145564: کیا کھجور اور پنیر کی شکل میں فطرانہ ایسے لوگوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے جو انہیں بنیادی غذا کے طور پر استعمال نہیں کرتے؟


سوال: کیا کھجور اور پنیر کو فطرانہ کے طور پر دیا جاسکتا ہے؟ حالانکہ اکثر ممالک میں انہیں بنیادی غذا شمار نہیں کیا جاتا۔

الحمد للہ:

فطرانہ کیلئے علاقائی بنیادی غذا ہی دی جاسکتی ہے، چنانچہ اگر کسی علاقے میں بنیادی غذا کھجور، پنیر، یا کشمش ہو تو ان سے فطرانہ دینا جائز ہوگا، اور جو چیز بنیادی غذا شمار نہ ہو اس سے فطرانہ ادا نہیں ہوگا، اس بات پر ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کا قول دلیل ہے، آپ کہتے ہیں:

"ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں عید کے دن [فطرانے کیلئے ]کھانے کا ایک صاع دیتے تھے، اور ہمارا کھاناجو، کشمش، پنیر، اور کھجوروں پر مشتمل ہوتا تھا" بخاری : (1510) اور مسلم: (985)

صحابہ کرام نے ان اشیاء سے فطرانہ اس لئے دیا کہ انکا کھانا اسوقت یہی تھا۔

نووی رحمہ اللہ کہتے ہیں:

"ہمارے نزدیک عام علاقائی بنیادی خوراک سے فطرانہ دینا ہی صحیح ترین موقف ہے، اسی کے امام مالک قائل ہیں، اور ابو حنیفہ کہتے ہیں کہ: فطرانہ دینے والے کو اختیار ہے[یعنی کچھ بھی دے سکتاہے] اور احمد سے ایک روایت ہے کہ : فطرانہ حدیث میں مذکور پانچ اشیاء دینے سے ہی ادا ہوگا، اور وہ یہ ہیں: کھجور، کشمش، گندم، جو، اور پنیر "انتہی

"المجموع"(6/112)

الباجی رحمہ اللہ "شرح الموطأ" میں کہتے ہیں کہ :

"فطرانے کیلئے صاع کس چیز سے دینا ہے؟ ابن القاسم ، مالک سے بیان کرتے ہیں کہ: عام علاقائی خوراک سے دینا ہے، اسی کے امام شافعی کے شاگرد ابو علی بن ابو ہریرہ قائل ہیں"انتہی

اور "الموسوعة الفقهية" (23/343) میں ہے کہ:

"۔۔۔ مالکی فقہاء کا کہنا ہے کہ: عام علاقائی خوراک سے ہی فطرانہ دیا جائے گا، جیسے کہ دالیں، چاول، لوبیا، گندم، جو، سُلت[جو کی ایک قسم ]، کھجور، پنیر، اور باجرہ، انکے علاوہ اشیاء سے فطرانہ ادا نہ ہوگا، الّا کہ لوگ مذکورہ اشیاء چھوڑ کر کسی اور چیز کو اپنی بنیادی خوراک بنا لیں"انتہی

اسی قول کو شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے اختیار کیا ہے، جیسے کہ "الفتاوى الكبرى" (2/157) میں ہے۔

شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ سے جو کے ذریعے فطرانہ ادا کرنے کے بارے میں پوچھا گیا کہ ہم نے آپ سے سنا ہے کہ "ظاہر یہی ہے کہ جو سے فطرانہ ادا نہیں ہوگا" برائے مہربانی ہم اسکی وضاحت چاہتے ہیں۔

تو انہوں نے جواب دیا:

"آپکا کہنا ہے کہ آپ نے ہم سے یہ سنا ہے کہ: "ظاہر یہی ہے کہ فطرانے کیلئے جو دینے سے فطرانہ ادا نہیں ہوگا"، ہمارا یہ موقف ایسے معاشرے کیلئے تھا جنکی بنیادی خوراک جو نہیں ہے؛ کیونکہ فطرانہ واجب کرنے کی حکمت ہی یہی ہے کہ یہ مساکین کیلئے کھانا ہے، اور یہ حکمت اسی وقت پوری ہوگی جب [فطرانے کیلئے دی جانے والی غذا] لوگوں کی بنیادی غذا ہو، اور عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث میں کھجور ، اور جو کی تعیین کسی خاص وجہ سے نہیں ہے؛ بلکہ تعیین اس لئے کی گئی ہے کہ اس وقت لوگوں کی عموما بنیادی غذا انہی پر مشتمل تھی؛ اسکی دلیل امام بخاری کی "باب : عید سے قبل صدقہ "میں روایت کردہ حدیث ہے، جسے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ: " ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں عید کے دن [فطرانے کیلئے ]کھانے کا ایک صاع دیتے تھے"، ابو سعید کہتے ہیں کہ: "اور ہمارا کھاناجو، کشمش، پنیر، اور کھجوروں پر مشتمل ہوتا تھا " انتہی

"مجموع الفتاوى"(18/282)

چنانچہ مسلمان کیلئے ضروری ہے کہ فطرانہ اسی چیز سے ادا کرے جو کسی علاقے کی بنیادی غذا شمار کی جائے، تاکہ فطرانے کی حکمت حاصل ہوسکے، اور وہ یہ ہے کہ: فقراء کو عید کے دن مانگنے کا موقع ہی نہ دیا جائے۔

واللہ اعلم .

اسلام سوال وجواب
Create Comments