Wed 16 Jm2 1435 - 16 April 2014
145676

کفار کے تہوار کرسمس وغیرہ میں پیش کی جانی والی رعائتی قیمتوں پر کپڑوں وغیرہ کی خریداری کرنے کا کیا حکم ہے؟

سوال: آسٹریلیا میں کپڑوں، گھریلو سامان، اور الیکٹرانکس وغیرہ دیگر اشیاء پر کافی بڑی بڑی آفریں آتی ہے، تو کیا میرے لئے یہ جائز ہے کہ میں ان آفروں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے خریداری کروں؟ یہ آفر سال میں انہی دنوں میں دی جاتی ہے۔

الحمد للہ:

کپڑے، گھریلو سامان وغیرہ کی خریداری کفار کے تہوار کرسمس وغیرہ میں کی جاسکتی ہے، اس میں کوئی حرج نہیں، شرط یہ ہے کہ انسان ایسی کسی چیز کی اِن دنوں میں خریداری نہ کرے جو اُن کےتہوار کیلئے معاون ثابت ہوں۔

پہلے بھی ایک سوال نمبر (69558)کے جواب میں گزر چکا ہے کہ کفار کے تہواروں میں مسلمانوں کیلئے دکانداری جائز ہے، اسکی دو شرائط ہیں:

اول: اُنہیں ایسی اشیاء فروخت نہ کرے جنہیں وہ گناہ کیلئے استعمال کریں، یا تہوار میں ان کیلئے معاون ثابت ہو۔

دوم: اور مسلمانوں کو ایسی اشیاء فروخت نہ کرے جن سے وہ کفار کی مشابہت کر پائیں۔

جبکہ انسان کیلئے ضروری سامان کی خریداری دکانداری کرنے سے کہیں آسان ہے، اور خریداری کیلئے اصل جواز ہے، چنانچہ انکے تہوار کے موقع پر اس میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔

واللہ اعلم .

اسلام سوال وجواب
Create Comments