166680: كيا بچے پيدا نہ كرنے پر اتفاق كيا جا سكتا ہے يا پھر عقد نكاح ميں ايسى شرط ركھى جا سكتى ہے ؟


كيا نكاح مسيار ميں بچے پيدا كرنے سے دستبردار ہونا ممكن ہے ؟

الحمد للہ:

اول:

سوال نمبر ( 85369 ) كے جواب ميں نكاح مسيار كا حكم بيان ہو چكا ہے، جس ميں بيان ہوا ہے كہ نكاح مسيار اس صورت ميں صحيح ہوگا جب اس ميں شرعى نكاح كى شروط اور اس كے اركان پائے جائيں اور موانع سے خالى ہو، ليكن اس نكاح مسيار ميں كئى ايك خرابياں پائى جانے كى بنا پر يہ نكاح مسيار خلاف اولى ہے، ان خرابيوں كا بھى ہم مندرجہ بالا سوال نمبر كے جواب ميں ذكر كر چكے ہيں.

دوم:

رہا مسئلہ خاوند اور بيوى كا اولاد پيدا نہ كرنے پر اتفاق كر لينا اگر يہ عارضى طور پر كچھ مدت كے ليے ہو تو حكم كچھ اور ہے، اور اگر مستقل طور پر اولاد پيدا نہ كرنے پر اتفاق كا حكم اور ہوگا جس كى تفصيل ذيل ميں بيان كى جاتى ہے:

پہلى حالت يعنى عارضى طور پر اولاد پيدا نہ كرنے پر اتفاق كرنے ميں كوئى حرج نہيں، اس كا تفصيلى بيان سوال نمبر ( 130395 ) كے جواب ميں گزر چكا ہے، آپ اس كا مطالعہ كر ليں.

اور دوسرى صورت يعنى مستقل طور پر ہميشہ كے ليے اولاد پيدا نہ كرنے پر اتفاق كر لينے كے حكم ميں اختلاف پايا جاتا ہے، كچھ علماء كرام تو جواز كے قائل ہيں، اور كچھ علماء كرام اس كى ممانعت اور حرام ہونے كے قائل ہيں.

اور اگر عقد نكاح ميں يہ شرط ركھى گئى ہو كہ اولاد پيدا نہيں كى جائيگى تو كچھ علماء كرام عقد نكاح كو ہى باطل قرار ديتے ہيں، ليكن كچھ علماء كرام عقد نكاح كو تو صحيح كہتے ہيں ليكن وہ اس شرط كو باطل كہتے ہيں، اور صحيح بھى يہى ہے.

يعنى دوسرا موقف صحيح ہے كہ عقد نكاح تو صحيح ہو گا ليكن يہ شرط باطل ہوگى، كيونكہ مكمل طور پر ہميشہ كے ليے اولاد پيدا نہ كرنا شريعت مطہرہ كے مخالف ہے كيونكہ شريعت اسلاميہ نے تو كثرت نسل كا حكم ديا اور اولاد پيدا كرنے كو نكاح كے مقاصد ميں شامل كيا ہے.

ليكن يہ شرط نكاح كو باطل نہيں كريگى بلكہ جب عقد نكاح ميں اولاد نہ پيدا كرنے كى شرط ركھى جائے تو يہ شرط باطل ہوگى اور نكاح صحيح ہوگا، اور طرفين ميں سے كسى كے ليے بھى يہ شرط پورى كرنا لازم نہيں.

شرف الدين الحجاوى رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" جب خاوند اور بيوى دونوں يا پھر دونوں ميں سے كوئى ايك نكاح يا مہر ميں اختيار كى شرط ركھے، يا وطئ نہ كرنے كى شرط يا پھر يہ شرط ركھے كہ اگر فلاں وقت مہر آيا تو ٹھيك وگرنہ ان كا نكاح نہيں ہے، يا پھر مہر نہ ہونے كى شرط ركھى جائے، يا نفقہ اور دوسرى بيوى سے كم يا زيادہ تقسيم كى شرط ركھى جائے، يا شرط ہو كہ اگر مہر دے تو واپس اسے مل جائےگا، يا عزل كى شرط ركھے تو يہ سب شرطيں باطل ہونگى اور نكاح صحيح ہوگا "

ديكھيں: الاقناع فى فقہ الامام احمد بن حنبل ( 3 / 193 ).

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments