Thu 24 Jm2 1435 - 24 April 2014
10174

کرم اللہ وجہہ کا علی بن ابی طالب رضي اللہ تعالی عنہ پراطلاق

مجھے یہ علم ہے کہ امیرالمومنین علی بن ابی طالب رضي اللہ تعالی عنہ بڑے بڑے صحابہ میں سے ایک اورچوتھے خلیفہ تھے اوروہ کبھی کسی بت کے سامنے سجدہ ریزنہیں ہوۓ تواسی لیے ہم ان کے نام کے ساتھ کرم اللہ وجہہ کہتے ہیں ۔
توسوال یہ ہے کہ علی بن ابی طالب رضي اللہ تعالی عنہ کے لیے کرم اللہ وجہہ سب سے پہلے کس نے استعمال کیا ؟

الحمد للہ
ظاہر ہے کہ علی بن ابی طالب رضي اللہ تعالی عنہ کے لیے کرم اللہ وجہہ کا لفظ سب سے پہلے شیعہ نے ہی استعمال کیا ، اورپھر بعض کاتبوں نے بھی جو کہ شیعہ طرفداراور اکثر جاھل قسم کے کاتبوں نے بھی یہ لکھنا شروع کیا ۔

1 - امام ابن کثیر رحمہ اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں :

میں کہتا ہوں : بہت سارے ناسخ اورکاتب باقی صحابہ کرام کوچھوڑ کر صرف علی بن ابی طالب رضي اللہ تعالی عنہ کےلیے کرم اللہ وجہہ کا کلمہ لگاتے ہيں ، یا پھر ان کے لیے علیہ السلام کہتے ہیں ، تو اگرچہ اس کا معنی صحیح ہے لیکن یا ضروری اورواجب ہے کہ اس میں سب صحابہ کے درمیان برابری کرنی چاہیے اس لیے کہ یہ تعظیم و تکریم کے لیے ہے تو شیخان ابوبکر اورعمررضي اللہ تعالی عنہما اس کے زيادہ حق دار ہیں ۔ دیکھیں تفسیر ابن کثیر ( 3/ 517 ) ۔

2 - لجنۃ دائمہ ( مستقل اسلامی ریسریچ کمیٹی ) کا کہنا ہے :

علی بن ابی طالب رضي اللہ تعالی عنہ کوکرم اللہ وجہہ کے ساتھ خاص کرنا شیعہ حضرات کا علی رضي اللہ تعالی عنہ میں غلو ہے ، اوریہ کہا جاتا ہے کہ یہ کلمہ اس لیے کہتے ہیں کہ انہوں نے نہ توکبھی کسی بت کوسجدہ کیا اورنہ ہی کبھی کسی کی شرمگاہ ہی دیکھی ہے ۔

تویہ چيزصرف علی رضی اللہ تعالی عنہ کی ساتھ خاص نہیں بلکہ اس میں تووہ صحابہ جواسلام میں پیداہوۓ بھی شریک ہیں ۔

واللہ اعلم .

الشیخ محمد صالح المنجد
Create Comments