سوموار 9 ربیع الثانی 1440 - 17 دسمبر 2018
اردو

عید کے احکام وآداب

تاریخ اشاعت : 22-04-2018

مشاہدات : 100

عید کے احکام وآداب

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

الحمد للہ رب العالمین والصلاۃ والسلام علی نبینا محمد وعلی آلہ وصبحہ اجمعین ۔

اما بعد :

عادتا اورباربار تکرار سے آنے والی ہرچیز کوعید کا نام دیا جاتا ہے ، اورعید ایسے شعار ہیں جوہر امت میں پائے جاتے رہے ہیں چاہے وہ اہل کتاب سے تعلق رکھتی ہوں یا پھران کا تعلق بت پرستی سے تھا یا اس کے علاوہ کسی اور سے تعلق رکھیں ۔

اس لیے کہ عید منانا سب لوگوں کی شرست اور طبیعت میں شامل ہے اوران کے احساسات سے مرتبط ہوتی ہے لھذا سب لوگ یہ پسند کرتے ہیں کہ ان کے لیے کوئي نہ کوئي تہوار ہونا چاہیے جس میں وہ سب جمع ہو کراپنی خوشی وفرحت اور سرور کا اظہار کریں ۔

کفار امتوں کی عیدیں اورتہوار اس کے دنیاوی معاملات کے اعتبار سےمنائي جاتی ہیں مثلا سال نو کا تہوار یا پھر زراعت کا موسم شروع ہونے کا تہوار اور بیساکھی کا تہوار یا موسم بہار کا تہوار ، یا کسی ملک کے قومی دن کا تہوار یا پھر کسی حکمران کا مسند اقدار پر براجمان ہونے کے دن کا تہوار اس کے علاوہ اوربھی بہت سارے تہوار منائے جاتے ہيں ۔

اوراس کے ساتھ ساتھ ان کے کچھ دینی تہوار بھی ہوتے ہیں مثلا یھود نصاری کے خاص دینی تہوار مثلاعیسائيوں کے تہواروں میں جمعرات کا تہوار شامل ہے جس کے بارہ میں ان کا خیال ہے کہ جمعرات کےدن عیسی علیہ السلام پر مائدہ یعنی آسمان سے دسترخوان نازل کیا گیا تھا اور سال کے شروع میں کرسمس کا تہوار ، اسی طرح شکر کاتہوار ، عطاء کا تہوار ، بلکہ اب تو عیسائي سب یورپی اور امریکی اور اس کے علاوہ دوسرے ممالک جن میں نصرانی نفوذ پایا جاتا ہے ان تہواروں کومناتے ہیں اگرچہ بعض ممالک میں اصلانصرانیت تو نہيں لیکن اس کے باوجود کچھ ناعاقبت اندیش قسم کے کچھ مسلمان بھی جہالت یا پھر نفاق کی بنا پر ان تہواروں میں شامل ہوتے ہیں ۔

اسی طرح مجوسیوں کے بھی کچھ خاص تہوار اورعیدیں ہیں مثلا مھرجان اورنیروز وغیرہ کا تہوار مجوسیوں کا ہے  ۔

اوراسی طرح فرقہ باطنیہ کے بھی کچھ تہوار ہیں مثلا عیدالغدیر کا تہوار جس کے بارہ میں ان لوگوں کا خیال ہے کہ اس دن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضي اللہ تعالی عنہ اوران کے بعد بارہ اماموں سے خلاف پربیعت کی تھی ۔

مسلمانوں کی عید میں دوسروں سے امتیاز :

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان مسلمانوں کی ان دوعیدوں پر دلالت کرتا ہے اورمسلمانوں کی ان دوعیدوں کے علاوہ کوئي اور عید ہی نہیں :

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :

( ہر قوم کی عید اورتہوار ہوتا ہے  اوریہ ہماری عید اورتہوار ہے  ) ۔

لھذا مسلمانوں کے لیے جائزاورحلال نہيں کہ وہ کفار اور مشرکوں سے ان کے تہواروں اورعیدوں میں مشابہت کریں نہ تو کھانے اورنہ ہی لباس میں اورنہ ہی آگ جلاکر اورعبادت کرکے ان کی مشابہت کرنا بھی جائز نہيں ، اور اسی طرح ان کے تہواروں اورعیدوں میں بچوں کو کھیل کود کرنے بھی نہيں دینا چاہیے ، اورنہ ہی زيب وزينت کا اظہار کیا جائے اوراسی طرح مسلمانوں کے بچوں کو کفار کے تہواروں اور عیدوں میں شریک ہونے کی اجازت بھی نہیں دینی چاہیے  ۔

ہر کفریہ اوربدعت والی عید اورتہوار حرام ہے مثلا سال نو کا تہوار منانا ، انقلاب کا تہوار ، عید الشجرۃ ، عیدالجلاء ، سالگرہ منانا ، ماں کا تہوار ، مزدوروں کا تہوار ، نیل کا تہوار ، اساتذہ کا تہوار ، اورعید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ سب بدعات اورحرام ہیں ۔

مسلمانوں کی صرف اور صرف دو عیدیں اورتہوار ہيں ، عید الفطر اور عیدالاضحی ، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی یہی فرمان ہے :

انس رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ نبویہ تشریف لائے تو اہل مدینہ کے دو تہوار تھے جن میں وہ کھیل کود کرتے اورخوشی وراحت حاصل کرتے تھے ، لھذا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا یہ دو دن کیسے ہیں ؟

لوگوں نے جواب دیا کہ ہم دور جاہلیت میں ان دنوں میں کھیل کود کیا کرتے تھے ، تورسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

یقینا اللہ تعالی نے تمہیں ان دو دنوں کے بدلے میں اچھے دن دیے ہیں عید الاضحی اور عیدالفطر ۔ سنن ابوداود حدیث نمبر ( 1134 ) ۔

یہ دونوں عیدیں اللہ تعالی کے شعار اورعلامتوں میں سے جن کا احیاء کرنا اوران کے مقاصد کا ادراک اوران کے معانی کو سمجھنا ضروری ہے ۔

ذیل میں ہم شریعت اسلامیہ میں عیدین کے احکام اور اس کے آداب کا مختصر کا نوٹ پیش کرتے ہیں :

اول : عید کے احکام :

عیدکا روزہ رکھنا :

عیدین کا روزہ رکھنا حرام ہے  کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دو دنوں میں روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے :

ابوسعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہيں کہ : رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نےعید الفطراورعید الاضحی کے دن کا روزہ رکھنے سے منع فرمایا۔

صحیح مسلم حدیث نمبر ( 827 ) ۔

 

  نماز عیدین کا حکم  :

بعض علماءکرام نے عیدین کی نماز کوواجب قرار دیا ہے ، جن میں علماء احناف شامل ہیں اورشیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ تعالی نے بھی یہی قول اختیار کیا ہے ، اس قول کے قائلین کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عیدین پر مواظبت فرمائي ہے اور کبھی بھی ترک نہيں کی یعنی ایک بار بھی تر ک نہيں کی ۔

اورانہوں نے اللہ تعالی کے مندرجہ ذيل فرمان سے بھی استدلال کیا ہے :

{ لھذا تو اپنے رب کے لیے نماز ادا کر اورقربانی کر } ۔

یعنی نماز عید ادا کرکے بعد میں قربانی کر ، اوریہاں پر امر کا صیغہ ہے ، اورپھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عید میں حاضر ہونے کے لیے گھروں سے باہر نکلنے کا حکم بھی دیا اورجس عورت کے پاس پردہ کرنے کےلیے اوڑھنی اوربرقعہ نہ ہو وہ اپنی بہن سے عاریتا حاصل کرلے  ۔

اوربعض علماء کرام کہتے ہیں کہ یہ فرض کفایہ ہے حنابلہ کا مذھب یہی ہے اورایک تیسرا گروہ کہتا ہےکہ نماز عیدین سنت مؤکدہ ہے ، ان میں مالکیہ اورشافعیہ شامل ہیں ، انہوں نے اس اعرابی والی حدیث سے استدلال کیا ہے جس میں ہے کہ اللہ تعالی نے بندوں پر پانچ نمازیں ہی فرض کیں ہیں ۔

لھذا مسلمان  کے لیے ضروری ہے کہ وہ نماز عیدین میں حاضر ہونے کی خصوصی حرص رکھے اور کوشش کرے ، اورنماز عیدین کے وجوب کا قول قوی معلوم ہوتا ہے اور یہی کافی ہے کہ نماز عیدین میں حاضر ہونے میں جوخیر وبرکت اوراجر عظیم پایا جاتا ہے اوراس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء اور پیروی بھی ہے ۔

وجوب اورصحیح ہونے کی شروط اورنماز عیدین کا وقت :

بعض علماء کرام جن مین حنفیہ اورحنابلہ شامل ہیں نے نماز عیدین کے وجوب کے وجہ سے اقامت اورجماعت شرط رکھی ہے ، اوربعض کا کہنا ہے کہ اس میں نماز جمعہ والی شروط ہی ہیں صرف خطبہ نہيں ، لھذا خطبہ میں حاضر ہونا واجب نہيں ہے ۔

جمہور علماء کرام کہتے ہيں کہ نماز عیدین کا وقت دیکھنے کے اعتبار سے سورج ایک نیزہ اونچا ہوجانے پر شروع ہوجاتا ہے اورزاول کے ابتداء تک وقت رہتا ہے ۔

نماز عید کا طریقہ :

عمر رضی اللہ تعالی عنہ کا کہنا ہے : نماز عیدالفطر اورعیدالاضحی دو دو رکعت ہیں یہ قصر نہيں بلکہ مکمل ہے اورنبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی فرمایا ہے  جس نے بھی افتراء باندھا وہ ذلیل و رسوا ہوا ۔

اورابو سعید رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عیدالفطر اورعید الاضحی عیدگاہ جاتے تو سب سے پہلے نماز ادا کرتے  ۔

نماز عید کی پہلی رکعت میں سات تکبیریں اوردوسری رکعت میں پانچ تکبیریں ہیں اورتکبیروں کے بعد قرآت ہے ۔

عائشہ رضي اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں کہ : عیدالفطر اورعیدالاضحی کی پہلی رکعت میں رکوع کی تکبیر کے علاوہ سات اوردوسری رکعت میں پانچ تکبیریں ہیں ۔

اسے ابوداد نے روایت کیا ہے اور سب طرق کے ساتھ یہ روایت صحیح ہے ۔

اگر مقتدی امام کے ساتھ تکبیروں کے دوران ملے تو وہ امام کے ساتھ ہی تکبیر کہے اوراس کی اقتدا کرے گا اوراس کی چھوٹی ہوئي زائد تکبیروں کی قضاء نہيں اس لیے کہ وہ سنت ہیں واجب نہيں ۔

تکبیروں کے مابین کیا کہا جائے :

حماد بن سلمہ عن ابراھیم کی سند سے مروی ہے کہ ولید بن عقبہ مسجد میں داخل ہوئے تو مسجد میں ابن مسعود ، حذیفہ اورابوموسی رضي اللہ تعالی عنہم موجود تھے ، ولید انہيں کہنے لگے عید آگئي ہے اورمجھے کیا کرنا چاہیے ، توابن مسعود رضي اللہ تعالی عنہما کہنے لگے :

اللہ اکبر کہنے کے بعد اللہ تعالی کی حمد وثنا بیان کرے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود وسلام کہے اوراللہ تعالی سے دعا کے ، پھر اللہ اکبر کہے اوراللہ تعالی کی حمد وثنا بیان کرنے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود وسلام کہے ۔۔۔ الخ  رواہ الطبرانی ۔ یہ حدیث صحیح ہے اوراس کی تخریج ارواء الغلیل وغیرہ میں کی گئي ہے  ۔

نماز عید میں قرات :

 نماز عیدمیں امام کے لیے سورۃ ق اور سورۃ القمر پڑھنی مستحب ہے جیسا کہ صحیح مسلم کی مندرجہ ذیل حديث میں بھی ہے :

عمربن خطاب رضي اللہ تعالی عنہ نے ابوواقد رضي اللہ تعالی عنہ سے سوال کیا کہ عیدالفطر اورعیدالاضحی کی نماز میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کیا پڑھا کرتے تھے  ،تووہ کہنے لگے : ان میں سورۃ ق والقرآن المجید ، اوراقتربت الساعۃ وانشق القمر پڑھا کرتے تھے ۔  صحیح مسلم حدیث نمبر (891 ) ۔

اور اکثر وارد تو یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جیسے نماز جمعہ میں سورۃ الاعلی اور سورۃ الغاشیۃ پڑھا کرتے تھے اس طرح نماز عید میں بھی یہی دوسورتیں پڑھتے  تھے  ۔

نعمان بن بشیر رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز عیدین اورنماز جمعہ میں سورۃ الاعلی اورسورۃ الغاشیۃ پڑھا کرتے تھے  ۔ صحیح مسلم  حدیث نمبر ( 878 ) ۔

اورسمرہ رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عیدین میں ( سبح اسم ربك الأعلى ) و (هل أتاك حديث الغاشية )  پڑھا کرتے تھے مسند احمد وغیرہ نے روایت کیا ہے دیکھیں صحیح الارواء الغلیل  ( 3 / 116 ) ۔

خطبہ سے قبل نماز ادا کرنا :

عید کے احکام میں یہ بھی ہے کہ نماز عید خطبہ سے قبل ادا کی جائے جیسا کہ مسنداحمد میں ابن عباس رضي اللہ تعالی عنہ کی حدیث میں ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ ميں گواہی دیتاہوں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عید والے دن خطبہ سے پہلے نماز عید پڑھائي اوربعد میں خطبہ ارشاد فرمایا ۔

دیکھیں مسند احمد حدیث نمبر ( 1905 ) اورصحیح میں بھی یہ حدیث موجود ہے ۔

اور مندرجہ ذيل ابوسعید رضي اللہ تعالی عنہ کی حدیث بھی اس پر دلالت کرتی ہے کہ خطبہ نماز عید کے بعدہی ہے :

ابوسعید رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عیدالفطر اورعیدالاضحی میں عیدگاہ جاتے تو سب سے پہلے نماز سے ابتدا کرتے اورپھر نماز سے فارغ ہوکر لوگوں کے سامنے کھڑے ہوکر خطبہ ارشاد فرماتے اورانہیں وعظ ونصیحت کرتے اورانہیں حکم بھی دیتے اورلوگ اپنی صفوں میں ہی بیٹھے رہتے تھے ۔

اوراگر کوئي لشکر بھیجنا ہوتا تو اس کی تشکیل بھی کرتے ، یاپھرکسی چيز کا حکم دینا ہوتا وہ بھی دیتے  ۔

ابوسعید رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہيں کہ : لوگ اسی طرح عمل کرتے رہے حتی کہ میں مروان کے ساتھ نکلا ان دنوں مروان مدینہ کا امیرتھا میں عیدالفطر یا عیدالاضحی میں اس کے ساتھ عیدگاہ گیا تووہاں کثیر بن صلت نے ایک منبر بنا رکھا تھا اورمروان نے نماز عید ادا کرنے سے قبل ہی اس پر چڑھنا چاہا تو میں نے اس کا کپڑا کھینچا اوراس نے مجھے کھینچا اوروہ منبر پر چڑھا اورنماز عید سے قبل ہی خطبہ دیا ۔

میں نے اسے کہا اللہ کی قسم تم نے تبدیلی پیدا کرلی ہے ، وہ کہنے لگا اے ابوسعید جوکچھ تمہیں علم تھا وہ جاتا رہا ، میں نے کہا : اللہ کی قسم میں جوکچھ جانتاہوں وہ اس سے بہتر ہے جو میں نہیں جانتا ، مروان کہنے لگا : لوگ نماز عید کے بعد ہمارے لیے بیٹھتے نہيں تھے توہم نے خطبہ نماز سے پہلے شروع کردیا ۔ صحیح بخاری حدیث نمبر ( 956 ) ۔

دوران خطبہ جانے کی اجازت :

عبداللہ بن سائب رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عید میں شریک ہوا تونبی صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز عید سے فارغ ہوئے تو فرمانے لگے : ہم خطبہ دینے لگے ہیں جوخطبہ سننا پسند کرے وہ بیٹھا رہے اورجوجانا چاہے چلا جائے ۔ ارواء الغلیل  ( 3 / 96 ) ۔

تاخیر میں عدم مبالغہ :

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی عبداللہ بن بشر رضي اللہ عنہ عیدالفطر یا عیدالاضحی کے لیے لوگوں کے ساتھ نکلے تو امام کی تاخیر پر انکار کیا اورفرمانے لگے :

ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے تو اس وقت تک ہم فارغ بھی ہوچکے ہوتے تھے ۔۔۔امام بخاری رحمہ اللہ تعالی نے اسے تعلیقا روایت کیا ہے ۔

عیدگاہ میں نفل ادا کرنا :

نماز عید سے قبل اوربعدمیں کوئي نفل نہیں ہیں ، جیسا کہ مندرجہ ذيل ابن عباس رضي اللہ تعالی عنہما کی حدیث میں ہے :

ابن عباس رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عید کے دن نماز عید کے لیے عیدگاہ نکلے اوردو رکعت ادا کی ان سے پہلے اوربعد میں کوئي نماز ادا نہيں فرمائي ۔

سنن ابوداود حدیث نمبر ( 1159 ) ۔

یہ تواس وقت ہے کہ جب عیدگاہ یا پھر عام جگہ پر نماز عید ادا کی جائے لیکن اگر لوگ نماز عید مسجدمیں ادا کریں توپھر مسجد میں داخل ہوکر بیٹھنے سے قبل دو رکعت تحیۃ المسجد ادا کریں گے  ۔

اگر عید کا علم بعد میں دوسرے دن ہو :

ابوعمیر بن انس اپنے انصاری چچاؤں سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا : ایک بار مطلع ابر آلود ہونے کی وجہ سے شوال کا چاند ہمیں نظر نہ آیا تو ہم نے روزہ رکھ لیا ، تو دن کے آخر میں ایک قافلہ آیا اوررسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر گواہی دی کہ انہوں نے کل چاند دیکھا تھا لھذا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو اس دن کاروزہ کھولنے کا حکم دیا اورکہا کہ وہ دوسرے دن صبح نماز عید کے لیے نکلیں ۔

 رواہ الخمسہ ، یہ حدیث صحیح ہے دیکھیں اروائ الغلیل  ( 3 / 102 )

جس شخص کی نماز عید فوت ہو جائے اس کے لیے راجح یہی ہے کہ اس کے لیے  قضاء میں دو رکعت ادا کرنا جائز ہے ۔

نماز عید میں عورتوں کا حاضرہونا :

حفصہ رحمہا اللہ بیان کرتی ہیں کہ ہم قریب البالغ اوربالغ عورتوں کو نماز عیدین میں شامل ہونے سے روکا کرتی تھیں ، توایک عورت آئي اوربنی خلف کے محل میں ٹھری اوراپنی بہن سے حدیث بیان کی  جس کے خاوند نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مل کر بارہ غزووں میں شرکت کی تھی ، وہ بیان کرتی ہے کہ میری بہن بھی ان میں سے چھ غزووں میں اس کے ساتھ تھی وہ کہتی ہے کہ ہم زخمیوں کی مرہم پٹی اور بیماروں کی دیکھ بھال کیا کرتی تھیں ۔

میری بہن نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ کیا اگر ہم میں کسی ایک کے پاس اوڑھنی نہ ہو اوروہ نہ جائے  تو کیا اس پر کوئي حرج ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

اس کی سہیلی کوچاہیے کہ وہ اپنی اوڑھنی اسے بھی دے اوروہ بھی مسلمانوں کے ساتھ خیر وبھلائي اوردعا میں شرکت کرے ، توجب ام عطیہ رضی اللہ تعالی عنہا آئيں تومیں نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے ، وہ کہنے لگیں میرا باپ قربان ہو جی ہاں میں نے سنا ہے ، وہ جب بھی اس کا ذکر کرتی تو کہتی کہ میرا باپ قربان ہو میں نے اسےنبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ وہ فرما رہے تھے :

بالغ اور قریب البالغ عورتیں بھی اورپردہ والیاں بھی یا قریب البالغ اور بالغ اور پردہ اور حیض والیاں بھی مسلمانوں کے ساتھ خیروبھلائي اوردعا میں شریک ہوں اورحیض والیاں عیدگاہ سے دور رہیں ۔صحیح بخاری حدیث نمبر ( 324 ) ۔

قولہ ( عواتق ) عاتق کی جمع ہے اوراس لڑکی کو کہا جاتا ہے جو بالغ ہوچکی ہو یا قریب البلوغت ہو ، یاپھر شادی کی مستحق ہوچکی ہو یااسے کہاجاتا ہے جواپنے گھروالوں کے لیے بہت کریم  ہو ، یا جوخدمت کے لیے نکلنے کے امحتان سے آزاد کردی گئي ہو اسے عاتقہ کہا جاتا ہے ۔

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پہلے دور یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم اورصحابہ کےدور کے بعد جوکچھ فساد اور خرابیاں پیدا ہو گئي تھیں اس کی وجہ سے نوجوان لڑکیوں کو باہرنکلنے سے منع کردیا گیا تھا ، لیکن صحابہ کرام رضي اللہ تعالی عنہم نے اس کو نہيں دیکھا بلکہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کو جس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں عمل ہوتا تھا کو ہی برقرار رکھا اوراس پر عمل پیرا رہے ۔

قولہ : ( وکانت اختی ) اس میں محذوف ہے جس کی تقدیر یہ ہے کہ اس عورت نے کہا کہ میری بہن تھی ۔

قولہ : ( قالت ) یعنی اس بہن نے کہا

قولہ :  ( من جلبابھا ) یعنی جس کپڑے کی اسے ضرورت نہيں وہ دوسرے کو عاریتا دے دے ۔

قولہ :  ( وذوات الخدور ) خاء پر پیش ہے اوردال بغیر نقطہ کے خدر کی جمع ہے جس میں خاء پر زير اوردال پر جزم یعنی ساکن ہے ، گھرکےایک کونے میں پردہ جس کے پیچھے کنواری لڑکی بیٹھا کرتی تھی کو خدر کہا جاتا ہے ۔

قولہ : ( فالیحض ) حاء پر پیش اوریاء پر شد ہے اورحائض کی جمع ہے جس کا معنی ہے لڑکیوں میں سے بالغ لڑکیاں یا پھر حیض والیاں باوجود اس کے وہ ناپاک ہیں ۔

قولہ :  ( ویعتزل الحیض المصلی ) ابن منذ رحمہ اللہ تعالی کہتےہیں ان کے علیحدہ رہنے میں حکمت یہ ہے کہ وہ نماز پڑھنے والیوں کے ساتھ بغیرنماز پڑھے کھڑی رہیں تواس حال میں توھین ہے لھذا اس وجہ سے ان کا علیحدہ رہنا مستحب ہوا ۔

حیض والیوں کو عیدگاہ سے دور رہنے  کا سبب یہ بھی ہے کہ : غیر کسی حاجت اورضرورت اورنہ ہی نماز کے مردوں کے لیے عورتوں کا مقارنہ کرنے سےاحتراز کرنا اوربچنا ، اور یہ بھی کہا گيا ہے کہ ان کے خون اوربو سے دوسروں کو اذیت نہ پہنچے ۔

اورحدیث میں ہر ایک کو عید میں شامل ہونے اورعیدگاہ جانے پر ابھارا گیا ہے اوراس میں نیکی اوربھلائي اور تقوی پر ایک دوسرے کا تعاون اورمواساۃ کرنے کی ترغیب دی گئي ہے ، اورحدیث میں یہ بھی ہے کہ حائضہ عورت بھی اللہ تعالی کا ذکر نہ چھوڑے اورنہ ہی خیرو بھلائي والی جگہوں میں جانا ترک کرے مثلا علم اورذکر کی مجالس لیکن مساجد میں نہيں ، اورحدیث میں یہ بیان ہے کہ عورت اوڑھنی اورپردہ کے بغیر نہيں نکل سکتی ۔

اورحدیث میں بہت سے فوائد ہیں جن میں یہ بھی ہے کہ : نوجوان اور پردے والی عورتیں باہر نہ نکلیں صرف جہاں انہيں اجازت دی گئي ہے وہاں جائیں ، حدیث میں عورت کے لیے اوڑھنی اوربرقعہ بنانے کا بھی استحباب پایا جاتا ہے ، اورحدیث میں یہ بھی ہے کہ کپڑے عاریتا حاصل کیے جاسکتے ہیں ۔

اس حدیث سے نماز عید کے وجوب کی دلیل بھی لی گئي ہے ۔۔ ابن ابی شیبہ نے بھی ابن عمر رضي اللہ تعالی عنہما سے بیان کیا ہے کہ وہ نماز عید کے لیے اپنے گھروالوں میں سے جو بھی جانے کی استطاعت رکھتا لے کر جاتے تھے ۔

ام عطیہ رضي اللہ تعالی عنہا کی حدیث میں اس حکم کی علت بھی بیان کی گئي ہے کہ وہ مسلمانوں کی دعا اورخیروبھلائي اوراس دن کی برکت اورپاکی حاصل کرنے کے لیے  شمولیت کریں ۔

امام ترمذی رحمہ اللہ تعالی نے اپنی سنن میں حدیث ام عطیہ رضي اللہ تعالی عنہا ذکر کرنے کے بعد کہا ہے کہ :

بعض اہل علم نے اس حدیث پر عمل کرتے ہوئے عورتوں کو نماز عیدین میں عیدگاہ جانے کی اجازت دی ہے ، اورکچھ علماء کرام نے اسے مکروہ جانا ہے ، اورعبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ تعالی سے مروی ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ آج عورتوں کا نماز عیدین کے لیے جانا مکروہ سمجھتا ہوں  ۔

لیکن اگر عورت ضرور ہی نکلنا چاہے تو اس کا خاوند اسے اجازت دے دے اوراسے بھی باپردہ ہو کر نکلنا چاہیے اوربغیر زيب وزينت کےنکلے ، اگر وہ اس طرح نکلنے سے انکار کردے تواس کے خاوند کو حق حاصل ہے کہ اسے عیدگاہ جانے کی اجازت ہی نہ دے اور اسے جانے سے روک دے  ۔

عائشہ رضي اللہ تعالی عنہا سے  مروی ہے کہ : وہ بیان کرتی ہیں اگر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وہ کچھ دیکھ لیتے جو آج کل عورتوں نے کرنا شروع کردیا ہے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں مسجد جانے سے ہی روک دیتے ، جیسا بنی اسرائیل کی عورتوں کو منع کردیا گیاتھا ۔

اورسفیان ثوری رحمہ اللہ تعالی سے مروی ہے کہ انہوں نے آج کل عورتوں کا نماز عید کے لیے نکلنا مکروہ کہا ہے ۔ سنن ترمذی حدیث نمبر ( 495 ) ۔

ام عطیہ رضي اللہ تعالی عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کچھ مدت بعد اوپر بیان کی گئي حدیث کا ہی فتوی دیا جیسا کہ اس حدیث میں بھی ہے اورصحابہ کرام میں سے کسی ایک نے بھی اس کی مخالفت نہیں کی ، اور عائشہ رضي اللہ تعالی عنہا کا یہ کہنا کہ :

اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم دیکھ لیتے کہ عورتوں نے کیا کچھ کرنا شروع کردیا ہے تو وہ انہیں مسجدوں میں جانے سے ہی روک دیتے  ، یہ اس سے معارض نہیں ( جب تک عورت شرعی شروط کو مدنظر رکھتے ہوئے باہر نکلے ) اولی اروبہتر یہ ہے کہ انہیں نکلنے کی اجازت دی جائے جس سے اور جس پر فتنہ کا خدشہ نہ ہو اورنہ ہی اس کے جانے سے کوئي شرعی محذور پیدا ہو ، اورراستوں اور مساجد میں مردوں سے ازدحام نہ ہو تو پھر ۔

اور مرد پر ضروری ہے کہ وہ عورت کا نماز کے لیے گھر سے نکلتے وقت خیال رکھے کہ وہ مکمل باپردہ ہوکرنکلے ، اس لیے کہ وہ سربراہ ہے اوراپنی رعایا کے بارہ میں جوابدہ ہے ، لھذا عورتیں نہ تو بے پردہ ہو اورنہ ہی زيب وزینت کرکےنکلیں بلکہ سادگی سے نکلیں اورنہ ہی وہ خوشبو استعمال کریں  ۔

اورحائضہ عورت مسجد میں داخل نہيں ہوگی اور نہ ہی عیدگاہ میں بلکہ یہ ممکن ہے کہ وہ گاڑی وغیرہ میں ہی خطبہ سننے کے لیے انتظار کرے اور دعا میں شریک ہو ۔

عید کے آداب :

غسل کرنا :

نماز عید کے لیے نکلنے سے قبل غسل کرنا عید کے آداب میں شامل ہے ، امام مالک رحمہ اللہ تعالی نے موطا میں بیان کیا ہے کہ : عبداللہ بن عمر رضي اللہ تعالی عنہ عیدالفطر کے دن عید گاہ جانے سے قبل غسل کیا کرتے تھے ۔ دیکھیں الموطا حدیث نمبر ( 428 ) ۔

اورسعیدبن جبیر رحمہ اللہ سے ثابت ہے کہ انہوں نے فرمایا ( عید کی تین سنتیں ہیں پیدل چلنا ، غسل کرنا ، اور نکلنے سے قبل کھانا ) یہ سعید بن جبیر رحمہ اللہ کی کلام ہے ہوسکتا ہے انہوں نے بعض صحابہ کرام سے اخذ کی ہو ۔

امام نووی رحمہ اللہ تعالی نے نماز عید کے لیے غسل کرنے پر علماء کرام کا اتفاق ذکر کیا ہے  ۔

اور جس سبب کی بناپر جمعہ اوردوسرے اجتماعات کے لیے غسل کرنا مستحب ہے وہ سبب عید میں بھی موجود ہے اور ہوسکتا ہے کہ عید میں زيادہ واضح ہو ۔

عید کے لیے نکلنے سے قبل کھانا :

یہ بھی آداب میں شامل ہے کہ نماز عیدالفطر کے لیے نکلنے سے قبل کچھ کھجوریں کھالی جائيں ،کیونکہ امام بخاری رحمہ اللہ تعالی نے انس بن مالک رضي اللہ تعالی عنہما سے بیان کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عیدالفطر کے دن نماز کے لیے کچھ کھجوریں  کھانے سے قبل نہيں نکلتے تھے ، آپ طاق کھجوریں کھاتے تھے ۔  صحیح بخاری حدیث نمبر ( 953  ) ۔

نماز عید سے قبل کھانا اس دن میں روزے رکھنے کی نہی مبالغہ کے لیے مستحب کیا گيا ہے اوراس میں افطار کرنے اورانتہائے صیام کی علامت ہے ، حافظ ابن حجر رحمہ اللہ تعالی نے یہ علت بیان کی ہے کہ یہ روزے میں زيادتی کا سد ذریعہ کے لیے ہے ، اوراس میں اللہ تعالی کے حکم پر عمل بھی ہے ۔ دیکھیں فتح الباری  ( 2 / 446 )

اورجو شخص کھجوریں نہ پائے تو اسے کوئي بھی مباح چيز کھالینی چاہیے ۔

لیکن عیدالاضحی میں مستحب اورسنت یہ ہےکہ وہ نماز عید سے قبل کچھ نہ کھائے بلکہ قربانی کرکے اس میں سے کچھ کھائے ۔

عید کے دن تکبیریں کہنا :

عید والے دن تکبیریں کہنا ایک عظيم سنت ہے کیونکہ اللہ تعالی کا فرمان ہے :

{ اورتاکہ تم گنتی مکمل کرو اوراللہ تعالی کی دی ہوئي ھدایت پر اس کی بڑائیاں بیان کرو اوراس کا شکر ادا کرو } ۔

اورولید بن مسلم رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں : میں نے امام اوزاعی اورمالک بن انس رحمہم اللہ تعالی سے عیدین میں تکبیریں اونچی آواز میں کہنے کے بارہ میں پوچھا توان کا جواب تھا : جی ہاں عبداللہ بن عمر رضي اللہ تعالی بھی امام کے نکلنے تک اونچی آواز میں تکبیريں کہتے تھے ۔

اورابو عبدالرحمن بن سلمی سے صحیح ثابت ہے کہ انہوں نے کہا : ( عیدالفطر میں عیدالاضحی کی بنسبت زيادہ شدید تھے ) وکیع رحمہ اللہ تعالی کہتے کہ یعنی وہ تکبیریں کہنے میں  ۔دیکھیں ارواء الغلیل ( 3 / 122 ) ۔

اوردار قطنی وغیرہ نے روایت کی ہے کہ ابن عمررضي اللہ تعالی عنہما جب عیدالفطر اورعیدالاضحی کے دن نماز کے لیے نکلتے تو عیدگاہ جانے تک تکبیریں کہنے کی کوشش میں مصروف رہتے اورپھر وہاں بھی امام کے آنے تک تکبریں کہتے رہتے تھے  ۔

اورابن ابی شیبہ رحمہ اللہ تعالی نے امام زھری سے صحیح سند کےساتھ بیان کیا ہے کہ انہوں نے کہا : لوگ جب اپنے گھروں سے نکلتے توعیدگاہ تک تکبریں کہا کرتے تھے اوروہاں بھی امام کے آنے تک تکبیریں کہتے رہتے اورجب امام آجاتا تو وہ خاموش ہوجاتے اورجب امام تکبیر کہتا تولوگ بھی تکبیر کہتے تھے ۔ دیکھین ارواء الغلیل  ( 2 / 121 ) ۔

سلف صالحین کے ہاں گھروں سے نکلنے اورعیدگاہ پہنچ کربھی امام کے آنے تکبریں کہنا معروف و مشہور بات تھی اوربہت سی کتابوں کے مصنفوں نے اسے سلف رحمہم اللہ سے نقل بھی کیا ہے مثلا ابن ابی شیبہ ، اورعبدالرزاق ، اورامام فریابی نے اپنی کتاب " احکام العیدین " میں بھی  نقل کیاہے ۔

ان میں سے نافع بن جبیر رحمہ اللہ تعالی تکبریں کہا کرتے تھے اور لوگوں کے تکبیريں نہ کہنے پر تعجب کا اظہار کرتے  اورکہتے تھے تم تکبیر یں کیوں نہیں کہتے  ۔

اورابن شھاب الزھری رحمہ اللہ تعالی کہا کرتے تھے : لوگ جب اپنے گھروں سے نکلتے توامام کے آنے تک تکبیریں کہتے رہتے تھے ۔

عیدالفطر میں تکبیروں کا وقت چاند رات سے لیکر نماز عید کے لیے امام کے آنے تک رہتا ہے ۔

تکبیر کے الفاظ اورطریقہ :

مصنف ابن ابی شیبہ میں ابن مسعود رضي اللہ تعالی عنہما سے صحیح سند کے ساتھ وارد ہے کہ :

ابن مسعود رضي اللہ تعالی عنہماایام تشریق میں تکبریں کہا کرتے تھے  اور کہتے :

الله أكبر الله أكبر لا إله إلا الله والله أكبر الله أكبر ولله الحمد

اللہ بہت بڑا ہے اللہ بہت بڑا ہے ، اللہ کے علاوہ کوئي معبود برحق نہيں ، اللہ بہت بڑا ہے اللہ ہی کی حمد وثنا ہے ۔

اورابن ابی شیبہ نے یہ روایت ایک جگہ اسی سند سے تکبیر کے الفاظ تین بار نقل کیے ہیں ۔

اورمحاملی نے بھی صحیح سند کےساتھ ابن مسعود رضي اللہ تعالی عنہما سے بیان کیا ہے :

الله أكبر كبيراً الله أكبر كبيراً الله أكبر وأجلّ ، الله أكبر ولله الحمد

اللہ تعالی بہت ہی بڑا ہے اللہ تعالی بہت ہی بڑا ہے ، اللہ بڑا اوراجل ہے اللہ بڑا ہے اوراللہ ہی کی حمد وثنا ہے ۔ دیکھیں الارواء الغلیل ( 3 / 126 ) ۔

عیدکی مبارکباد :

عید کے آداب میں مبارکباد بھی شامل ہے ، اورلوگ آپس میں ایک دوسرے کو اس کی مبارکباد دیتے ہیں اس کے الفاظ جو بھی ہوں مثلاکچھ لوگ تو یہ کہتے ہیں اللہ ہمارے اورآپ کے اعمال قبول فرمائے ، یا کچھ عیدمبارک کے الفاظ بولتے ہیں ، اوراس طرح کے دوسرے الفاظ جو مبارکباد کے لیے مباح ہوں بولے جاسکتے ہیں ۔

جبیر بن نفیر بیان کرتے ہیں کہ : جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک دوسرے سے ملاقات کرتے تو ایک دوسرے سے کہتے اللہ تعالی ہمارے اورآپ کے اعمال قبول فرمائے ۔ اس کی سند حسن ہے دیکھیں فتح الباری ( 2 / 446  )

لھذا صحابہ کرام کے ہاں مبارکبادی معروف تھی اوراہل علم نے بھی اس کی اجازت دی ہے اس میں امام احمد وغیرہ بھی شامل ہیں ، اورروایات ایسی بھی ہیں جوتہواروں پرمبارکبادی کی مشروعیت پر دلالت کرتی ہیں اورصحابہ کرام کاخوشی کے موقع پر ایک دوسرے کو مبارکباد دینا بھی وارد ہے مثلا کسی کی توبہ قبول ہوتی توصحابہ کرام اسے مبارکباد دیتے تھے ۔

اس میں کوئي شک وشبہ نہيں کہ مبارکباد دینا مکارم اخلاق  اورمسلمانوں کے مابین اجتماعی محاسن کی مظہر ہے  ۔

اور مبارکباد کے موضوع میں کم از کم یہ ہے کہ جوآپ کو عید کی مبارکباد دے اسے آپ بھی مبارک دیں یعنی جوعید مبارک کہے آپ بھی اسے عیدمبارک کہیں ، اوراگر وہ خاموشی اختیار کرتا ہے تو آپ بھی خاموش رہیں جیسا کہ امام احمد رحمہ اللہ کہتے ہيں : اگرمجھے کوئي مبارکباد دے تومیں اسے جواب میں مبارکباد دوں گا اوراگر نہ دے تو میں خود اس کی ابتداء نہيں کرونگا ۔

عیدین کےلیے خوبصورتی اورتزیین کرنا :

عبداللہ بن عمر رضي اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں کہ عمررضي اللہ تعالی عنہ نے بازار میں ایک ریشمی جبہ بکتا دیکھا تو اسے لیکر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اورکہنے لگے : اے اللہ تعالی کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اسے خرید لیں اورعید اوروفود کی ملاقات کے وقت پہنا کریں ، تورسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا یہ اس کا لباس ہے جس کاکوئي حصہ نہ ہو ۔۔۔ صحیح بخاری حدیث نمبر ( 948  ) ۔

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خوبصورتی اورتجمل اختیار کرنے کو کا اقرار کیا لیکن انکار صرف اس جبہ کو خریدنے پر کیا تھا اس لیے کہ یہ ریشمی تھا ۔

اورجابر رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ :  رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک جبہ تھا آپ وہ جبہ عیدین اورجمعہ کے دن زيب تن کیا کرتے تھے ۔ دیکھیں صحیح ابن خزیمۃ حدیث نمبر ( 1765 ) ۔

اورامام بیہقی رحمہ اللہ تعالی نے صحیح سند کے ساتھ بیان کیا ہے کہ ابن عمر رضي اللہ تعالی عنہماعید کے لیے سب سے زيادہ خوبصورت لباس زيب تن کیا کرتے تھے  ۔

اس لیے انسان کو چاہیے کہ عید کے موقع پر اپنے پاس موجود سب سے خوبصورت لباس زيب تن کرے ۔

لیکن عورتوں کو نماز عید کے لیےجاتے وقت زيب وزینت اورخوبصورتی اختیار نہیں کرنی چاہیے اس لیے کہ انہيں اجنبی مردوں کے سامنے اس کے اظہار سے روکا گيا ہے ، اوراسی طرح گھر سے باہر جانے والی عورت کے لیے خوشبو لگانا بھی حرام ہے  ۔

یا پھر وہ پرفتن ہوکر مردوں کے سامنے آئے کیونکہ وہ تو صرف عبادت اوراطاعت کرنے نکلی ہے ، کیا آپ یہ مان سکتے ہیں کہ کسی بھی مومنہ عورت سے جواطاعت کرنے نکلی ہو معصیت کا ارتکاب ہو اور اللہ کے احکام کی مخالفت کرتے  ہوئے تنگ اورچست قسم کا لباس زيب تن کرے یا پھر ایسے بھڑکیلے رنگ کا لباس پہنے جوجاذب نظر ہو یا نظروں کو اپنی طرف مبذول کروانے والا ہو یا پھرخوشبو لگائے ۔

عید کا خطبہ سننے کا حکم :

ابن قدامہ رحمہ اللہ تعالی نے اپنی کتاب " الکافی " میں کہا ہے :

جب نماز عید سے سلام پھیرے تو خطبہ جمعہ کی طرح دو خطبے دے ، اس لیے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی ایسا ہی کیا کرتے تھے ، اورخطبہ جمعہ میں چاراشیاء کا فرق ہے ۔۔۔ پھر کہا کہ :

چوتھا : یہ دونوں ( یعنی عید کے خطبے ) سنت ہیں ان کا سننا واجب نہيں اورنہ ہی ان میں خاموشی شرط ہے ، اس لیے کہ عبداللہ بن سائب رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز عید میں حاضر ہوا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب نماز مکمل کرلی تو فرمانے لگے :

ہم خطبہ دینے لگے ہيں جو سنناچاہے وہ بیٹھ جائے اورجوجانا چاہتا ہے وہ چلا جائے ۔  دیکھیں : الکافی  صفحہ نمبر ( 234 ) ۔

اورامام نووی رحمہ اللہ تعالی اپنی کتاب شرح المھذب کی شرح المجموع صفحہ نمبر23 میں کہتے ہیں :

لوگوں کے لیے خطبہ سننا مستحب ہے ، نمازعید کی صحت کےلیے خطبہ سننا شرط نہيں ، لیکن امام شافعی رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں : اگر کسی نے عید یا چاند گرہن اورنماز استسقاء یا حج کا خطبہ نہ سنا یا اس میں بات چیت کی یا پھر اسے چھوڑ کر ہی چلا گيا تومیں اسے مکروہ سمجھتا ہوں اوراس پر اعادہ نہيں ہے ۔

اورشرح الممتع میں شیخ ابن ‏عثیمین رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں :

قولہ : { جمعہ کے دونوں خطبوں کی طرح  } یعنی وہ دو خطبے دے اس میں جواختلاف تھا وہ ابھی ہم بیان کرکے آئيں ہيں ، مثلا جمعہ کے خطبے احکام میں حتی کہ بات چیت کی حرمت میں بھی مختلف ہیں ، اورنہ ہی اس میں حاضر ہونا واجب ہے ، لھذا خطبہ جمعہ میں حاضر ہونا واجب ہے کیونکہ اللہ تعالی کا فرمان ہے :

{ اے ایمان والو جب نماز جمعہ کی اذان ہوجائے تو اللہ تعالی کے ذکرکی طرف چلے آؤ اورخرید وفروخت ترک کردو } ۔

لیکن عید کے خطبے میں حاضر ہونا واجب نہيں ہے ، بلکہ انسان اگر چاہے تو اسے وہاں سے جانے کی اجازت ہے ، لیکن اگر وہ وہاں موجود رہے تو پھر اس پر واجب ہے کہ وہ کسی سے بھی بات چیت نہ کرے اورمصنف رحمہ اللہ کا قول  ( جمعہ کے خطبے کی طرح  ) میں اسی طرف اشارہ ہے ۔

دیکھیں الشرح الممتع علی زاد المستقنع ( 5 / 192 ) ۔

اوربعض اہل علم کاکہنا ہے کہ عید کے خطبوں میں خاموشی واجب نہیں ہے ، اس لیے کہ اگر خاموشی واجب ہوتی توپھر حاضر ہونا بھی واجب ہوتا اوروہاں سے جانا حرام ، لھذا جس طرح خطبے سے جانا جائز ہے تو پھر سننا بھی واجب نہیں ہوگا ۔

لیکن اس قول کی بنا پر یہ ہے کہ اکر کلام سے حاضرین کو تنگی اورتشویش ہوتی توتشویش کی وجہ سے کلام ہوتی نہ کہ سننے کی بنا پر ، تواس بنا پر نماز عید کے خطبے میں اگر کسی کے پاس کوئی کتاب ہو تو وہ اسے پڑھ سکتا اور اس کامطالعہ کرنا جائز ہے ، اس لیے کہ اس سے حاضرین کوکوئي تشویش اورتنگی نہيں ہوتی ۔.

تاثرات بھیجیں