ar

96198: : بيوى كو طلاق دے كر بيوى كى حاملہ بہن سے شادى كر لى تا كہ بچہ اس كى طرف منسوب ہو


پچھلے چند برس ميرے دوست كے ہاں كوئى اولاد نہيں ہوئى اور بيوى كى بہن ( يعنى اس كى سالى ) حاملہ تھى اور بچہ جننے والى تھى، اس نے اپنى بہن كو يہ بچہ ہديہ كرنے كا اس طرح سوچا كہ بہنوئى جو اولاد پيدا نہ كر سكتا وہ اس سے شادى كر لے، اور بالفعل ميرے اس دوست نے اپنى بيوى كو طلاق دے دى اور بيوى كى بہن يعنى اپنى حاملہ سالى سے صرف دو ماہ كے ليے شادى كر لى ـ پہلے سے ہونے والے حمل كے دو ماہ بعد ـ پھر اس نے دوبارہ اپنى بيوى سے ہى رجوع كر ليا اس تعلق سے اس كا ايك بچہ ہے اور وہ اپنى بيوى كے ساتھ زندگى بسر كر رہا ہے.
برائے مہربانى آپ اس نكاح كا كتاب و سنت كے مطابق حكم واضح كريں كہ موجودہ حالات كو مدنظر ركھتے ہوئے كيا حكم ہو گا، اور يہ نكاح صرف دو ماہ رہا اور يہ نكاح بھى بچہ كى وجہ سے تھا، برائے مہربانى يہ بتائيں كہ آيا يہ نكاح حلال ہے يا حرام، كيا اس خاوند نے جو كيا ہے وہ حرام ہے، اور كيا يہ بچہ حلال كا ہے ؟

Published Date: 2010-06-08

الحمد للہ:

اول:

انا للہ و انا اليہ راجعون، ہم نے يہ سوال بار بار پڑھا اور كئى بار اس پر غور كيا، اور اس ميں جو كچھ بيان ہوا ہے اس كى تقديق نہ كر پائے، صرف اتنا ہے كر سكے كہ اپنے آپ كو ہى تہمت دى اور ملامت كرنے لگے ، شائد ہم سوال نہيں سمجھ سكے، اور ہم تمنا بھى يہى كرتے ہيں كہ ہمارى فہم غلط ہى ہو، ليكن سوال ميں سب كچھ اتنا واضح ہے كہ اس نے ان سارى اميدوں پر پانى پھير ديا.

كيا مسلمانوں كى حالت يہاں تك پہنچ چكى ہے؟

عمر بن خطاب رضى اللہ تعالى عنہ تو مسلمان تاجروں كے بازار ميں گھوم كر تاجروں سے تجارت اور سود كے متعلق سوالات كيا كرتے تھے، اور اگر كوئى تاجر جواب نہ دے سكتا تو اسے تعزيرا مارتے اور فرمايا كرتے تھے:

" ہمارى ماركيٹ اور بازار ميں صرف تجارت وہى كر سكتا ہے جو فقيہ ہو "

اگر وہ اس طرح كا سوال سن ليتے تو وہ كيا كرتے.

اس سوال نے تو ہميں بہت زيادہ تكليف سے دوچار كيا ہم اسے فرصت سمجھتے ہوئے مسلمانوں ميں يہ پكار لگائيں گے كہ تم نے اپنے آپ كو ضائع كر ديا، اور اسلام بھى ضائع كر بيٹھے، تم نے شرعى علم سے اعراض كر كے منہ موڑ كر اپنے آپ كو ضائع كر ديا، اور اسلام كے ضرورى امور اور اس كى ابجد سے جاہل رہ كر اپنا سب كچھ ضائع كر بيٹھے، اور جب تم نے اسلام كو ايك غلط رنگ ميں پيش كيا تو اسلام كو بھى ضائع كر بيٹھے.

ہمارى اللہ تعالى سے دعا ہے كہ وہ مسلمانوں كو ان كے دين كى جانب واپس لائے، اور انہيں دين كى سمجھ عطا كرے.

سائل نے ہميں اس حمل كے متعلق كچھ نہيں بتايا كہ آيا وہ نكاح سے ہوا يا زنا سے ؟

اور كيا وہ حاملہ عورت طلاق شدہ تھى يا كہ اس كا خاوند فوت ہو چكا تھا، يا كہ وہ زندہ ہے اور وہ خاوند كے نكاح ميں ہى تھى ؟

اور كيا وہ شخص جس نے اپنى بيوى كو طلاق دے كر سالى يعنى بيوى كى بہن سے شادى كى اس نے اپنى بيوى كى عدت ختم ہونے كا انتظار كيا يا كہ بيوى كى عدت ختم ہونے سے قبل ہى سالى كے ساتھ شادى كر لى ؟

ان سوالات كا جواب چاہے كچھ بھى ہو اس سے شرعى حكم ميں كوئى تبديلى نہ ہو گى، ليكن اس سے تو برائى كى لسٹ ميں ہى اضافہ ہو كر قصہ اور بھى عجيب صورت اختيار كر جائيگا.

دوم:

جس نكاح كے متعلق دريافت كيا جا رہا ہے وہ نكاح باطل ہے كيونكہ طلاق شدہ يا جس كا خاوند فوت ہو چكا ہے اس عورت سے عدت ميں نكاح كرنا مسلمانوں كے اجماع كے مطابق حرام ہے اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

" اور تم اس وقت تك عقد نكاح پختہ مت كرو جب تك عدت ختم نہ ہو جائے "

يعنى عورت عدت ميں ہو تو نكاح مت كرو حتى كہ اس كى عدت گزر جائے، اور حاملہ عورت كى عدت وضع حمل ہے.

اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

" اور حمل واليوں كى عدت وضع حمل ہے " الطلاق ( 4 ).

چنانچہ اگر عورت زنا سے حاملہ ہو تو معاملہ اور بھى فحش اور زيادہ جرم والا ہے كہ اس جرم كا كوئى خيال نہيں كيا گيا بلكہ اس جرم كو ايسے بيان كيا جا رہا ہے جيسے يہ مباح كام تھا.

اور اس حمل كو اس خاوند سے كسى بھى حالت ميں منسوب كرنا ممكن نہيں؛ اور يہ ہو بھى كيسے سكتا ہے كيونكہ وہ تو كسى اور كے نطفہ سے پيدا شدہ ہے، اور يہ عورت اس كى بيوى نہ تھى، تو پھر يہ بچہ اس كى جانب كيسے منسوب ہو گا اور وہ كس طرح دعوى كر سكتا ہے كہ وہ اس كا بيٹا ہے ؟

نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم خيمہ كے دروازے پر ايك حاملہ قيدى عورت كو ديكھا گويا كہ اس كا مالك اس سے مجامعت كرنا چاہتا ہو، اور وہ اس كے علاوہ كسى اور كے نطفہ سے حاملہ تھى تو نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" ميں نے ارادہ كيا كہ اس پر ايسى لعنت كروں جو قبر ميں بھى اس كے ساتھ جائے، وہ اس كے ليے حلال ہى نہيں تو وہ اس وارث بنا رہا ہے، اور اس كے ليے حلال ہى نہيں تو وہ كيسے اسے استعمال كر رہا ہے ؟ "

صحيح مسلم حديث نمبر ( 1441 ).

سنن ابو داود ميں مروى ہے كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" اللہ اور آخرت كے دن پر ايمان ركھنے والے شخص كے ليے حلال نہيں كہ وہ كسى دوسرى كى كھيتى كو اپنا پانى لگائے "

سنن ابو داود حديث نمبر ( 2158 ) علامہ البانى رحمہ اللہ نے صحيح ابو داود ميں اسے حسن قرار ديا ہے.

اس سے مراد كسى دوسرے سے حاملہ عورت سے جماع كرنا ہے.

حاصل يہ ہوا كہ:

يہ نكاح باطل ہے، اور بچہ اس خاوند كى طرف منسوب نہيں ہو گا، اور جو كوئى بھى اس ميں شريك ہوا ہے، يا جسے اس كا علم ہوا اور اس نے اس سے روكا نہيں ان سب كو اس سے توبہ كرنى چاہيے اور اپنے فعل پر نادم ہوں، اور اس بچے كو باپ كے علاوہ كسى اور طرف منسوب كرنے سے برات كا اظہار كريں.

اللہ تعالى سے دعا ہے كہ وہ مسلمانوں كے حالات درست فرمائے اور انہيں ہدايت و راہنمائى سے نوازے.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments