83746: رکاز نکالنے کا شرعی طریقہ کیا ہے؟


سوال: زمین سے حاصل ہونے والے خزانوں یعنی: "رکاز" حاصل کرنے کا شرعی طریقہ کیا ہے؟

Published Date: 2015-11-16

الحمد للہ:

اول:

"رکاز"  دورِ جاہلیت سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی طرف سے زمین میں  مدفون ایسے مال کو کہتے ہیں جسے نکال  لیا جائے، اور دورِ جاہلیت سے مراد  وہ وقت ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے قبل کسی بھی دین پر موجود تھے، شریعت نے "رکاز" پر پانچواں حصہ کچھ علماء کے ہاں بطورِ زکاۃ فرض کیا ہے، اور کچھ کے ہاں بطورِ فیء، اس مال کا بقیہ  نکالنے والے کا ہوگا، بشرطیکہ کہ اسے ایسی زمین سے نکالا جائے جو اس کی اپنی ملکیت میں ہو یا بیابان جنگل  ہو یا گلی اور سٹرک وغیرہ کی صورت مشترکہ  ملکیت ہو۔

ابن قدامہ مقدسی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"رکاز، زمین میں دفن شدہ چیزوں کو کہتے ہیں، یہ لفظ اشتقاق کے اعتبار سے " ركَز يركِز " بر وزن " غرَز يغرِز" ہے، یہ اس وقت کہا جاتا ہے جب کوئی چیز چھپ جائے، یہی وجہ ہے کہ جب نیزے کا نوک دار حصہ زمین میں گڑ جائے تو کہا جاتا ہے: " رَكَزَ الرُّمْحُ " اسی سے "الرِكْز"  مخفی اور ہلکی سی آواز پر بولا جاتا ہے، قرآن مجید میں ہے: ( أَوْ تَسْمَعُ لَهُمْ رِكْزاً)

رکاز کی زکاۃ سے متعلق دلیل  ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (جانوروں   کا لگایا ہوا زخم کالعدم ہے، اور رکاز میں خمس ہے) متفق علیہ

نیز رکاز کی زکاۃ سے متعلق اجماع بھی ہے، چنانچہ ابن منذر رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"ہمیں اس حدیث کے بارے میں کسی کی دوسری رائے معلوم نہیں ہے، صرف حسن [بصری] نے اہل حرب کی زمین اور عرب زمین میں پائے جانے والے رکاز میں تفریق کی ہے کہ اہل حرب کی زمین میں خمس ہے، جبکہ عرب میں زکاۃ ہے" انتہی
" المغنی " ( 2 / 610 )

شیخ محمد بن صالح عثیمین رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"ہر مدفون چیز رکاز نہیں ہوتی، صرف وہی چیزیں رکاز ہونگی جو دور جاہلیت  میں دفن کی گئی تھیں۔
یہاں "جاہلیت" سے مراد قبل از اسلام کا وقت ہے، چنانچہ اگر ہمیں کسی زمین  میں مدفون خزانہ ملے اور اس پر ایسی علامات ہوں جن سے یہ پتا چلے کہ یہ اسلام سے بھی پہلے کا خزانہ ہے ، مثلاً: پرانے سکے ،یا اسلام سے پہلے کی تاریخ ہو یا کوئی بھی ایسی چیز جس سے پتا چل سکے یہ اسلام سے پہلے کے ہیں۔

مصنف کا قول: "رکاز کم ہو یا زیادہ اس میں سے خمس ادا کرنا ہوگا" یعنی نصاب مکمل ہونے کی اس میں شرط نہیں ہے؛ کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے عام ہے کہ: (رکاز میں خمس ہے)
اہل علم کی اس بارے میں مختلف آراء ہیں کہ یہ خمس زکاۃ ہے  یا فیء؟  اس مختلف آراء کی وجہ مذکورہ حدیث نبوی کے عربی الفاظ میں "الخُمُس" پر موجود "الف لام" میں اختلاف ہے کہ آیا  عہد کیلئے ہے یا بیانِ حقیقت کیلئے؟
چنانچہ کچھ اہل علم نے کہا کہ خمس زکاۃ ہے، چنانچہ ان کے ہاں "الف لام" بیانِ حقیقت کیلئے ہے۔
اور ان کے اس موقف پر درج ذیل اثرات مرتب ہوتے ہیں:

1-             رکاز کی زکاۃ دیگر چیزوں کی زکاۃ سے کہیں زیادہ ہوگی، کیونکہ زکاۃ کے مختلف نصاب بیسواں حصہ، دسواں حصہ، چالیسواں حصہ اور چالیس میں سے ایک بکری کل مال کے "خمس"  سے کم بنتی ہیں۔

2-             رکاز میں نصاب کی شرط نہیں ہوتی ، چنانچہ رکاز کی مقدار کم ہو یا زیادہ اس میں زکاۃ واجب ہوگی۔

3-             رکاز میں سے خمس ادا کرنے کیلئے یہ شرط نہیں ہے کہ وہ کسی معین مال میں سے ہو، چنانچہ یہ خمس سونا، چاندی اور کسی بھی معدنیات میں سے ادا کیا جا سکتا ہے، لیکن زکاۃ صرف سونا اور چاندی کی ادا کی جاتی ہے۔

ہمارے [حنبلی]فقہائے کرام رحمہ اللہ کا کہنا ہے کہ:
"رکاز سے ادا کیا جانے والا خمس زکاۃ نہیں بلکہ "فیء" ہے، اس اعتبار سے حدیث کے لفظ: "خمس" میں "الف لام" عہد ذہنی کا ہے، بیانِ حقیقت کیلئے نہیں ہے، یعنی رکاز پر وہ خمس ہوگا جو اسلام میں مشہور ہے، اور وہ خمس مال فیء میں ہوتا ہے جسے مسلمانوں کیلئے مفاد عامہ  کی ضروریات میں صرف کیا جاتا ہے، یہی موقف درست ہے؛ کیونکہ اگر رکاز کے خمس کو زکاۃ میں شامل کریں تو اس سے زکاۃ  کے عام اصولوں کی مخالفت لازم آتی ہے، جیسے کہ سابقہ تین وجوہات میں اس کا بیان کیا گیا ہے۔"
" الشرح الممتع " ( 6 / 88 ، 89 )

اور اگر کسی کو ایسا خزانہ ملے جس پر ایسی کوئی علامت نہ ہو جس سے یہ معلوم  پڑے کہ یہ خزانہ دورِ جاہلیت کا ہے، تو پھر "لُقطہ" [راستے سے اٹھائی ہوئی گری پڑی چیز]کے حکم میں ہے، چنانچہ  وہ ایک سال تک انتظار کرے، اور سال گزرنے کے بعد یہ چیز اس کی ملکیت میں داخل ہو سکتی ہے، تاہم اگر اس کا مالک مل جائے تو یہ چیز اسے واپس کرنا واجب ہے، یا اس کی قیمت ادا کرنا لازمی ہے۔

لیکن کسی کی ملکیتی اراضی میں خزانوں کی تلاش کرنا جائز نہیں ہے؛ کیونکہ یہ کسی کے مال میں بنا حق تصرّف شمار  ہوگا، چنانچہ اگر کسی کو کسی کی زمین سے کچھ بھی ملے تو وہ مالک زمین کو دینا واجب ہے۔

تاہم عقلمند  و دانشمند لوگوں کو اپنی زندگی اس قسم کے خزانے تلاش کرنے میں ضائع نہیں کرنی چاہیے؛ کیونکہ یہ محض وقت ، عمر، اور مال کا ضیاع ہے ، اور اس پر حکومت کی طرف سے ہونے والی سرزنش الگ ہے، بسا اوقات انسان ساری زندگی  گزار دیتا ہے لیکن اسے ایک کوڑی بھی نہیں ملتی، لیکن دوسری طرف انسان  کھیتی باڑی کرتے ہوئے  اللہ کے فضل سے اتنا کما لیتا ہے کہ ساری زندگی کیلئے کافی ہو جائے۔

دوم:

کچھ لوگ ان خزانوں کی تلاش  کیلئے غیر شرعی طریقے بھی اپناتے ہیں، چنانچہ کچھ لوگ جادو گروں، کاہنوں، اور شعبدہ بازوں سے تعاون بھی لیتے ہیں، جبکہ کچھ جنوں کیساتھ رابطے میں رہتے ہیں، یہ تمام طریقے شرعی طور پر درست نہیں ہیں، ان طریقوں پر عمل پیرا لوگوں کیلئے عظیم گناہ ہوگا۔

شیخ محمد بن صالح عثیمین رحمہ اللہ سے استفسار کیا گیا:
"کچھ لوگ طلسم اور منتر پڑھ کر جنوں کی حاضری کرتے ہیں، اور انہیں پرانے کھنڈرات سے خزانے  نکالنے پر مامور کرتے ہیں، ایسا کرنے کا کیا حکم ہے؟"
تو انہوں نے جواب دیا:
"ایسا کام کرنا جائز نہیں ہے، کیونکہ  عام طور جنوں کی حاضری کیلئے استعمال ہونے والے طلاسم  و منتر شرک سے بھرے ہوتے ہیں، اور شرک کا معاملہ بہت ہی سنگین ہے، فرمانِ باری تعالی ہے:
{إِنَّهُ مَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ وَمَأْوَاهُ النَّارُ وَمَا لِلظَّالِمِينَ مِنْ أَنْصَارٍ}
ترجمہ: یقیناً جو شخص بھی اللہ کیساتھ شرک کرے ، تو اللہ تعالی نے اس پر جنت حرام کر دی ہے، اس کا ٹھکانہ جہنم ہے، اور ظالموں  کیلئے کوئی مدد گار نہ ہوگا۔[المائدة : 72]
جو لوگ ان کے پاس جاتے ہیں اُنہیں  وہ سبز باغ  دکھاتے ہیں اور ان کا مال ہڑپ کرتے ہیں، سبز باغ اس طرح کہ انہیں اپنے سچے ہونے کے بارے میں مختلف باتیں کرینگے ، اور پھر آنے والوں سے مال ہڑپ کرینگے۔

اس لیے ایسے لوگوں کا یکسر بائیکاٹ کرنا واجب ہے، انسان کو ایسے لوگوں کے پاس نہیں جانا چاہیے، بلکہ اپنے مسلمان بھائیوں کو ان کے پاس جانے سے بھی روکے، عام طور پر یہ  لوگوں کو مختلف حیلوں سے اپنے چنگل میں پھنساتے ہیں، اور ان کا مال ہتھیاتے ہیں، پھر بات کھری نہیں کرینگے بلکہ گول مول بات کرینگے، اور اگر ان کے مقدر  بات ایسی ہی لکھی ہو تو  آسمان سر پر اٹھا لیتے ہیں  اور ڈھنڈورا پیٹتے ہیں کہ ہم نے پہلے ہی ایسے کہا تھا ، اس لیے ایسا ہوا ہے!!، اور اگر تقدیر میں کچھ اور لکھا ہوا تھا تو پھر جھوٹے حیلے اور بہانے تلاش کرتے ہیں کہ  فلاں چیز اس کام میں رکاوٹ بن گئی تھی، ورنہ کام ایسے ہی ہونا تھا!!

جو لوگ اس مصیبت میں پھنسے ہوئے ہیں میں انہیں نصیحت کرتا ہوں کہ  لوگوں  کا مال ہڑپ کرنے کیلئے ان کو گھسیٹ کر شرک و باطل میں ملوّث مت کریں، کیونکہ دنیا کی زندگی چار دن کی زندگی ہے، اور قیامت کا حساب کتاب بہت مشکل ہے، اس لیے ان کاموں سے باز آجائیں اور اللہ تعالی سے توبہ کریں، اپنے لیے کوئی صحیح ذریعہ معاش  تلاش کریں، اور اپنے مال کو پاکیزہ بنائیں، اللہ تعالی توفیق دے"
" فتاوى الشیخ ابن عثیمین " ( 2 / سوال نمبر: 116 )

محترم سائل! یہ بات ذہن نشین رہے کہ وہم و خیال  سے متاثر ہو کر بہت سے لوگ جادو گروں اور شعبدہ بازوں  سے تعاون حاصل صرف اس لیے کرتے ہیں کہ انہیں عیش و عشرت  کی لت پڑ چکی ہے، وہ چاہتے ہیں کہ بس لمحوں میں بغیر کچھ کیے کروڑ پتی بن جائیں، دولت ہمیں ایسی جگہ سے ملے جہاں  سے ملنے کا امکان بھی نہ ہو! اس قسم کے لوگ عام طور پر سستی، کاہلی اور فارغ رہنے کا شکار ہوتے ہیں!

ابن خلدون رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"مذکورہ ہتھکنڈوں کیلئے رغبت  کی وجہ کم عقلی کی بہ نسبت یہ زیادہ بنتی  ہے کہ ایسے لوگ تجارت، کاشت کاری، پیشہ وری  وغیرہ پر مشتمل طبعی اور فطری انداز سے روزی حاصل کرنے سے عاجز ہوتے ہیں، چنانچہ روزی کیلئے غلط راستوں پر چل پڑتے ہیں، اس کیلئے غیر طبعی اور غیر فطری طریقے اپناتے ہیں  کیونکہ ان میں محنت و ہمت  بالکل نہیں ہوتی، انہیں صرف اس بات کی چاہت ہوتی ہے کہ کسی بھی طرح سے  بغیر حرکت و محنت کے ہمیں مال مل جائے،  لیکن انہیں یہ معلوم نہیں ہوتا کہ طبعی طریقہ چھوڑ کر اپنے آپ کو اس سے بھی مشکل اور کٹھن راستے میں ڈال دیتے ہیں، جس کی وجہ سے انہیں سخت اذیتوں کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔
بسا اوقات ایسے لوگ بھی ان راستوں کا شکار ہو جاتے ہیں جو بہت ہی زیادہ عیش پرست ہوں اور انکی خواہشات اتنی بڑھ جاتی ہیں کہ انہیں پورا کرنے کیلئے طبعی ذرائع معاش  کم پڑ جاتے ہیں ، چنانچہ انہیں یک لخت خزانہ حاصل کرنے کی جھوٹی تمنا اس بات پر آمادہ کرتی ہے کہ بغیر مشقت کے کوئی بڑا خزانہ ان کے ہاتھ لگ جائے، اور ساری دل کی مرادیں پوری ہو جائیں ، پھر اس کیلئے اپنی ساری توانائی صرف کر دیتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ اس قسم کے امور میں وہی لوگ پڑے ہوتے ہیں جو انتہائی پر آسائش ماحول میں پروان چڑھیں،  ان لوگوں میں بڑے بڑے شہروں کے افراد زیادہ ہوتے ہیں جہاں ہر چیز وافر مقدار میں موجود ہوتی ہے، مثلاً: مصر اور اس جیسے علاقوں میں یہ لوگ بکثرت پائے جاتے ہیں ، آپکو وہاں بہت سے لوگ انہی غیر طبعی طریقوں کے پیچھے پڑے ہوئے نظر آئیں گے، اور آنے جانے والے لوگوں سے ان کے متعلق پوچھتے  پھریں گے۔"
" مقدمة ابن خلدون " ( ص 385 ، 386 )

نیز ابن خلدون نے اپنی کتاب: "مقدمہ" میں صفحہ 384 تا 389 تک عمدہ گفتگو کی ہے اسے بھی پڑھیں۔

اور اگر کوئی مسلمان طلاسم، جنوں، جادو گروں، اور کاہنوں سے مدد پر مشتمل حرام طریقوں سے اجتناب کرے،  اسی طرح کسی کی ملکیتی چیز پر ہاتھ نہ ڈالے تو اس قسم کے رکاز کے ملنے پر کوئی حرج نہیں ہے، اور نہ ان کی تلاش میں کوئی حرج ہے، بشرطیکہ اس کے پاس ان خزانوں کی تلاش کیلئے وسائل اور آلات موجود ہوں اور اس میں وقت اور عمر کا ضیاع بھی  نہ ہو، جیسے کہ پہلے لوگوں کے بارے میں کہا گیا تھا جو علم کیمیا کے ذریعے معدنیات کو سونے میں تبدیل کرنے  کا ارادہ رکھتے تھے، "علم کیمیا کے ذریعے مال تلاش کرنے والا مفلس  ہو جاتا ہے"

لیکن شریعت نے ان خزانوں کی تلاش کیلئے کوئی طریقہ کار بیان نہیں کیا، بلکہ ان چیزوں کے حلال یا حرام ہونے کے بارے میں بیان کیا ہے۔

چنانچہ اگر لوگ خزانوں کی تلاش کیلئے آلات ، وسائل و اسباب  ایجاد کریں جن سے خزانوں کی تلاش ممکن ہو تو ان کا استعمال جائز ہے۔

واللہ اعلم.

اسلام سوال و جواب
Create Comments