Thu 24 Jm2 1435 - 24 April 2014
106526

نماز تراويح ميں بوڑھے اور كمزور افراد كى خيال كرنا

كيا نماز تراويح ميں امام كو بوڑھے اور كمزور وغيرہ افراد كا خيال كرنا چاہيے ؟

الحمد للہ:

" يہ چيز تو سب نمازوں ميں مطلوب ہے، چاہے نماز تراويح ہوں يا پھر نماز پنجگانہ امام كو كمزور و بوڑھے افراد كا خيال كرنا چاہيے كيونكہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" تم ميں سے جو كوئى بھى لوگوں كى امامت كرائے تو وہ ہلكى نماز كرائے كيونكہ ان ميں كمزور اور چھوٹے اور ضرورتمند بھى ہوتے ہيں "

اس ليے امام كو مقتديوں كا خيال كرنا چاہيے، وہ رمضان كے قيام ميں ان سے نرمى كرے، اور پھر آخرى عشرہ ميں بھى خيال كرنا چاہيے، كيونكہ سب لوگ برابر تو نہيں بلكہ مختلف ہوتے ہيں، اس ليے ان كے حالات كا امام كو خيال كرنا چاہيے، اور انہيں مسجد ميں آنے كى ترغيب دلانى چاہيے وہ مسجد ميں حاضر ہوں.

كيونكہ جب وہ طويل نماز پڑھائےگا تو لوگوں پر مشقت ہوگى اور يہ چيز انہيں مسجد ميں آنے سے متنفر كرےگى، اس ليے اسے ايسي چيز كا خيال كرنا چاہيے جو انہيں مسجد ميں آنے پر ابھارے اور نماز كى ترغيب دلائے، چاہے وہ مختصر ہى نماز ادا كرے اور لمبى نہ كرے.

لہذا ايسى نماز جو لوگوں كے ليے خشوع و خضوع اور اطمنان كا باعث ہو چاہے وہ تھوڑى ہى ہو ايسى نماز سے بہتر اور اچھى ہے جس ميں خشوع و خضوع نہ پايا جائے اور جس ميں لوگ اكتاہٹ و سستى كا شكار ہو جائيں " انتہى .

ديكھيں: مجموع فتاوى الشيخ عبد العزيز بن باز رحمہ اللہ ( 11 / 336 ).
Create Comments