85102: تکفیر کے اصول و ضوابط


سوال: ہماری آپ سے گزارش ہے کہ کسی بھی شخص پر کفر یا منافقت کا حکم لگانے کے اصول و ضوابط سے روشناس فرما دیں، تا کہ میں کسی ایسے بدعتی موقف میں ملوث نہ ہو جاؤں جن میں دیگر بہت سے گروہ ملوث ہو چکے ہیں، نیز اس بارے میں آپ مجھے کون سی کتب پڑھنے کی تلقین کریں گے؟ واضح رہے کہ میں حصول علم کے ابتدائی مراحل میں ہوں۔

Published Date: 2017-10-02

الحمد للہ

اول:

کسی کو کافر یا فاسق  قرار دینا ہمارے اختیار میں نہیں ہے، بلکہ یہ اختیار اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہے؛ کیونکہ کسی کو کافر یا فاسق قرار دینا ان شرعی احکام سے تعلق رکھتا ہے جن کی بنیاد کتاب و سنت ہوتی ہے، اسی لئے اس معاملے میں انتہائی احتیاط سے کام لینا ضروری ہے ؛ اور صرف اسی کو کافر یا فاسق کہا جائے گا جس کے کافر یا فاسق ہونے کے متعلق کتاب و سنت  میں دلائل موجود ہیں۔

بنیادی طور پر کوئی بھی مسلمان جب تک وہ علانیہ طور پر دین پر عمل پیرا  ہو تو اسے مسلمان  ہی سمجھا جائے گا، تا آنکہ شرعی دلائل کی رو سے اس کا دائرہ اسلام سے خارج ہونا ثابت ہو جائے۔

کسی کو کافر یا فاسق قرار دینے میں کوتاہی برتنا جائز نہیں ہے؛ کیونکہ اس میں دو بڑی خرابیاں  ہیں:

1- کسی پر حکم لگانا درحقیقت  اللہ تعالی پر بہتان بازی ہے، نیز کسی پر جو حکم لگایا جا رہا ہے  وہ حکم اس شخص کے بارے میں بھی بہتان ہے۔

2- اگر وہ شخص متعلقہ الزام سے بری ہو تو انسان کو برے لقب دینے کے زمرے میں بھی آتا ہے۔

صحیح بخاری: (6104) اور مسلم: (60) میں عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (جب کوئی آدمی اپنے بھائی کو کافر قرار دیتا ہے تو وہ حکم ان دونوں میں سے ایک  پر لاگو ہو جاتا ہے)  اسی حدیث کے ایک اور الفاظ یہ بھی ہیں کہ: (اگر تو وہ ایسا ہی تھا جیسا اس نے کہا  [تو ٹھیک] بصورتِ دیگر وہ حکم اسی پر لوٹ جائے گا)

دوم:

اس لیے کسی بھی مسلمان پر کفر یا فسق کا حکم لگانے سے قبل دو چیزوں کو دیکھنا ضروری  ہے:

1- کتاب و سنت میں یہ بات واضح ہو کہ یہ قول یا فعل کفر یا فسق کا موجب ہے۔

2- کفر یا فسق کا حکم معین شخص پر لاگو ہوتا  ہو، یعنی کسی کو کافر یا فاسق قرار دینے کی شرائط  پوری ہوں اور اسے کافر یا فاسق قرار دینے میں کوئی رکاوٹ حائل نہ ہو۔

اس کی اہم ترین شرائط درج ذیل ہیں:

     I.            مرتکب خطا کو علم ہو کہ اس کی جو غلطی ہے وہ  اس کے کافر یا فاسق ہونے کی موجب ہے؛ کیونکہ فرمانِ باری تعالی ہے:

( وَمَنْ يُشَاقِقِ الرَّسُولَ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدَى وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيلِ الْمُؤْمِنِينَ نُوَلِّهِ مَا تَوَلَّى وَنُصْلِهِ جَهَنَّمَ وَسَاءَتْ مَصِيراً )
ترجمہ: اور جو ہدایت واضح ہونے کے بعد رسول کی مخالفت کرے اور مومنوں کے علاوہ کسی اور راستے   پر چلے تو ہم اسے اسی راستے کے سپرد کر دیتے ہیں جس پر وہ چلا ہے، اور ہم اسے جہنم میں داخل کریں گےاور وہ بد ترین ٹھکانا ہے۔[النساء:115 ]

اسی طرح فرمانِ باری تعالی ہے: ( وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُضِلَّ قَوْماً بَعْدَ إِذْ هَدَاهُمْ حَتَّى يُبَيِّنَ لَهُمْ مَا يَتَّقُونَ إِنَّ اللَّهَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ )
ترجمہ: اللہ تعالی کسی قوم کو ہدایت دینے کے بعد گمراہ نہیں کیا کرتا، تاآنکہ ان پر یہ واضح نہ کر دے کہ انہیں کن کن باتوں سے بچنا چاہیے۔ اللہ تعالی یقیناً ہر چیز کو جاننے والا ہے  [ التوبہ:115]

چنانچہ اس لیے اہل علم کہتے ہیں: اگر کوئی شخص نو مسلم ہے اور وہ  کسی فریضے کا انکار کر دیتا ہے تو وہ اس وقت تک کافر نہیں ہو گا جب تک اسے اس فریضے کے بارے میں بتلا نہ دیا جائے۔

II.            کسی پر کفر یا فسق کا حکم لگانے  کیلیے موانع میں سے ایک یہ ہے کہ کفر یا فسق کا موجب بننے والا عمل غیر ارادی طور پر سر زد ہو جائے، اس کی متعدد صورتیں ہیں، مثلاً:

-        اس سے کفریا فسق والا عمل جبراً کروایا جائے، چنانچہ  وہ شخص جبر  کی وجہ سے مجبور ہو کر وہ کام کرے، دلی طور پر راضی ہو کر نہ کرے، تو ایسی صورت میں اسے کافر قرار نہیں دیا جائے گا؛ کیونکہ اللہ تعالی  کا فرمان ہے:

(مَنْ كَفَرَ بِاللَّهِ مِنْ بَعْدِ إِيمَانِهِ إِلَّا مَنْ أُكْرِهَ وَقَلْبُهُ مُطْمَئِنٌّ بِالْأِيمَانِ وَلَكِنْ مَنْ شَرَحَ بِالْكُفْرِ صَدْراً فَعَلَيْهِمْ غَضَبٌ مِنَ اللَّهِ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ)
ترجمہ: جس شخص نے ایمان لانے کے بعد اللہ سے کفر کیا، اِلا یہ کہ وہ مجبور کر دیا جائے اور اس کا دل ایمان پر مطمئن ہو (تو یہ معاف ہے) مگر جس نے رضا مندی سے کفر کیا تو ایسے لوگوں پر اللہ کا غضب ہے اور انہی کے لئے بہت بڑا عذاب ہے۔ [النحل:106]

-        اس کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ اسے انتہا درجے کی فرحت ، یا غم یا خوف وغیرہ کی وجہ سے معلوم ہی نہ ہو کہ وہ کیا کہہ گیا ہے، اس کی دلیل صحیح مسلم: (2744) میں ہے کہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (اللہ تعالی کو اپنے بندے کے توبہ کرنے پر اس شخص سے بھی زیادہ خوشی ہوتی ہے جب تم میں سے کسی کی  سواری کھلے کھانے پینے کے سامن کے ساتھ چٹیل میدان میں گم ہو جائے اور  وہ مایوس ہو کر  ایک درخت کے سائے تلے  مایوسی کی حالت میں ہی سو جائے ، ابھی وہ اسی افسردگی کے عالم میں  ہو تو اپنی سواری پاس کھڑی ہو ئی  پائے  تو وہ سواری کی مہار پکڑ کر شدت فرحت کی بنا پر غلطی سے کہہ دے: یا اللہ! تو میرا بندہ میں تیرا اللہ!)

III.            ایک مانع یہ بھی ہے کہ وہ اپنے اس کام میں تاویل کر رہا ہو، مطلب یہ ہے کہ اس کے پاس کچھ کچی باتیں ہو جنہیں وہ حقیقی دلائل سمجھ کر یہ عمل کر رہا ہو، یا اسے شرعی حجت اور دلیل صحیح انداز سے سمجھ نہ آئی ہو، تو ایسی صورت میں اسی وقت کسی کو کافر قرار دیا جا سکتا ہے جب  شرعی مخالفت عمداً ہو اور جہالت رفع ہو جائے، اس بارے میں فرمانِ باری تعالی ہے:

(ولَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ فِيمَا أَخْطَأْتُم بِهِ وَلَكِن مَّا تَعَمَّدَتْ قُلُوبُكُمْ وَكَانَ اللَّهُ غَفُوراً رَّحِيماً)
ترجمہ: جن کاموں میں تم سے خطا ہو جائے تو اس میں تم پر کوئی گناہ نہیں ہے، لیکن [گناہ اس میں ہے جس میں] تم عمداً خطا کرو۔ اللہ تعالی بخشنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے۔ [الأحزاب:5]

ابن تیمیہ رحمہ اللہ "مجموع الفتاوى"  (23/349) میں کہتے ہیں:
"امام احمد رحمہ اللہ  نے ان مسلمان خلیفوں پر بھی "رحمہ اللہ" کہتے ہوئے دعا کی ہے جنہوں نے  جہمی نظریات سے متاثر ہو کر قرآن مجید کو مخلوق سمجھ لیا تھا اور اسی موقف کے داعی بن گئے تھے، امام احمد نے ان کیلیے دعائے مغفرت بھی کی؛ کیونکہ امام احمد جانتے تھے کہ ان مسلمان خلفائے کرام پر یہ بات واضح ہی نہیں ہوئی تھی کہ وہ [قرآن کریم کو مخلوق مانتے ہوئے]غلط ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلا رہے ہیں، نہ انہیں اس بات کا ادراک ہوا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی تعلیمات کا انکار کر رہے ہیں، انہوں نے تاویل کی تھی اور اسی تاویل میں انہیں غلطی لگی، اور ایسے لوگوں کی تقلید کر بیٹھے جو خلق قرآن کے قائل تھے" انتہی

اسی طرح "مجموع الفتاوى" (12/180) کی ایک اور جگہ کہتے ہیں:
"کسی کو کافر قرار دینے کے متعلق  صحیح  قول یہ ہے کہ امت محمدیہ میں سے جو شخص تلاش حق  کیلیے جد و جہد کرے اور غلطی کا شکار ہو جائے تو اسے کافر قرار نہیں دیا جائے گا، بلکہ اس کی یہ غلطی معاف کر دی جائے گی۔ البتہ جس شخص کیلیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی بات کا علم ہو گیا اور اس کے با وجود ہدایت واضح ہونے کے بعد بھی مومنین کا راستہ نہ اپنائے تو وہ کافر ہے۔اور اگر ہوس پرستی  کے غلبہ میں  تلاش حق میں کوتاہی کا مرتکب ہو جاتا ہے اور لا علمی کے باوجود شرعی امور میں گفتگو کرتا ہے تو وہ نافرمان اور گناہگار ہے اس لیے وہ فاسق ہو گا، ایسا بھی ممکن ہے کہ اس کی نیکیاں اس کے گناہوں سے زیادہ ہوں" انتہا

ایک اور مقام (3/229)پر آپ کہتے ہیں:
" میں ہمیشہ یہ کہا کرتا ہوں اور میرے ساتھ اٹھنے بیٹھنے والے اچھی طرح جانتے ہیں کہ  میں کسی معین شخص کو کافر، فاسق یا گناہگار کہنے کا سخت مخالف ہوں اور اس سے روکتا ہوں، صرف ایک حالت میں[معین طور پر کافر ہونے کا حکم لگاتا ہوں جب] کہ  یہ بات معلوم ہو جائے کہ فلاں شخص پر وحی کی حجت قائم ہو گئی ہے؛ کہ جس کی مخالفت کرنے پر انسان بسا اوقات کافر، تو کبھی فاسق یا بعض حالات میں گناہگار ہو جاتا ہے۔ اور میں یہ بات پختگی سے کہتا ہوں کہ  اللہ تعالی نے اس امت کے خطا سے ہونے والے گناہ معاف کر دئیے ہیں، اور خطا سے ہونے والے گناہوں میں وہ اعمال بھی شامل ہیں جن کا تعلق خبری [یعنی نظریاتی] اور عملی [یعنی فقہی] مسائل سے ہے۔ سلف صالحین کا شروع سے اس قسم کے مسائل میں اختلاف چلا آ رہا ہے، لیکن ان میں سے کسی نے بھی دوسروں پر کفر، فاسق اور گناہگار ہونے کا فتوی نہیں لگایا"۔۔۔ پھر اس کی مثالیں ذکر کرنے کے بعد کہا:
"میں یہ بات واضح کرتا رہا ہوں کہ سلف صالحین اور ائمہ کرام کی جانب سے مطلق طور پر کسی  کی تکفیر کا حکم جو نقل کیا گیا ہے کہ "جو فلاں فلاں بات کہے وہ کافر ہے" یہ بھی حق بات ہے؛ لیکن یہاں مطلق طور پر کسی فعل کے فاعل کو کافر قرار دینا اور معین کر کے کسی کو کافر کہنے میں فرق کرنا انتہائی ضروری ہے۔"۔۔۔پھر کہتے ہیں:
"کسی کو کافر قرار دینا "وعید" سے تعلق رکھتا ہے؛ چنانچہ اگرچہ کسی شخص کی کوئی بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب پر مشتمل ہو  لیکن چونکہ وہ نو مسلم ہے اس نے ابھی اسلام قبول کیا ہے ، یا کسی [علم و معرفت سے دور ]پسماندہ علاقے کا وہ رہائشی ہے تو ایسے شخص کو اس کے انکار اور تکذیب کی وجہ سے کافر قرار نہیں دیا جائے گا تاآنکہ اس پر حجت قائم ہو جائے؛ کیونکہ ایسا عین ممکن ہے کہ اس شخص نے یہ نصوص سنی ہی نہ ہوں! یا سنی تو ہوں لیکن انہیں سمجھا ہی نہ ہو! یا اس کے پاس اس سے متصادم یا معارض کوئی شبہ ہو جس کی وجہ سے وہ ان نصوص میں غلط طور پر تاویل کرتا ہو۔

میں ہمیشہ صحیح بخاری اور مسلم کی ایک حدیث اپنے ذہن میں رکھتا ہوں  جس میں ایک شخص کا ذکر ہے جو کہ کہتا ہے: (جب میں مر جاؤں تو مجھے جلا کر پھر مجھے پیس کر ہوا میں اڑا دینا۔ اللہ کی قسم! اگر اللہ تعالی نے مجھے پکڑ لیا  تو مجھے اتنا عذاب دے گا کہ کسی کو اس نے اس سے پہلے اتنا عذاب نہیں دیا ہو گا۔ جب وہ مر گیا تو اس کے ساتھ ایسا ہی کیا گیا، تو اللہ تعالی نے زمین کو حکم دیا  اور فرمایا: اس آدمی کا جو حصہ بھی تمہارے پاس ہے اسے جمع کر دو، تو زمین سے اسے جمع کر دیا اور وہ زندہ کھڑا ہو گیا۔ تو اللہ تعالی نے پوچھا: تمہیں اس پر کس چیز نے آمادہ کیا؟ اس نے کہا: پروردگار! تیرے ڈر سے میں نے ایسا کیا تھا۔ تو اللہ تعالی نے اسے معاف فرما دیا)  حدیث میں مذکور اس شخص کو اللہ تعالی کی قدرت میں شک ہوا تھا کہ اگر اسے پیس کر اڑا دیا گیا تو اللہ تعالی اسے دوبارہ زندہ نہیں کر سکے گا، بلکہ اس کا عقیدہ  بن گیا کہ وہ دوبارہ زندہ ہی نہیں کیا جائے گا۔ تو یہ بات تمام مسلمانوں کے ہاں متفقہ طور پر کفر ہے؛ لیکن چونکہ وہ اللہ تعالی کی قدرت سے نابلد تھا ، اور ساتھ میں اللہ کے عذاب سے ڈرتے ہوئے ایمان بھی رکھتا تھا تو اللہ تعالی نے اسے اسی خوف کی بنا پر بخش دیا۔

تو اب جو شخص اجتہاد کی اہلیت رکھنے والا ہو اور تاویل کر رہا ہوں ساتھ میں اس کی کوشش یہ بھی ہو کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر کار بند بھی رہے تو ایسا شخص حدیث میں مذکور شخص سے زیادہ  مغفرت کا حق دار ہے۔" ختم شد

(یہ گفتگو شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ کی کتاب: "القواعد المثلی" کے آخر سے لی گئی ہے، ساتھ میں کچھ اضافے بھی ہیں)

اگر تکفیر کا معاملہ اتنا ہی حساس ہے   اور تکفیر میں ہونے والی غلطی کے نتائج بھی بہت سنگین ہیں تو ایک مبتدی طالب علم تو کجا  ایک بڑے طالب علم کو بھی ایسے مسائل میں نہیں پڑنا چاہیے، اس کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ علم نافع کے حصول کیلیے کوشش کرے جس سے اس کی دنیا اور آخرت دونوں اچھی ہوں۔

سوم:

اس سے پہلے کہ آپ کو اس بارے میں کتابوں کا مشورہ دیں، ہم آپ کو نصیحت کرتے ہیں کہ اہل  علم اور اہل سنت  علمائے کرام  سے براہِ راست حصول علم کی کوشش کریں؛ کیونکہ یہی وہ طریقہ ہے جو آسان بھی ہے اور پر امن بھی ہے؛ تاہم اس کیلیے شرط یہ ہے کہ آپ صرف انہی سے علم حاصل کریں جن  کے علم اور دینداری پر آپ کو اعتماد ہو، وہ متبع سنت بھی ہو اور فکری اور عملی بدعات  سے دور بھی ہو۔

محمد بن سیرین رحمہ اللہ کہتے ہیں:   "یہ علم دین ہے اس لیے جن سے تم اپنا دین لے رہے ہو انہیں پرکھ  لینا" امام مسلم  رحمہ اللہ نے اسے اپنی کتاب کے مقدمے میں بیان کیا ہے۔

اگر جہاں آپ رہتے ہیں وہاں پر حصولِ علم کیلیے کوئی عالم دین میسر نہ ہوں  تو پھر آپ ان کی کیسٹس  سے تعاون لے سکتے ہیں، اب تو انہیں سی ڈی پر حاصل کرنا بھی آسان ہو چکا ہے، بلکہ -الحمد للہ- اسلامی ویب سائٹس سے حاصل کرنا مزید آسان  ہے۔

اسی طرح آپ کسی بڑے عالم دین نہ سہی لیکن حصول علم کیلیے تڑپ رکھنے والے اچھے اور متبع سنت طالب علم سے بھی مستفید ہو سکتے ہیں ، اور ایسے افراد سے شاید ہی کوئی جگہ خالی ہوتی ہے۔

چہارم:

ہم  آپ کو جن کتابوں کو  مطالعہ میں شامل کرنے کی تلقین کرتے ہیں ان میں سے کچھ یہ ہیں:

1- تفسیر میں: تفسیر شیخ ابن سعدی، اور تفسیر ابن کثیر۔

2- حدیث میں:  اربعین نووی مع شرح، اسی طرح جامع العلوم والحکم از ابن رجب ، یہ پڑھنے کے بعد آپ ریاض الصالحین پر بھر پور توجہ دیں یہ بہت ہی بابرکت کتاب ہے، ریاض الصالحین کے ساتھ آپ ابن عثیمین رحمہ اللہ کی شرح  ریاض الصالحین سے مستفید ہو سکتے ہیں۔

3- کتب عقیدہ: آپ کتاب التوحید از شیخ محمد بن عبدالوہاب پڑھیں اس کے ساتھ اس کی کوئی بھی شرح ملا لیں، ایسے ہی شیخ الاسلام ابن تیمیہ کی کتاب عقیدہ واسطیہ بھی پڑھیں۔ اس کے ساتھ ساتھ دیگر مختصر رسائل بھی کتب عقیدہ میں شامل کریں، جیسے کہ : ابن رجب کی کتاب " تحقيق كلمة الإخلاص " اور اسی طرح ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی کتاب: "التحفة العراقية في الأعمال القلبية"

4- ایسے ہی آپ ابن قیم رحمہ اللہ کی کتاب زاد المعاد پڑھیں، انہی کی کتاب الوابل الصیب اور  الداء و الدواء کا مطالعہ کریں۔

یہ ابتدائی مرحلے کی کتابیں ہیں ، آپ ان کا مطالعہ کرنے  کے ساتھ ساتھ اگر کسی ایسے ساتھی کو پانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں جو آپ کی ان کتب کے پڑھنے میں معاونت کرے تو  اس سے آپ کی معلومات میں بتدریج خاطر خواہ اضافہ ہو جائے گا۔ ان شاء اللہ

واللہ اعلم.

اسلام سوال و جواب
Create Comments