113939: کیا ماہِ شعبان میں اموات کی شرح زیادہ ہوتی ہے؟


کیا کوئی ایسی نصوص ہیں جس میں ماہِ شعبان میں اموات کی شرح زیادہ ہونے کا ذکر ہو؟

الحمد للہ:

کچھ آثار میں یہ بات ملتی ہے کہ اس مہینے میں آئندہ سال میں ہونے والی اموات کے ناموں کی فہرست ملک الموت کو دی جاتی ہے، اور اللہ کی طرف سے کچھ صحیفوں میں انکے نام دئیے جاتے ہیں، یا پھر لوگوں کی عمر کیلئے سالانہ اندازہ شعبان میں لکھا جاتا ہے، چنانچہ ان آثار میں اس بات کا ذکر ہے کہ موت کا وقت اس ماہ میں مقرر کیا جاتا ہے۔

لیکن یہ سب کے سب آثار اور احادیث ضعیف ہیں، اس لئے ان پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا۔

قاضی ابو بکر ابن العربی رحمہ اللہ کہتے ہیں:

"نصف شعبان کی رات کے فضائل میں، یا اس رات موت کے اوقات مقرر کرنے کے بارے میں کوئی حدیث نہیں ہے، اس لئے ان باتوں کی طرف توجہ بھی نہیں دینی چاہئے"انتہی

"أحكام القرآن" (4/117)

پہلے بھی اس بات کا بیان گزر چکا ہے، اور اس بارے میں اہل علم کی گفتگو تفصیل سے سوال نمبر: (8907) ، (49675) ، (49678) میں گزر چکی ہے۔

یہاں ہم کچھ آثار مختصر تعلیق کیساتھ فائدے کیلئے ذکرکرتے ہیں جنہیں سیوطی رحمہ اللہ نے شعبان میں موت کے متعلق اپنی کتاب: "الدر المنثور" (7/401-402) میں ذکر کیا ہے:

سیوطی رحمہ اللہ کہتے ہیں:

" ابن جرير طبری، ابن منذر ، اور ابن ابی حاتم نے بسند "محمد بن سوقة عن عكرمة " سے نقل کیا ہے کہ: فرمانِ باری تعالی: (فيها يفرق كل أمر حكيم) ترجمہ: "اس رات میں ہر حکمت بھرے معاملے کا فیصلہ کیا جاتا ہے" مذکورہ رات سے مراد نصف شعبان کی رات ہے، جس میں سالانہ امور کا فیصلہ کیا جاتا ہے، زندگی اور موت پانے والے افراد لکھے جاتے ہیں، اسی طرح سعادتِ حج پانے والے بھی لکھے جاتے ہیں، اسکے بعد انکی تعداد میں بالکل بھی کمی بیشی نہیں کی جاتی"

یہ بات جمہور سلف مفسرین کی بات سے ٹکراتی ہے، کیونکہ انکا کہنا ہے کہ اس رات سے مراد لیلۃ القدر ہے، اور اس بات کا بیان سوال نمبر (11722) کے جواب میں پہلے گزر چکا ہے۔

ابن زنجویہ ، اور دیلمی نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ایک روایت بیان کی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (شعبان سے شعبان تک لوگوں کی زندگیوں کا فیصلہ کیا جاتا ہے، حتی کہ ایک آدمی کو اس دوران شادی کے بعد اولاد نصیب ہوتی ہے، لیکن اسکا نام مرنے والوں میں لکھ دیا گیا ہوتا ہے)

اس روایت کو شوکانی رحمہ اللہ نے "فتح القدير" (4/801) میں ضعیف قرار دیا ہے، اور البانی نے "السلسلة الضعيفة" (رقم/6607) میں اسے "منكر" قرار دیا ہے۔

اسی طرح ابن ابی شیبہ نے عطاء بن یسار سے نقل کیا ہے کہ : آپ صلی اللہ علیہ وسلم شعبان سے بڑھ کر کسی بھی مہینے میں روزے نہیں رکھتے تھے، اسکی وجہ یہ تھی کہ اس ماہ میں آئندہ پورے سال میں ہونے والی لوگوں کی اموات کا وقت لکھا جاتا ہے۔

یہ حدیث بھی مرسل ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے۔

ایسے ہی ابو یعلی نے عائشہ رضی اللہ عنہا نے روایت کی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکمل شعبان کے روزے رکھا کرتے تھے میں نے آپ سے دریافت کیا تو فرمایا: (بیشک اللہ تعالی اس ماہ میں آئندہ سال مرنے والے ہر شخص کا نام درج فرماتا ہے، تو میں یہ پسند کرتا ہوں کہ میری موت روزے کی حالت میں آئے)

اسے ابو یعلی نے اپنی کتاب "المسند" (8/311) میں روایت کیا ہے اور اسکی سند میں سويد بن سعيد الحدثانی ، مسلم بن خالد الزنجی ،ا ور طريف نامی روای ہیں جو سب کے سب ضعیف ہیں۔

ایسے ہی دینوری نے اپنی کتاب " المجالسۃ" میں راشد بن سعد سے روایت کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (نصف شعبان کی رات کو اللہ تعالی ملک الموت کی طرف اس سال قبض کی جانے والی روحوں کے بارے میں وحی فرماتا ہے)

"المجالسة وجواهر العلم" صفحہ (206) ،یہ روایت بھی مرسل ہے، اور البانی نے اسے "ضعيف الجامع" (4019) میں ضعیف کہا ہے۔

اسی طرح ابن جریر اور بیہقی نے "شعب الایمان" میں زہری عن عثمان بن محمد بن مغيرة بن الاخنس سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (شعبان سے شعبان تک لوگوں کی زندگیوں کا فیصلہ کیا جاتا ہے، حتی کہ ایک آدمی کو اس دوران شادی کے بعد اولاد نصیب ہوتی ہے، لیکن اسکا نام مرنے والوں میں لکھ دیا گیا ہوتا ہے)

شیخ البانی "السلسلة الضعيفة" ( 6607) میں اس کے بارے میں کہتے ہیں: یہ روایت منکر ہے۔

ایک روایت ابن ابی الدنیا نے عطاء بن یسار سے نقل کی ہے وہ کہتے ہیں: "نصف شعبان کی رات کو ملک الموت کی طرف ایک صحیفہ سپرد کیا جاتا ہے ، اور کہا جاتا ہے: جن کے نام اس صحیفے میں ہیں انکی روحوں کو قبض کرلو، چنانچہ ایک بندہ نرم گرم بستر تیار کرکے شادیاں رچاتا ہے، اور مکانوں کی تعمیر میں مصروف ہوتا ہے لیکن اسکا نام مُردوں میں لکھ دیا گیا ہے "

یہ اثر عطاء کا اپنا قول ہے، اسکی کوئی سند ہے ہی نہیں۔

خطیب، اور ابن نجار نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے ایک روایت نقل کی ہے کہ: آپ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان تک پورے شعبان کے روزے رکھتے تھے، آپ شعبان کے علاوہ کسی بھی پورے مہینے کے روزے نہیں رکھتے تھے، تو میں نے دریافت کیا: اللہ کے رسول! ماہِ شعبان آپکے نزدیک محبوب ترین مہینہ ہے اسی لئے آپ اس میں روزے رکھتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: (ہاں !عائشہ ایسے ہی ہے، اسکی وجہ یہ ہے کہ شعبان میں آئندہ سال کے دوران مرنے والے تمام لوگوں کی موت لکھ دی جاتی ہے، اور مجھے پسند ہے کہ میری موت عبادتِ الہی، اور عملِ صالح کے دوران لکھی جائے)

جبکہ ابن نجار کے ہاں اس حدیث کے الفاظ کچھ یوں ہیں: (اے عائشہ! اس ماہ میں ملک الموت مرنے والوں کے نام تحریر کرلیتا ہے، اور میری چاہت ہے کہ میرا نام جب لکھا جائے تو میں روزے کی حالت میں ہوں)

اس روایت کو خطیب بغدادی نے "تاريخ بغداد" (4/436) میں ذکر کیا ہے، اور اسکی سند میں ابو بلال اشعری ہے جسے دارقطنی نے ضعیف قرار دیا ہے، جیسے کہ "ميزان الاعتدال" (4/507) میں ہے، اسی طرح اسکی سند میں احمد بن محمد بن حمید المخضوب، ابو جعفر المقری ہے، جس کے بارے میں دارقطنی کہتے ہیں: " ليس بالقوی" چنانچہ حدیث ضعیف جدا ہے۔

خلاصہ کلام یہ ہے کہ:

شعبان میں کثرت موت کے بارے میں کوئی حدیث ثابت نہیں ہے۔

واللہ اعلم .

اسلام سوال و جواب
Create Comments