ حقدار كون شخص ہے ؟

تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" تيرى والدہ.

اس شخص نے عرض كيا: پھر كون ؟

تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" تيرى والدہ "

اس شخص نے عرض كيا: پھر كون ؟

رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" تيرا والد ، پھر سب سے زيادہ قريبى "

اسے امام مسلم رحمہ اللہ نے صحيح مسلم ميں نقل كيا ہے، اور اس سلسلہ ميں احاديث بہت سارى ہيں " انتہى.

ديكھيں: فتاوى اسلاميۃ ( 4 / 195 ).

دوم:

اللہ سبحانہ وتعالى نے امانت كى ادائيگى مسلمانوں پر واجب كى ہے اور گواہى كو بھى انصاف كے ساتھ ادا كرنا لازم كيا ہے چاہے وہ گواہى اپنے ہى خلاف ہو يا پھر اپنے رشتہ داروں كے خلاف.

اللہ سبحانہ وتعالى كا فرمان ہے:

﴿ اے ايمان والو تم اللہ كے ليے عدل و انصاف كے ساتھ سچى گواہى دينے والے بن جاؤ چاہے وہ تمہارى اپنى جانوں كے خلاف ہى ہو، يا والدين اور رشتہ داروں كے خلاف ہو، اگر وہ مالدار ہو يا فقير تو دونوں كے ساتھ اللہ تعالى كو زيادہ تعلق ہے، اس ليے تم خواہش كے پيچھے پڑ كر انصاف كو نہ چھوڑ دينا، اور اگر تم كج بيانى يا پہلو تہى كى تو يہ جان لو كہ جو تم كر رہے ہو اللہ تعالى اس سے خبردار ہے ﴾النساء ( 135 ).

آپ كى قريبى رشتہ دار خاتون كے خاوند نے روٹى كو صفائى سے تيار كرنے ميں كوتاہى كر كے غلط كام كيا ہے، اس ليے اس كى بيوى كا آپ كى رشتہ دار خاتون ہونا آپ كى ڈيوٹى كو عدل و انصاف كے ساتھ ادا كرنے ميں حائل نہيں ہونا چاہيے، كيونكہ يہ امانت ہے، اور لوگوں پر بھى شفقت اور رحم ہے، اور اس شخص كے ليے بھى آپ كى مہربانى اور رحم ہے تا كہ اس كى جانب سے لوگوں پر زيادتى اور ظلم نہ ہو، اور پھر نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے بھى ظالم كا ہاتھ پكڑ كر اسے ظلم سے روك كر ظالم كى مدد كرنے كا حكم ديا ہے.

انس رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" تم اپنے بھائى كى مدد كرو چاہے وہ ظالم ہو يا مظلوم.

تو ايك شخص نے عرض كيا:

اے اللہ تعالى كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم اگر وہ مظلوم ہے تو ميں اس كى مدد و نصرت كرونگا، آپ يہ بتائيں كہ اگر وہ ظالم ہے تو پھر ميں اس كى مدد و نصرت كس طرح كروں ؟

رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

تم اسے ظلم سے روكو تو يہ تمہارى اس سے مدد و نصرت ہے "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 6552 ).

اس بيكرى كے مالك نے جو عمل كيا ہے وہ ايك غلط اور برا كام تھا جس شخص ميں بھى طاقت ہے اس كے ليے اسے روكنا لازم ہے، اور اس ليے كہ آپ اس مقام پر ہيں كہ آپ اسے ہاتھ سے اس كام سے روك سكتى ہيں لہذا ايسا كرنا آپ كے ليے واجب اور ضرورى ہے.

ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" تم ميں سے جو شخص بھى كوئى برائى ديكھے تو اسے اپنے ہاتھ سے روكنا چاہيے، اور اگر اس ميں طاقت نہ ہو تو پھر وہ اسے اپنى زبان سے روكے، اور اگر اس كى بھى طاقت نہ ہو تو پھر وہ اپنے دل سے ہى منع كرے اور يہ كمزور ترين ايمان ہے "

صحيح مسلم حديث نمبر ( 49 ).

امام نووى رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" آپ يہ جان ليں كہ يہ باب ميرى مراد يہ ہے كہ نيكى كا حكم ديا اور برائى سے منع كرنے كا كام عرصہ دراز سے اكثر لوگوں نے ترك كر ركھا ہے اور اس دور ميں بہت ہى كم لوگ ايسے ہيں جو اس پر توجہ ديتے ہيں، يہ بہت ہى عظيم راستہ اور كام ہے، اسى سے ہى حكم اور حكم دينے والے سيدھے رہتے ہيں.

اور جب برائى اور گندگى زيادہ ہو جائے تو پھر ہر نيك و بد اس كى سزا ميں آ جاتا ہے، اور اگر ظالم كا ہاتھ نہ پكڑا جائے تو خدشہ ہے كہ اللہ تعالى ان سب پر اپنا عذاب نازل نہ كر دے.

اللہ سبحانہ وتعالى كا فرمان ہے:

﴿ ان لوگوں كو ڈرنا چاہيے جو اس كے حكم كى مخالفت كرتے ہوئے اس بجا نہيں لاتے كہ كہيں انہيں كوئى فتنہ يا آزمائش سے دوچار نہ كر ديا جائے يا پھر انہيں دردناك قسم كا عذاب نہ پہنچ جائے ﴾.

اس آخرت كے متلاشى شخص كو چاہيے كہ وہ اللہ تعالى كى رضا و خوشنودى كرنے كے ليے اس كام كو سرانجام دے اور اس كا خيال ركھے، كيونكہ اس كا نفع اور فائدہ بہت عظيم ہے، خاص كر جب اس كا زيادہ حصہ ختم كيا جا چكا ہے، اور اس ميں نيت خالص كى جائے، اور اپنے مقام و مرتبہ كى وجہ سے برائى سے روكنے والے كو ہيچ نہ سمجھے، كيونكہ اللہ سبحانہ وتعالى كا فرمان ہے:

﴿ اور جو اللہ كے دين كى مدد كرتا ہے اللہ تعالى اس كى مدد كرتا ہے ﴾.

اور ايك مقام پر اللہ سبحانہ وتعالى كا فرمان ہے:

﴿ اور جو كوئى بھى اللہ تعالى كے دين كو مظبوطى سے تھام لے تو بلا شبہ اسے صراط مستقيم دكھا دى گئى ﴾.

اور ايك مقام پر ارشاد بارى تعالى ہے:

﴿ جن لوگوں نے ہمارے دين كى راہ ميں جدوجھد كى تو ہم انہيں اپنے راہيں دكھا ديتے ہيں ﴾.

اور ايك مقام پر اس طرح فرمايا:

﴿ كيا لوگوں نے يہ گمان كر ليا ہے كہ وہ يہ كہيں كہ ہم ايمان لے آئيں ہيں تو انہيں چھوڑ ديا جائيگا، اور انہيں كوئى آزمائش نہيں آئيگى، يقينا ہم نے ان سے پہلے لوگوں كو بھى آزمايا تھا، تا كہ اللہ تعالى ان لوگوں كو جان لے جو سچے ہيں، اور ان كو بھى جان لے جو جھوٹے ہيں ﴾.

اور آپ كے علم ميں رہے كہ اجروثواب تو اسى حساب سے حاصل ہوتا ہے جس قدر تكليف اور آزمائش ہو، اور اسے دوستى و محبت اور مداہنت و ستى اور اس كے ہاں مقام و مرتبہ كے حصول كے ليے اسے ترك نہيں كيا جاتا، كيونكہ اس سے دوستى و محبت حرمت اور حق واجب كرتى ہے، اور اس كے حق ميں يہ شامل ہے كہ اسے نصيحت كرے، اور اسے اس كى آخرت كى مصلحت اور اچھائى كى راہنمائى كرے، اور اس كے نقصانات سے بچائے.

اور انسان كا دوست اور محب وہ ہے جو اس كى آخرت بنانے اور سنوارنے كى كوشش كرے، چاہے ايسا كرنے ميں اس كى دنيا كا نقصان ہى كيوں نہ ہوتا ہو.

اور اس كا دشمن وہ ہے جو اس كى آخرت كو خراب كرنے يا اس ميں نقص پيدا كرنے كى كوشش كرتا ہو، چاہے اس كے سبب سے اسے دنيا كا كسى صورت نفع و فائدہ ہى حاصل ہو جائے " انتہى.

ديكھيں: شرح مسلم ( 2 / 24 ).

امام نووى رحمہ اللہ كى مندرجہ بالا كلام بہت سے نفيس اور عمدہ ہے جس ميں وہ سب كچھ جمع كر ديا گيا ہے جو ہم كہنا چاہتے اور جس كى ہم وضاحت كرنا چاہتے تھے.

اللہ تعالى سے ہمارى دعا ہے كہ وہ آپ كى قريبى رشتہ دار خاتون كے خاوند كو ہدايت نصيب فرمائے، اور اس كى حالت درست فرمائے، اور آپ ان لوگوں كى طرف توجہ مت ديں جو يہ كہتے پھرتے ہيں كہ آپ نے اسے جرمانہ كر كے غلط كام اور اس كى مخالفت كى ہے، بلكہ يہ عدل و انصاف كا حكم اور فيصلہ ہے، اور اس كے ساتھ رحمدلى ہے، اس شخص كے برخلاف جو آپ كے اس فعل كى مخالفت كر كے اس كے ليے آخرت كا گناہ و سزا چاہتا ہے.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments